بی بی سی کا افغان طالبان پر بند نشریات بحال کرنے پر زور

بی بی سی نے طالبان کی جانب سے نشریات بند کرنے کے اقدام کو ’افغان عوام کے لیے غیر یقینی اور ہنگامہ خیزی کے وقت پر ایک تشویش ناک پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

21 مارچ، 2005 کی اس تصویر میں  کچھ لوگ بی بی سی کے لندن  ہیڈ کواٹر سے نکل رہے ہیں (اے ایف پی)

بی بی سی نے اتوار کو طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ اس پرعائد پابندی کو ہٹانے کا حکم جاری کریں۔

افغان طالبان نے ملک میں برطانوی نشریاتی ادارے کے نیوز بلیٹن کو بلاک کر دیا ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس میں زبانوں کے سربراہ طارق کفالہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’افغانستان میں بی بی سی کے پشتو، فارسی اور ازبک میں ٹی وی نیوز بلیٹن آف ایئر ہو گئے ہیں کیونکہ طالبان نے ہمارے ٹی وی پارٹنرز کو ہمیں ان کی فضائی لہروں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

’ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں اور ہمارے ٹی وی پارٹنرز کو فوری طور پر بی بی سی کے نیوز بلیٹن کو ان کی ایئر ویوز پر واپس آنے کی اجازت دیں۔‘

کفالہ نے طالبان کے اس اقدام کو ’افغانستان کے عوام کے لیے غیر یقینی اور ہنگامہ خیزی کے وقت ایک تشویش ناک پیش رفت‘ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہر ہفتے 60 لاکھ سے زیادہ افغان ٹی وی پر بی بی سی نیوز بلیٹن دیکھتے تھے۔ ’یہ اہم ہے کہ انہیں مستقبل میں اس تک رسائی دی جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیال رہے کہ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب طالبان اس ہفتے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے اتوار کو عہد کیا کہ اگر طالبان ایک ہفتے کے اندر لڑکیوں کے سیکنڈری سکولوں کو دوبارہ کھولنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ ملک گیر مظاہرے شروع کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا