برطانیہ کی انتہائی مطلوب خاتون ایک دہائی بعد کیسے ملیں؟

ایک ارب پاؤنڈ ٹیکس فراڈ میں ملوث 47  سالہ سارہ پنٹزکے منی لانڈرر ہیں۔ انہیں اتوار کی صبح شمال مشرقی سپین کے علاقے کاتالونیا کے دیہی علاقے سے اپنے کتوں کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے پکڑا گیا۔

ایک ارب پاؤنڈ ٹیکس فراڈ میں ملوث 47  سالہ سارہ پنٹزکے منی لانڈرر ہیں۔ انہیں اتوار کی صبح شمال مشرقی سپین کے علاقے کاتالونیا کے دیہی علاقے سے اپنے کتوں کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے پکڑا گیا(تصویر: پکسابے)

برطانیہ کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہونے والی اب تک کی واحد خاتون کو تقریباً ایک دہائی بعد سپین میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایک ارب پاؤنڈ ٹیکس فراڈ میں ملوث 47  سالہ سارہ پنٹزکے منی لانڈرر ہیں۔ انہیں اتوار کی صبح شمال مشرقی سپین کے علاقے کاتالونیا کے دیہی علاقے سے اپنے کتوں کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے پکڑا گیا۔

وہ منگل کو عدالت میں پیش ہوئیں اور انہیں ہسپانوی جیل میں رکھا جا رہا تھا جبکہ برطانیہ کی جانب سے حوالگی کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

شمالی انگلینڈ کی کاؤنٹی یارکشائر میں پیدا ہونے والی مجرمہ اس وقت فرار ہوگئی تھیں جب ان پر ایک فراڈ گینگ میں سرکردہ کردار کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔

اس کے بعد مئی 2013 میں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے انہیں انتہائی مطلوب مفرور افراد کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔

ایچ ایم آر سی کی تحقیقات کے بعد پنٹزکے کو ان کی غیر موجودگی میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

انہوں نے سپین، انڈورا اور دبئی کی کمپنیوں کے ذریعے ایک ایسے گروپ کے لیے منی لانڈرنگ کی جس نے بغیر وی اے ٹی کے بیرون ملک موبائل فون خریدے اور انہیں برطانیہ میں دوبارہ فروخت کیا اور ایک ارب پاؤنڈ منافع کمایا۔

پنٹزکے اور ان کے 17 شریک سازشیوں کو مجموعی طور پر 135 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ باقی سب کو جیل بھیج دیا گیا جبکہ وہ مفرور رہیں۔

انہیں سپین کے گارڈیا سول کی ایک کارروائی میں بارسلونا کے جنوب میں ٹاراگونا کے قریب ایک پہاڑی شہر سانتا باربرا میں گرفتار کیا گیا۔ اس کارروائی کو ایچ ایم آر سی کی معاونت حاصل تھی۔

گارڈیا سول نے کہا کہ پنٹزکے سپین میں اپنے خاندانی تعلقات کی وجہ سے چھپنے میں کامیاب رہیں۔

2015 میں پولیس نے بارسلونا کے سیٹلائٹ قصبے اولیولا کے ایک مقام پر ان کا سراغ لگایا جہاں ان کا شوہر سامان دینے کے لیے جاتا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ جب وہ اپنا حلیہ تبدیل کرکے فرار ہوئیں تو گرفتاری کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے سپین میں اپنے خاندان کے ساتھ قطع تعلق کر دیا تھا۔

تفتیش کار انہیں برسوں تک تلاش کرتے رہے اور آخر کار فروری میں انہیں خفیہ اطلاع ملی کہ پنٹزکے سانتا باربرا میں چھپی ہوئی ہیں۔

انہوں نے نگرانی کے لیے ایک منصوبہ بنایا اور ہفتوں بعد معلوم ہوا کہ شہر کے مضافات میں ایک رہائشی عمارت میں قیام پذیر ایک خاتون کی جسمانی مطابقت پنٹزکے سے ملتی ہے۔

افسران نے انہیں اتوار 27 فروری کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنے کتوں کے ساتھ چل قدمی کر رہی تھیں۔

این سی اے کے بین الاقوامی ڈپٹی ڈائریکٹر ٹام ڈوڈل نے کہا: ’سارہ پنٹزکے تقریباً نو سال سے فرار ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’وقت کی طوالت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سوچا ہوگا کہ ہم نے تلاش کرنا چھوڑ دیا ہے، لیکن وہ ہمارے راڈار پر رہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سپین میں ہمارے ساتھیوں کے درمیان مشترکہ کام کرنے کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا اور اب ہم سزا کاٹنے کے لیے انہیں برطانیہ واپس بھیجنے کی کوشش کریں گے۔‘

’یہ ہماری انتہائی مطلوب فہرست میں شامل دوسروں کے لیے ایک تنبیہ ہے: ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بٹھیں گے جب تک آپ کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا، چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔‘

کہا جاتا ہے کہ پنٹزکے شمالی یارکشائر کے سیلبی کے قریب ایسکرک گاؤں کے ایک امیر گھرانے میں پلی بڑھی ہیں۔

انہوں نے سینٹ پیٹر سکول سے پہلے یارک کالج فار گرلز میں تعلیم حاصل کی تھی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کا تیسرا سب سے پرانا سکول ہے۔

ان کے والد لیو، جو رہائشی پراپرٹی ڈویلپر اور انشورنس بروکر ہیں، کو کونسل کے مکانات خریدنے اور انہیں بڑے منافع کے عوض جلد فروخت کرنے کے الزام میں چار سال کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ لاپتہ ہونے سے ایک گھنٹہ قبل وہ بارسلونا کے مرکز سے ایک گھنٹہ دور پہاڑیوں میں ایک کمیونٹی میں رہتی تھی۔

ایچ ایم آر سی کی فراڈ انویسٹی گیشن سروس کے ڈائریکٹر سائمن یارک نے کہا: ’پنٹزکے نے سوچا کہ وہ ایچ ایم آر سی کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہیں، لیکن برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ کام کرکے ہم نے ایک اور ٹیکس مفرور کا سراغ لگا لیا ہے۔ کوئی بھی ٹیکس مجرم ہماری پہنچ سے دور نہیں ہے۔‘

’ہم نے 2016 سے اب تک 60 سے زائد مفرور افراد کی واپسی میں مدد کی ہے جن میں برطانیہ کے کچھ انتہائی نقصان دہ ٹیکس دھوکہ باز بھی شامل ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا