’پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے آلودگی میں کمی آئے گی‘

رات گئے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تو اپنا ردعمل دینے کے لیے عوام نے سوشل میڈیا کا رخ کر لیا۔ اپنے تبصروں اور پوسٹس میں عوام نے طنز کم اور غصہ زیادہ ظاہر کیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 10 روپے 8 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب نئی قیمت 126 روپے 56 پیسے فی لیٹر ہوگی(اے ایف پی)

پاکستان میں منگل کی شب فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 12 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد  159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

جبکہ ڈیزل کی قیمت 9 روپے 53 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 154 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے آٹھ پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب نئی قیمت 126 روپے 56 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

لائٹ ڈیزل 9 روپے 43 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 123 روپے 97 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

نئی قیمتوں کا اطلاق منگل اور بدھ کی درمیانی شب 12 بجے سے ملک بھر میں ہو چکا ہے۔

خیال رہے اس سے قبل مقامی میڈیا میں ایسی خبریں بھی دیکھنے میں آئی تھیں جن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری کو مسترد کر دیا تھا تاہم نوٹیفکیشن میں پیٹرولیم مصنوعات میں واضح اضافہ کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ روز وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر کیے جانے والے سوال پر کہنا تھا کہ’اس وقت جو حالات ہیں ان میں ظاہر ہے اس کے علاوہ اور کیا چارہ ہو گا کہ آپ پیٹرول کی قیمت بڑھائیں گے۔‘

ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 93 اعشاریہ 28 ڈالر ہو چکی ہے۔

سوشل میڈیا پر طنز و غصے کا رجحان

رات گئے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تو اپنا ردعمل دینے کے لیے عوام نے سوشل میڈیا کا رخ کر لیا۔ اپنے تبصروں اور پوسٹس میں عوام نے طنز کم اور غصہ زیادہ ظاہر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بہت ساری پوسٹس اور ٹوئٹس بوجوہ شامل نہیں کر پا رہے ہیں لیکن چند حاضر ہیں۔

عدیل آصف نامی ٹوئٹر صارف نے تحریر کیا: ’پیٹرول کی قیمت 159 پہ ناٹ آؤٹ۔‘


ٹوئٹر صارف احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’پیٹرول کی قیمت دیکھ کر گاڑیاں بھی بے ہوش ہونے لگ گئی ہیں۔‘

انٹرنیٹ صارف راشد الطاف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ’پیٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، ایک مرتبہ پھر تمام اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ نیا پاکستان عوام کے لیے وبال جان بن گیا ہے۔‘

اُسید اکبر نامی ٹوئٹر صارف نے حکومت کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے لکھا: ’دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں اپنے حقائق درست کر لیں، ہر چیز میں بغیر سوچے حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا ضروری نہیں ہوتا۔‘

ٹوئٹر صارف فیضان نے تحریر کیا کہ ’پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے آلودگی میں کمی آئے گی۔ عمران خان ماہر ماحولیات ہیں اور ہمیشہ آگے کا سوچتے ہیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل