’پاکستان داخلی طور پر اور ہمسایوں کے ساتھ پر امن افغانستان کا حامی‘

دیگر قوتیں افغانستان کے فوجی حل پر یقین رکھتی تھیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ سے یہی کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل صرف مذاکرات ہیں اور آج دیگر قوتیں بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان داخلی طور پر اور ہمسایوں کے ساتھ پر امن افغانستان کا حامی ہے اور اس بارے میں پاکستان کا نکتہ نظر بالکل واضح اور عیاں ہے۔

شاہ محمود قریشی افغان امن عمل کے حوالے سے بھوربن، مری میں ’لاہور پراسس‘ کے نام سے منعقدہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے، جس میں افغانستان کی 18 سیاسی جماعتوں اور گروپس کے 45 مندوبین سمیت مذہبی شخصیات بھی شریک ہیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’افغانستان اور پاکستان دو بھائی ہیں، جن میں برادرانہ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام جغرافیے، تاریخ، عقیدے، خونی رشتوں اور لسانی و ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں اور اس خطے یا دنیا میں کوئی اور ایسے ممالک نہیں جن میں اتنی زیادہ قدریں مشترک ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم پر امن، مستحکم، متحد، جمہوری اور خوشحال افغانستان کے عزم پر سختی سے کاربند اور عدم مداخلت، باہمی احترام اور یکساں مفاد کے اصولوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔‘

افغانستان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں مسلسل عدم استحکام اور تنازع کے باعث افغان قوم کے بعد اگر کسی نے سب سے زیادہ تکالیف برداشت کی ہیں تو وہ پاکستان کے عوام ہیں۔ افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے پاکستان کی سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ پاکستان میں کوئی بھی اس نام نہاد نظریے کو تسلم نہیں کرتا کہ افغانستان میں پاکستان کی سٹرٹیجک گہرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر پروپیگنڈے یا پھر افغان بھائیوں کے ذہنوں میں غلط فہمی کا بیج بونے کے لیے اس مردے گھوڑے کو زندہ کرنے کی کسی کو اجازت نہ دیں۔‘

وزیر خارجہ نے کہا: ’ہم افغانستان کو اپنا دوست اور برادر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں منتخب قیادت افغان معاشرے کے تمام رنگوں پر مشتمل پھولوں کا منتخب گلدستہ ہو اور وہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کی آئینہ دار ہو۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا: ’دیگر قوتیں افغانستان کے فوجی حل پر یقین رکھتی تھیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ سے یہی کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل صرف مذاکرات ہیں اور آج دیگر قوتیں بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پاکستان افغان معاشرے کے تمام طبقات اور ان کے نمائندوں سے اپنے روابط کو مزید گہرا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ افغان عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مزید پختہ کیا جاسکے۔‘

وزیر خارجہ کے مطابق: ’آج افغانستان امن و استحکام کے ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے ۔امن کی تازہ کوششوں نے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ہم افغانستان اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں تاکہ ایسے سازگار حالات پیدا ہوں جن میں افغان مہاجرین کی باعزت، محفوظ اور رضاکارانہ واپسی کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔‘

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان میں آبادکاری کے بعد تعمیر نو اور ترقیاتی کوششوں کے لیے بھی اپنے وعدے پر قائم ہے۔ ’ہم تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں کی استواری اور افغان عوام کی استعداد کار میں اضافے کے لیے افغانستان کی مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور عوامی سطح پر رابطوں کے فروغ اور ثقافتی تبادلوں کا عزم رکھتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان