پیکا آرڈیننس: 10 سوالات

اگر قانون سازی کے لیے صدر محترم ہی کافی ہیں تو ہمیں پارلیمان کی ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کے اتنے خرچے برداشت کیے جائیں؟

28 فرروری 2019 کو پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ سیشن کے موقع ممبران پالیمنٹ ہاؤس آ رہے ہیں(تصویر: اے ایف پی فایل)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:


حال ہی میں جاری ہونے والے پیکا آرڈیننس نے چند اہم سماجی، سیاسی، اخلاقی اور قانونی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وابستگی اور عصبیت کے ہر آزار سے بلند ہو کر ان 10 سوالات پر غور کیا جائے۔

پہلے سوال کا تعلق اس قانون کی شانِ نزول سے ہے۔ جناب فروغ نسیم کے مطابق اس قانون کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد خاں صاحب کے خلاف خراب زبان استعمال کی گئی اور خاتون اول سے متعلق طلاق کی جھوٹی خبریں چلائی گئیں۔

اس حد تک تو وزیر قانون کی بات بالکل درست ہے کہ کردار کشی اور کسی کی نجی زندگی پر کیچڑ اچھالنے کی کسی بھی شکل کو گوارا نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کردار کشی تو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بھی بہت ہوئی جب طرح مصرع ’35 پنکچر‘ کا الزام ہوتا تھا جو بعد میں غلط ثابت ہوا اور اب ’فیک نیوز‘ کے درجہ پر فائز ہے۔

اسی طرح سب سے زیادہ کردار کشی تو سپریم کورٹ کے موجودہ جسٹس جناب قاضی فائزعیسٰی صاحب کی ہو رہی ہے۔ تو کیا مناسب نہ ہوتا کہ قانون کی شانِ نزول محض دو شخصیات تک محدود کر دینے کی بجائے اسے ایک عمومی رنگ دیا جاتا؟ سوال یہ بھی ہے کہ قانون سازی مفادِ عامہ میں کی جاتی ہے یا محض ایک دو شخصیات کی حساسیت کے احترام میں؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان کی ذات پر بات آئے تو راتوں رات قانون سازی ہو سکتی ہے تو خلق خدا کے مسائل کے حل کی خاطر قانون سازی کیوں نہیں ہوسکتی؟

ہماری پولیس آج بھی 1860 والی ہے، جس قانون کو ہم تعزیرات پاکستان کہتے ہیں 1861 کا ہے، یعنی 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے چار سال بعد کا۔ ہمارا ضابطہ فوجداری 1898 کا ہے۔ درجنوں قوانین صدیوں پرانے ہیں۔ یہ قانون شہریوں کے لیے تھا ہی نہیں۔ اس کا مقصد رعایا کو دبا کر رکھنا تھا تا کہ وہ آئندہ کسی شورش اور بغاوت کا سوچ ہی نہ سکیں۔ مفاد عامہ کی قانون سازی کب ہو گی؟

تیسرے سوال کا تعلق اس آرڈیننس میں جاری کردہ ضابطے سے ہے۔ اس میں عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ ایک خاص مدت میں مقدمے کا فیصلہ کریں اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو ججوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ خاص اہتمام صرف یہاں کیوں؟

عالم یہ ہے کہ لوگ سپریم کورٹ سے بری ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہ تو پہلے ہی مر چکے۔ ڈاکٹر اے کیو خان کی آزاد نقل و حرکت کے لیے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کا دن طے ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحب اس دنیا میں ہی نہیں ہوتے۔ ایسے میں ٹائم فریم دینا ہی ہے تو تمام مقدمات کے لیے کوئی میکنزم بنایا جاتا۔ صرف ایک مقدمے کے لیے ہی کیوں؟

پھر یہ ججوں کے خلاف کارروائی کی بات کیا درست رویہ ہے؟ درست ہے تو صرف ایک خاص قسم کے مقدمات میں ہی یہ اہتمام کیوں؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ جلد انصاف کی جو شرط اس قانون میں رکھی گئی، کیا ایسی ہی کوئی شرط بذریعہ آرڈیننس فارن فنڈنگ کیس میں بھی رکھی جا سکتی ہے اور کیا ایک آرڈیننس کے ذریعے الیکشن کمیشن کو بھی پابند کیا جا سکتا ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں فارن فنڈنگ کیس کا حتمی فیصلہ سنا دے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پانچواں سوال یہ ہے کہ فیک نیوز کا تعین کیسے ہو گا؟ یہاں تو محض الزام لگا کر کسی بھی بندے کو اٹھا لیا جائے گا اور اس کی ضمانت بھی نہیں ہو گی اور دوران حراست اس کا حشر نشر کرنے کی سہولت بھی موجود ہو گی۔ کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ گرفتاری سے پہلے اس بات کا تعین کر لیا جاتا کہ خبر درست ہے یا فیک ہے؟ ہمارے ہاں ایسا ہوتا آیا ہے کہ خبر آتی ہے، حکومت اس کی تردید کر دیتی ہے اور بعد میں خبر درست نکلتی ہے۔

چھٹا سوال یہ ہے کہ فرض کریں ایک خبر چلتی ہے، صحافی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ جی بھر کر اس کی خاطر تواضع کر لی جاتی ہے، اور پھر معلوم ہوتا ہے کہ خبر تو درست تھی۔ اس صورت میں ازالے کی کوئی شکل ہے یا متاثرہ فریق اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر اپنی چوٹیں سہلاتا پھرے گا؟ نیا قانون بنایا گیا اور اتنی غیر معمولی سزا رکھی گئی تو ازالے کے لیے کیا وہی پرانا طریقہ رہے گا جس میں مبلغ چند ہزار کی وصولی کا امکان موجود ہوتا ہے؟

کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ اس قانون کے تحت جہاں سزا غیر معمولی ہے وہیں غلط کارروائی کی صورت میں ازالہ بھی غیر معمولی ہوتا؟

ساتویں سوال کا تعلق قانون کی تشریح سے ہے۔ پاکستان کے قانون میں یہ طریق موجود ہے کہ جہاں قانون بیان کیا جاتا ہے وہیں اس کی شرح بھی مثال دے کر سمجھائی جاتی ہے۔ آپ فوجداری قانون اٹھا لیں یا دیوانی، یہ اہتمام آپ کو ہر جگہ ملے گا۔

کیا یہ موزوں نہ ہوتا کہ یہاں بھی قانون کے ساتھ اس کی شرح مثالیں دے کر سمجھا دی جاتی کہ فرض کریں کوئی شخص 35 پنکچر کا الزام لگاتا ہے اور بعد میں پتا چلتا ہے یہ تو بس سنی سنائی بات تھی تو یہ ’ فیک نیوز‘ تصور ہو گی۔ یا کوئی شخص کہتا ہے کہ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے اتنے ارب ڈالر پڑے ہیں اور وفاقی وزیر بننے کے بعد کہتا ہے کہ یہ اطلاع غلط تھی تو اسے بھی ’فیک نیوز‘ سمجھا جائے گا۔

آٹھواں سوال یہ ہے اس نئے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 2016 سے رائج الیکٹرانک کرائمز کے قانون کو بدل کر اس کا اطلاق ٹی وی چینلوں پر کیوں کیا جا رہا ہے جب کہ ان کو دیکھنے، ریگولیٹ کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پیمرا اور اس کے ڈھیر سارے اور کافی سخت قوانین پہلے سے ہی موجود ہیں؟

نواں سوال یہ ہے کہ 2016 میں جب یہ قانون لایا جا رہا تھا تو عمران خان اس کی مخالفت کر رہے تھے، اب ایسا کیا ہوا کہ وہ اس قانون کو ختم کرنے کی بجائے اس میں ترمیم کرتے ہوئے اس کو مزید سخت کر رہے ہیں، سزا بھی بڑھا رہے ہیں اور دائرہ کار بھی؟

دسواں سوال یہ ہے کہ اس حکومت کے دور میں قریبا 70 آرڈیننس آ چکے ہیں۔ ایک ایک دن میں آٹھ آٹھ آرڈیننس جاری کر دیے جاتے ہیں۔ اگر قانون سازی کے لیے صدر محترم ہی کافی ہیں تو ہمیں پارلیمان کی ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کے اتنے خرچے برداشت کیے جائیں؟

کیوں نہ پارلیمان کو غیر ضروری قرار دے کر تاحکم ثانی معطل کر دیا جائے۔ جہاں اتنے آرڈیننس آ چکے، وہاں ایک اور سہی۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر