’1400 سے زائد پاکستانیوں کو یوکرین سے نکال چکے‘

وفاقی سیكرٹری کا کہنا تھا کہ ’كیئف میں پاكستانی سفارت خانے نے جنگ زدہ ملک سے اپنے شہریوں كو نكالنے سے متعلق بروقت اقدامات كیے جس كے باعث تمام لوگ بخیریت ملک واپس پہنچ گئے ہیں۔‘

سیكریٹری خارجہ نے كہا كہ ’پاكستان یوكرین كو امداد بھی فراہم كر رہا ہے اور گذشتہ رات ہی اسلام آباد سے دو جہازوں میں ادویات، خوراک اور خیمے وغیرہ کیئف بھیجےگئے ہیں۔‘(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

وفاقی سیكرٹری خارجہ پاکستان سہیل محمود کا کہنا ہے کہ 24 فروری سے یوکرین میں موجود 1458 پاكستانیوں كو ہمسایہ ملک پولینڈ كے راستے نكالا جا چكا ہے۔ 

بدھ کو پارلیمان كے ایوان بالا (سینیٹ) میں قائمہ کمیٹی اراکین کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا كہ اس وقت یوكرین میں 15 سے 20 پاكستانی شہری موجود ہیں جو مختلف وجوہات كی بنا پر وہی پر قیام كرنا چاہ رہے ہیں۔

’اسی طرح یوكرین كے ایک ڈیٹینشن سنٹر میں 15 پاكستانی شہری موجود ہیں، جو پولینڈ كے علاوہ كسی دوسرے ہمسایہ ملک كے راستے نكلنے كو تیار نہیں ہیں۔‘

انہوں نے مزید كہا كہ ’ڈیٹینشن سنٹر میں موجود پاكستانیوں كی گرفتاریاں غیر قانونی طریقوں سے پولینڈ جانے كی كوششوں كے باعث عمل میں آئیں تھیں، اور اسی لیے یوكرینی حكام انہیں پولینڈ كا راستہ اختیار كرنے كی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔‘

وفاقی سیكریٹری کا کہنا تھا کہ ’كیئف میں پاكستانی سفارت خانے نے جنگ زدہ ملک سے اپنے شہریوں كو نكالنے سے متعلق بروقت اقدامات كیے جس كے باعث تمام ایسے لوگ بخیریت ملک واپس پہنچ گئے ہیں۔‘

وزیر اعظم عمران خان كے روس كے دوسرے سے متعلق انہوں نے بتایا كہ اس سلسلے میں دو سال سے كام ہو رہا تھا، جبكہ پاكستانی چیف ایگزیكٹو كو دو دعوت نامے بھی موصول ہوئے تھے جو مختلف وجوہات سے قابل عمل نہ ہو سكے۔ 

انہوں نے مزید كہا كہ ’وزیراعظم عمران كے دورے سے قبل روس اور یوكرین كے درمیان جنگ كا شروع ہونا واضح نہیں تھا، اور دنیا كے کئی رہنما روس جا رہے تھے۔‘ 

انہوں نے كہا كہ ’پاكستان گذشتہ 20 سال سے روس كے ساتھ تعلقات كی بہتری كے لیے كوشاں تھا، اور گذشتہ تین سال كے دوران اس سلسلے میں كافی پیش رفت ہوئی ہے۔‘

سہیل محمود نے كہا كہ ’روس كے دورے كا مقصد انرجی پائپ لائن، دو طرفہ معاملات، افغانستان كی صورت حال، اور مسئلہ كشمیر كے تناظر میں جنوبی ایشیا كی صورت حال اس دورے كے مقاصد میں سرفہرست تھے۔‘

روس اور یوكرین كے درمیان جنگ سے متعلق پاكستان كے موقف كی وضاحت كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ اسلام آباد گفت و شنید كے ذریعے مسائل كے حل پر زور دیتا ہے، اور وزیراعظم عمران خان نے ماسكو سے واپسی پر بھی یہی بیان دیا۔ 

انہوں نے كہا كہ ’یورپی یونین اور دوسری مغربی طاقتیں اسلام آباد كے موقف كو سمجھتی ہیں، اور اس سلسلے میں پاكستان كے لیے كوئی مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔‘

وفاقی سیكریٹری خارجہ نے كہا كہ ’پاكستان یوكرین كو امداد بھی فراہم كر رہا ہے اور گذشتہ رات ہی اسلام آباد سے دو جہازوں میں ادویات، خوراک اور خیمے وغیرہ كیو بھیجے گئے ہیں۔‘

 بھارتی میزائل كے پاكستان میں گرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نیو دہلی كی وضاحت ناكافی، ناقابل قبول اور ناقابل یقین ہے۔‘

قائمہ كمیٹی برائے خارجہ امور میں اراكین كے سوالات كے جواب دیتے ہوئے انہوں نے كہا كہ اسلام آباد نے پاكستانی سرزمین پر بھارتی میزائل كے گرنے كا معاملہ اہم بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے كہ پاكستان حكام كے مطابق نو مارچ كو مقامی وقت كے مطابق شام چھ بج كر 43 منٹ پر ایک بھارتی سپر سونک فلائنگ آبجیکٹ (آواز كی رفتار سے تیز اڑنے والی چیز) پاكستانی فضا میں داخل ہوئی تھی، جو بعد میں ثابت ہوا كہ ایک میزائل تھا۔ 

بھارت كی طرف سے آنے والا میزائل پاكستانی دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے پر ملک کے مشرقی شہر میاں چنوں کے قریب گرا، جس سے شہری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

دوسری طرف بھارتی وزارت دفاع كے مطابق میزائل كا چل جانے كا واقعہ حادثاتی تھا، جو معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی كے باعث رونما ہوا۔

وفاقی سیكرٹری سہیل محمود نے كہا كہ ’اس سلسلے اقوام متحدہ اور یورپین یونین كے سیكریٹری جنرلز كو خطوط لكھے گئے ہیں، جبكہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس ایشو پر لكھا اور بولا جا رہا ہے۔‘

وفاقی سیكرٹری خارجہ نے مزید كہا: ’ہم نے اپنے سفیروں كو یہ معاملہ دنیا كے دارالحكومتوں میں اٹھانے كی ہدایات بھی جاری كر دی ہیں۔‘

 تاہم انہوں نے تسلیم كیا كہ مغربی میڈیا میں اس سلسلے میں پاكستانی اور بھارتی نقطہ نظر میں فرق كیا جا رہا ہے۔

خارجہ سیكرٹری سہیل محمود کا کہنا ہے کہ حكومت پاكستان بھارتی میزائل كے پاكستانی سرزمین پر گرنے كے معاملے كو ہر ممكنہ طور پر دنیا كے سامنے لانے كی كوشش كر رہی ہے۔ 

ایک ركن كمیٹی كے بھارتی میزائل كے پاكستانی سرزمین پر گرنے كے پیچھے ممكنہ عوامل سے متعلق سوال پر سیكریٹڑی خارجہ كا كہنا تھا: ’اس وقت یہ كہنا مشكل ہے كہ بھارت كے عزائم كیا تھے۔‘

انہوں نے مزید بتایا كہ ’اسلام آباد نے واقعے كے فورا بعد بھارتی ناظم الامور كو بلا كر احتجاج ریكارڈ كروایا، جبكہ دہلی كو جواب دینے میں پورا ایک دن لگا۔‘

انہوں نے كہا كہ ’اسلام آباد نے دہلی سے پاكستانی سرزمین پر گرنے كے معاملے سے متعلق سات سوالات پوچھے، جن میں روگ ایلی منٹس كے ملوث ہونے سے متعلق اور مشتركہ تحقیقات كے حوالے سے بھی دریافت كیا گیا۔‘ 

اراكین سینیٹ قائمہ كمیٹی نے تجاویز دیتے ہوئے كہا كہ حكومت پاكستان كو بھارتی میزائل كے واقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت كے خلاف منظم كمپین كرنا چاہیے۔ 

جمیعت علما اسلام ف كے سینیٹر عبدالغفور حیدری نے كہا: ’ہمیں اس موقعے كو ضائع نہیں كرنا چاہیے، اور سڑكوں كے علاوہ اسے دوسرے طریقوں سے بھی اٹھایا جانا چاہیے۔‘

كمیٹی كی سربراہ شیری رحمٰن كا اس سلسلے میں کہنا تھا كہ ’بھارتی میزائل كا اس طرح پاكستانی سرزمین پر گرنا معمولی واقعہ نہیں ہے، اور اسے پوری سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ میرے خیال میں یہ بھارت كی طرف سے كوئی پیغام تھا، یا وہ ہمیں ٹیسٹ كر رہے تھے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان