جسٹس فائز عیسی کو اپنے ساتھی ججوں پر اعتماد کرنا چاہیے: شاہ محمود

’عدالت کا فورم موجود ہے جس کا نام سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔ چیف جسٹس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جسٹس عیسی کو اپنے ساتھی ججوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ آخرکار وہ اُن کے اپنے ہیں تو قانون کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے۔‘

 اگر بھارت یہ سوچتا ہے کہ پاکستان پیچھے دوڑے گا تو یہ خیال ذہن سے نکال دے، شاہ محمود قریشی (اے ایف پی)

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کے لیے جون کا اشارہ ملا تھا لیکن پاکستان میں بجٹ کی وجہ سے وزیر اعظم کا ملک  سے باہر جانا مشکل تھا۔

کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم میں شریک قریشی نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن اب نئی تاریخوں کے حوالے سے رابطے میں ہیں۔ 

تنظیم کا اجلاس پاکستان کے لیے اہم کیوں؟

قریشی کے مطابق یہ فورم امن، سکیورٹی اور استحکام کی بات کرتا ہے اور پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک اس میں شامل ہیں۔

’بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں پر سرمایہ کاری اور تجارت کی جا سکتی ہے پاکستان کے اس خطے میں مراسم تھے جس میں وقفہ آ گیا تھا جس کو ہم بحال کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا چین کے ساتھ تو پاکستان کے تعلقات ہیں ہی لیکن تنظیم کے باعث پاکستان کو روس کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کا موقع ملا ہے۔ 

وزیر خارجہ نے کہا اجلاس شروع ہونے سے قبل وزیراعظم عمران خان کی بھارتی ہم منصب کے ساتھ غیر رسمی ملاقات میں حال احوال پوچھا گیا اور حالیہ انتخابات پر بات چیت کی گئی۔ 

’پاکستان مذاکرات کے لیے بھارت سے بھیک نہیں مانگے گا‘

انہوں نے کہا پاکستان بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتا ہے اور پاکستان نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔

’دہشت گردی کا مسئلہ ہو یا رابطوں کا فقدان، سب کا حل مل بیٹھ کر ہی ہو گا لیکن پاکستان کو عجلت نہیں جب وہ تیار ہوں گے ہمیں تیار پائیں گے۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوئی معمولی ملک نہیں۔’آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان بھارت کے سامنے ہاتھ پھیلائے گا یا گھٹنے ٹیک دے گا؟‘

’ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ سفارتی آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل ضرور چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت یہ سوچتا ہے کہ پاکستان پیچھے دوڑے گا تو یہ خیال ذہن سے نکال دے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ نے جب سوال کیا کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ خوشگوار موڈ میں تصاویر تو آ گئیں لیکن دونوں کی باہمی باضابطہ ملاقات کیوں نہیں ہوئی؟

اس پر وزیر خارجہ نے جواب میں کہا یہ طے کیا گیا تھا کہ ظہرانے کے وقت وزیر اعظم عمران خان اور روسی صدر کی نشست ساتھ رکھی جائے گی اور مترجم بھی مہیا کیا جائیں تاکہ وہ بات چیت کر سکیں۔

’دونوں سربراہان مملکت نے ایک دوسرے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تمام اہم امور بشمول افغانستان، گلف اور مشرق وسطی کی کشیدگی، آپسی باہمی تعلقات بڑھانے پر بات چیت کی۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ طے پایا ہے کہ عنقریب چین میں ایک نشست کا انعقاد کیا جائے گا جس میں چین، روس، امریکہ، ایران، افغانستان اور پاکستان کے وزرا خارجہ شرکت کریں گے، جس میں افغانستان میں امن کے قیام پر بات چیت کی جائے گی۔

’پاکستان افغانستان کی مدد کر رہا ہے اور امن کے حصول کے لیے مجھے امید ہے افغان صدر اشرف غنی کا دورے کے دوران رویہ مثبت رہے گا۔‘ 

کیا پاک ۔ روس دوستی سے پاک ۔امریکہ تعلقات متاثر ہوں گے؟ تو اس پر وزیر خارجہ نے کہا ملکوں کے تعلقات ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ملک سے تعلقات بنانے کے لیے دوسرے ملک سے تعلقات خراب کیے جائیں۔ 

وزیر خارجہ نے خلیج میں آئل ٹینکر حملوں کے معاملے پر کہا کہ کسی کو بھی نئی لڑائی کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے کیوں کہ جب خلیج متاثر ہوتا ہے تو تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

’پاکستان ہر گز نہیں چاہتا کہ گلف میں کوئی نئی لڑائی ہو۔ تمام ممالک کو معاملات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔‘

پاکستان میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز  عیسی کے خلاف ریفرنس پر قریشی نے کہا کہ حکومت کسی جج کو نہیں ہٹا سکتی۔

’عدالت کا فورم موجود ہے جس کا نام سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔ چیف جسٹس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جسٹس عیسی کو اپنے ساتھی ججوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ آخرکار وہ اُن کے اپنے ہیں تو قانون کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست