لاہور: خواتین کے لیے مخصوص ڈرائیونگ لائسنس سینٹر

سینیئر ٹریفک وارڈن ثمینہ انجم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس سینٹر کو قائم کرنے کامقصد خواتین ڈرائیورز کو آرام دہ اور بغیر کسی جھجھک کے لائسنس بنوانے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔

لاہور کی ٹریفک پولیس نے شہر میں خواتین کے لیے علیحدہ وہیکل لائسنسنگ سینٹر قائم کیا ہے، جس میں روز ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی لیے جاتے ہیں۔

لبرٹی مارکیٹ میں قائم کیے جانے والے اس سینٹر کی انچارج اور سینیئر ٹریفک وارڈن ثمینہ انجم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس سینٹر کو قائم کرنے کامقصد خواتین ڈرائیورز کو آرام دہ اور بغیر کسی جھجھک کے لائسنس بنوانے کی سہولت فراہم کرنا تھا اور خواتین کو با اعتماد اور خود مختار بنانے میں کردار ادا کرنا تھا۔

سینٹر میں لائسنس کے لیے ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے کے لیے آںے والی نگار ظہور شعبہ تعلیم سے منسلک ہیں۔ یہ اپنے ادارے تک پہنچنے کے لیے اپنی گاڑی استعمال کرتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے نگار کا کہنا تھا: ’ہمارے معاشرے کی خواتین آگے ہونے سے جھجھک رہی ہوتی ہیں۔ خاص طور پر ہمارے ملک میں نظام ایسا ہے کہ اس میں ضروری نہیں ہے کہ اگر کہیں مخلوط مجمع  ہے تو خاتون آرام دہ محسوس کر رہی ہو۔ اس سینٹر میں کمفرٹ لیول بہت زیادہ ہے۔ یہاں کچھ لوگ ہیں جو آپ سے تعاون کر کے ہر چیز باقائدہ ایک طریقہ کار سے بتاتے ہیں اور ہر چیز ایک نظام کے تحت ہو رہی ہے۔ جو کہ بہت اچھی بات ہے۔‘

سینیئر وارڈن ثمینہ نے بتایا کہ اس سینٹر میں دن کے 20 سے 25 لائسنس بنائے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سینٹر میں پانچ خواتین وارڈنز ہیں جو لائسنس بنانے کے پورے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہیں۔ پہلے آن لائن سائن ٹیسٹ لیا جاتا ہے جس کے بعد روڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں ڈرائیور کو گاڑی آگے لے کر جانا پڑتی ہے اور پھر پیچھے لانا پڑتی ہے۔ 

یہاں ٹیسٹ دینے والی ڈرائیورز کی روڈ ٹیسٹ کے دوران ویڈیو بنائی جاتی ہے جس کے بارے میں یہاں کی وارڈنز کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کا مقصد پورے عمل کو سفارش سے پاک اور شفاف رکھنا ہے۔ یہ ریکارڈنگ روزانہ کی بنیاد پر لاہور ٹریفک پولیس کے ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے۔

سینٹر کی انچارج اور سینیئر ٹریفک وارڈن ثمینہ انجم نے بتایا کہ ’یہاں موجود خواتین وارڈنز کا کہنا ہے کہ لائسنس بنوانے کے لیے آنے والی خواتین اچھا محسوس کرتی ہیں اور ہم لوگ بھی مطمئن ہیں۔‘

وارڈن ارم نثار کے مطابق ’یہاں چوں کہ خواتین ہوتی ہیں اس لیے زیادہ سکون ہے۔ ہم مردوں کی نسبت خواتین کو زیادہ اچھے طریقے سے ڈیل کرتے ہیں اور وہ ہماری بات کو سمجھ بھی لیتی ہیں۔ یہاں آنے والی خواتین یہاں موجود خواتین وارڈنز کے ساتھ سیلفیاں بھی بنواتی ہیں۔‘

ثمینہ انجم نے بتایا کہ ’یہاں لائسنسنگ کا عمل تیز اور آسان ہے۔ سائن ٹیسٹ کے بعد خاتون روڈ ٹیسٹ دیتی ہیں جس کے بعد ان کی فائل تیار کی جاتی ہے اور اس سارے عمل میں آدھا گھنٹہ درکار ہوتا ہے جس کے بعد اگر وہ ٹیسٹ پاس کر لیں تو ان کا لائسنس دو دن سے ایک ہفتے کے اندر اندر ان کے گھر پر ارسال کر دیا جاتا ہے۔‘


بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین