عمران خان سے کہاں کہاں غلطی ہوئی؟

پاکستان میں جو بھی منتخب سیاسی حکومت پنجاب میں ڈوب جاتی ہے وہ اسلام آباد میں بھی ڈوب جاتی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان 15 مارچ 2022 کی اس تصویر میں اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ ایک تقریب میں شریک تھے (فوٹو: عمران خان آفیشل فیس بک پیج)

تین اپریل کو پاکستان کی پارلیمان میں جو آئینی تنازع اٹھ کھڑا ہوا، اس کی گرد سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی بیٹھے گی، لیکن اس سے کم از کم یہ تلخ حقیقت واضح ہو کر سامنے آگئی کہ پاکستان میں آج تک کوئی بھی منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرسکا۔

اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے ملک کو کرپشن سے پاک کر کے ’نیا پاکستان‘ بنانے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کرپشن کو ملک کی پسماندگی کی بنیادی وجہ قرار دیا اور اصلاحات لانے  اور بہتر حکمرانی کا نمونہ پیش کرنے کے وعدے کیے، تاہم ان کی نگرانی میں نہ صرف پاکستان کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن انڈیکس کی درجہ بندی گرگئی بلکہ ملک نے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ غربت اور بے روزگاری میں بھی زبردست اضافہ دیکھا۔

اسی طرح ایک کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنے اور متوسط ​​​​طبقے کے لیے 50 لاکھ سستے گھر بنانے کے وعدوں پر بھی خاطر خواہ عمل نہ ہو سکا۔

فوج کی طرف سے حاصل غیر مشروط حمایت عمران خان کی سب سے بڑی طاقت تھی، جو آگے چل کر ان کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔ اگرچہ فوج کے ساتھ خان کی اندرونی چپقلش پہلے سے جاری تھی تاہم اکتوبر میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو تعینات کرنے میں خان کی ہچکچاہٹ راستے جدا ہونے کا باعث بن گئی۔ فوج خاموشی سے خان کی حمایت سے پیچھے ہٹ گئی۔

خان کے دورِ حکومت میں احتساب کی مہم ایک خواب ہی رہی۔ نومبر 2021 میں پی ٹی آئی کے احتسابی عمل کے مرکزی کردار مرزا شہزاد اکبر کے مبینہ جبری استعفے نے خان کے کرپشن کے خلاف بیانیے کو کاری ضرب لگائی۔ چار سال میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کرپشن کا ایک بھی کیس عدالتوں میں ثابت نہ ہوا۔

احتساب مہم کو سب سے زیادہ دھچکہ ستمبر 2021 میں اس وقت لگا جب برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے دو سال کی تحقیقات کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو کرپشن کیس میں بری کر دیا۔ اسی طرح براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موسوی کی مارچ 2022 میں نواز شریف سے عوامی معافی نے احتساب مہم کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔ براڈ شیٹ برطانیہ میں قائم ایک مالیاتی تحقیقاتی فرم ہے جسے جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے اثاثوں کی چھان بین کے لیے مقرر کیا تھا۔ موسوی نے نواز شریف کے خلاف تمام الزامات واپس لے لیے اور اعتراف کیا کہ ان کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

پاکستان میں جو بھی منتخب سیاسی حکومت پنجاب میں ڈوب جاتی ہے وہ اسلام آباد میں بھی ڈوب جاتی ہے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب پر پراکسی کے ذریعے حکمرانی کرنے کی عمران خان کی خواہش بربادی کی وجہ بن گئی۔ عمران خان نے عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا جنہوں نے 2018 میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وجہ یہی کہ عمران خان اسلام آباد سے پنجاب کو ریموٹ کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے اصرار کے باوجود بزدار کی جگہ زیادہ بہتر اور قابل وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔ عثمان بزدار کو کسی ضلع کی سطح پر بھی انتظامی معاملات کا تجربہ نہیں تھا جبکہ انہیں اس صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا گیا، جو اپنی 11 کروڑ کی آبادی کے ساتھ دنیا کے 12 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بزدار نے چار سال میں سات پولیس انسپکٹر جنرل اور پانچ چیف سیکرٹری تبدیل کیے۔ اعلیٰ بیوروکریٹس کے اچانک تبادلوں کے نتیجے میں بیوروکریسی میں عدم تحفظ پیدا ہوا جس کے نتیجے میں گورننس اور امن وامان پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

عمران خان کی حکومت 2018 میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والے سیاسی الیکٹ ایبلز کی مرہونِ منت تھی لیکن حکومت میں آ کر انہوں نے تکنیکی مشیروں اور ترجمانوں کی ایک فوج بھی جمع کرلی، جو وفاقی وزرا کے برابر مراعات کے ساتھ نان الیکٹ ایبلز کے نام سے جانے جاتے تھے۔ پاکستان میں الیکٹ ایبلز وہ بااثر سیاست دان ہیں جن کا تعلق جاگیردار خاندانوں سے ہے اور جو حکومت سازی کے وقت کنگ میکر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

نان الیکٹ ایبلز کے برعکس الیکٹ ایبلز اپنے ووٹروں کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ الیکٹ ایبلز نے حقارت کے ساتھ نان الیکٹ ایبلز کو سیاسی پیرا شوٹر سمجھا۔ دھیرے دھیرے الیکٹ ایبل اور نان الیکٹ ایبل اختلاف نے پارٹی کے اندر دراڑیں اور طاقت کی کشمکش پیدا کی، جس کے نتیجے میں منتخب ہو کر آنے والے الیکٹ ایبلز پی ٹی آئی میں اپنے مستقبل پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہو گئے۔ بالآخر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ملنے والے پہلے ہی موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے الیکٹ ایبلز نے پی ٹی آئی سے کنارہ کشی اختیار کرنے میں عافیت سمجھی۔

اگرچہ نگران حکومت کو اقتدار کی منتقلی اور آئندہ آنے والے انتخابات پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت کو کم کر دیں گے لیکن ان اقدامات سے ملک کے طویل مدتی پیچیدہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ آنے والی نئی حکومت کے لیے چیلنجز واضح ہو چکے ہیں جبکہ سیاسی انجینیئرنگ کی ایک اور ناکام کوشش کے بعد پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹنے اور جمہوری عمل کو خودکار طور پر آگے بڑھنے کی اجازت دینے کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے جو سماجی عدم مساوات، سماجی ناانصافیوں اور وسائل کی دوبارہ تقسیم کے ذریعے ریاست اور معاشرے کے رشتے پر نظرثانی کرے۔


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ