محمد مرسی: مصر کے سابق صدر عدالت میں انتقال کر گئے

مرسی مصر کے واحد منتخب صدر تھے۔ انہوں نے امریکہ سے سول انجینرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی اور جاسوسی کے مقدمے میں قید تھے۔

دریائے نیل کے ڈیلٹا کے علاقے میں پیدا ہونے والے سابق صدر محمد مرسی کو حسنی مبارک کے دور حکومت میں قید کیا گیا تھا (اے پی)

مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق سابق صدر اور اسلام پسند رہنما محمد مرسی کی عدالت میں دورانِ سماعت موت واقع ہو گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے علاوہ کسی اور نے 67 سالہ مرسی کے انتقال کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مرسی مصر کے واحد منتخب صدر تھے۔ انہوں نے امریکہ سے سول انجینرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی اور جاسوسی کے مقدمے میں قید تھے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران اخوان المسلمین کے سابق سربراہ پہلے بے ہوش ہو کر گر پڑے اور وہیں انتقال کر گئے۔

نیل نیوز ٹیلی وژن کے مطابق: ’مرسی کی لاش ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے جہاں ضروری کارروائی کا عمل جاری ہے۔‘

سابق صدر مرسی کی قید میں موت مشرقِ وسطیٰ میں پھیلے ہوئے اخوانِ المسلمین کے حامیوں میں غصے کی لہر دوڑا دے گی اور اس کے بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے۔

اخوان المسلمین دنیا کی سب سے پرانی اسلامی سیاسی تنظیم سمجھی جاتی ہے جبکہ قطر اور ترکی اس کے سب سے بڑے اتحادی تصور کیے جاتے ہیں۔

دریائے نیل کے ڈیلٹا کے علاقے میں پیدا ہونے والے سابق صدر محمد مرسی کو حسنی مبارک کے دور حکومت میں قید کیا گیا تھا لیکن مصر میں 2011 کی عرب سپرنگ تحریک کے دوران وہ جیل سے باہر آنے کے بعد حزب اختلاف کے مضبوط رہنما بن کر ابھرے۔

2012 کے انتخابات میں انہوں نے فوج کے حمائت یافتہ امیدوار کو بہت کم ووٹوں سے شکست دی تھی۔ لیکن 2013 کے انقلاب کے دوران انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں فوج نے جنرل عبدالفتح السیسی کی قیادت میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جنرل سیسی اس وقت مصر کے صدر ہیں۔

محمد مرسی کو قاہرہ کی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی طورہ جیل کے بدنام زمانہ حصے ’سکورپین‘ میں رکھا گیا جہاں ان کے ساتھ اخوان المسلمین کے دوسرے رہنما بھی قید تھے۔

گذشتہ برس برطانیہ کے ایک انسانی حقوق گروپ کی رپورٹ کے مطابق جیل میں محمد مرسی کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی تھی اور ’مناسب طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کے نتیجے میں ان کی قبل از وقت موت کا خطرہ‘ تھا۔ برطانوی گروپ نے محمد مرسی کے جیل میں حالات کو’ تشدد‘ کے مترادف قرار دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا