خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت اور بنوں میں اتوار کو پولیس کے مطابق دو مختلف حملوں میں چار اہلکاروں کو قتل کر دیا گیا۔
لکی مروت میں فائرنگ کا واقعہ نورنگ تھانہ کی حدود میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں ٹریفک پولیس کے تین اہلکاروں کی اموات ہوئیں۔
لکی مروت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس شمع راز خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نا معلوم افراد نے دوران ڈیوٹی ٹریفک اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے لکی مروت میں پولیس اہلکاروں کی اموات کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
اسی طرب بنوں کے علاقے کشفی خیل میں پولیس کے مطابق ایک اہلکار ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں جان سے گیا۔
بنوں پولیس کنٹرول روم کے ایک عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس اہلکار ڈیوٹی پر نہیں تھا بلکہ انہیں ان کے گاؤں میں نشانہ بنایا گیا۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں آئے دن شدت پسندی اور ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
پولیس کے اعدادوشماد کے مطابق سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات 2025 میں بنوں ریجن میں درج کیے گئے، جن کی تعداد 391 ہے جبکہ مجموعی طور پر صوبے میں 1500 سے زائد دہشت گردی کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔