’مودی پچھلے جنم میں سر سید تھے‘

’بھارتی میڈیا پتہ نہیں کون سا نشہ کرتا ہے۔ یہ دیکھ کر تو میری آنکھوں میں آنسو ہی آ گئے‘، ٹوئٹر صارفین کے تبصرے

بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ مودی در اصل ’دو قومی نظریے‘ کے بانی سر سید احمد خان کا ہی اگلا جنم ہیں۔

ایک بھارتی نیوز چینل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی پچھلے جنم میں مشہور مسلمان رہنما سر سید احمد خان تھے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ مودی در اصل ’دو قومی نظریے‘ کے بانی سر سید احمد خان کا ہی اگلا جنم ہیں۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہے اور مختلف صارفین کی جانب سے طنز و مزاح پر مبنی تبصرے کیے جارہے ہیں۔

اپنی مسلم مخالف سوچ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننے والے مودی بھاری ریاست گجرات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کم عمری میں ہی انتہا پسند ہندو تنظیموں سے جڑ گئے تھے۔

دوسری جانب سر سید احمد خان 1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے اہم رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے۔ ان کی جانب سے مسلمانوں کے لیے تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا گیا اور اسی سلسلے میں انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں کی بنیاد بھی رکھی تھی، جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی شامل ہے۔

بھارتی نیوز چینل کا یہ دعویٰ امریکی شہر سان فرانسسکو میں موجود آئی آئی ایس آئی ایس نامی ایک تحقیقاتی ادرے کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ یہ ادارہ از سر نو جنم لینے کے تصور پر تحقیق کر رہا ہے۔ لیکن ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس دعوے کو لے کر خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

فصیح الدین نامی ایک ٹوئٹر صارف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’پچھلے جنم میں مودی سر سید تھے۔ تحریک انصاف کی جانب سے ٹنڈولکر کو عمران خان سے ملانے کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے مودی کو سر سید سے ملانا ایک سخت مقابلہ ہے۔ اس سے پہلے کہ میچ شروع ہو جائے اور ہم پریشان ہوں بھارتی میڈیا کی اس حرکت پر تھوڑا ہنس لیتے ہیں۔‘

گاڈ فادر نامی صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’مودی اپنے ماضی میں سر سید تھے۔ یہ سب سے بہترین چیز ہے جو آپ آج دیکھیں گے۔ بھارتی میڈیا برائے مہربانی کبھی تبدیل مت ہونا۔‘

سعادت علی ضیا نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا: ’مودی پچھلے جنم میں بیف کھانے والے ایک مسلمان تھے اور وہ اپنے مستقبل سے واقف تھے۔‘

الائچی اِن پیزا نامی اکاؤنٹ نے اس ٹویٹ کا جواب مودی کی تصویر کے ساتھ ہی دیا جس میں وہ پراتھنا کے لیے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں لیکن تصویر پر درج کیپشن میں کہا گیا ہے: ’یار تم معاف کر دو۔‘

جہانزیب مغل کہتے ہیں: ’بھارتی میڈیا پتہ نہیں کون سا نشہ کرتا ہے۔ یہ دیکھ کر تو میری آنکھوں میں آنسو ہی آ گئے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل