یو ای ایف اے کے سابق صدر پولیس کی تحویل میں

مشیل پلاٹینی کے خلاف 2022  فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دینے پر تحقیقات جاری ہیں۔

یو ای ایف اے کے سابق صدرمشیل پلاٹینی 2015 میں ایک پریس کانفرنس کے لیے آتے ہوئے (فائل، اے ایف پی)

فرانیسی پولیس نے یونین آف یورپئین فٹ بال ایسوسی ایشنز (یو ای ایف اے) کے سابق صدر اور یورپئین فٹ بال کے سربراہ مشیل پلاٹینی سے 2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دینے کے فیصلے پر پوچھ گچھ کی ہے۔

فرانسیسی تحقیقاتی جریدے ’میڈیا پارٹ ‘ کے مطابق فرانس کی ٹیم کے سابق کپتان کو پولیس نے منگل کو پیرس کے مغربی مضافاتی علاقے نانتیر سے گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری اگلے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق دینے میں بدعنوانی کی تحقیقات کا حصہ ہے۔

63 سالہ مشیل پلاٹینی جنوری 2007 سے 2015 تک یو ای ایف اے کے صدر رہے۔ انہوں نے2017 میں فٹ بال سے چھ برس کی پابندی لگنے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کھیلوں سے متعلق تنازعات میں ثالث کرانے والی عدالت میں اپیل کرنے پر ان کے خلاف عائد پابندی چھ سال سے کم کر کے چار کر دی گئی تھی۔

یہ پابندی اس سال ختم ہو جائے گی لیکن فٹ بال میں بدعنوانی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے والے تفتیش کاروں نے مشیل پلاٹینی کو بدعنوانی کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔ یہ تفتیش کار اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ  قطر نے اگلے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کس طرح حاصل کی ۔

مشیل پلاٹینی کو پوچھ گچھ کے لیے منگل کی صبح جوڈیشل پولیس کے انسداد بدعنوانی دفتر میں لے جایا گیا۔

مشیل پلاٹینی 1998 میں فیفا ورلڈ کپ کی انتظامی کمیٹی میں شامل تھے۔ وہ 2002 میں فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بنے اور پابندی لگنے تک رکن رہے۔

2010 میں قطر کو 2022 میں ہونے والے فٹ بال  ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق دیئے گئے۔ لیکن معاملہ تب متنازع ہو گیا جب  قطر کو میزبانی دینے کا اعلان اسی وقت کیا گیا جب 2018 ورلڈ کپ کی میزبانی روس کو ملنے کا اعلان کیا گیا۔

2014 میں مشیل پلاٹینی نے اعتراف کیا تھا انہوں نے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر کے حق میں ووٹ دینے سے کچھ روز پہلے ایشئین فٹ بال کنفیڈریشن کے پابندی کا شکارعہدیدار محمد بن حمام سے خفیہ ملاقات کی تھی۔

برطانوی اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ میں خبر چھنے کے بعد محمد بن حمام  کے کسی فٹ بال تنظیم کا عہدیدار بننے پر زندگی بھر کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ ان پر مفادات کے ٹکراو کے خلاف قواعد و ضوابط کی بار بار خلاف ورزی کا الزام تھا۔

برطانوی اخبار ’دا ٹیلی گراف‘ کی مشیل پلاٹینی اور محمد بن حمام کے درمیان روابط پر تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے فیفا ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے مشیل پلاٹینی 30 سے 50 بارمحمد بن حمام سے مل چکے ہیں۔

جب قطر اور روس نے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق حاصل کئے اس وقت سیپ بلاٹر فیفا گورننگ باڈی کے سربراہ تھے۔ 2015 میں پلاٹینی اور بلاٹر پر بدعنوانی کے الزامات خارج کردیے گئے، لیکن انہیں قواعد و ضوابط کی  کئی بار خلاف ورزی کا مرتک پایا گیا جس میں مفادات کا ٹکراو اور فرائض میں غفلت شامل ہیں۔ اسی تفتیش کے دوران 2011 میں سیپ بلاٹر کی جانب سے مشیل پلاٹینی کو 20 لاکھ سوئس فرانک کی رقم دینے کا معاملہ سامنے آیا جو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے دی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں دونوں پر فٹ بال سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینے پر طویل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

میڈیا پارٹ کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطر کو فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق دینے کے معاملے میں فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کے سابق مشیر کلاڈ گیانٹ کو بھی پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے تاہم انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔  

 

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال