’اگر اچار نہیں تو روزہ نہیں‘

’شاہ جی اچار‘ کی تشہیر میں مردان کے رہائشی عبدالرزاق کی والدہ کا اہم کردار رہا، رمضان میں یہ اچار روزانہ کئی سو کلو فروخت ہوتا ہے۔

مردان میں مقامی سطح پر اچار تیار کرنے والے سیدعبدالرزاق نےانڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ گھریلو حالات کی وجہ سےانہوں نے والد صاحب کے ساتھ تعاون کے غرض سے میٹرک کے بعد اچار تیار کرنا شروع کر دیا اور اب انہیں اس کام میں 45 سال ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’شروع میں میرے والد کے دوست نے اچارکا آئیڈیا دیا، میں نے مردان کی مشہورسوغات بدایونی پیڑوں کی دوکان کے سامنے ٹھیلا لگایا اور کام چلتا گیا۔ اب شاہ جی اچارکے لیے دوردورسے لوگ دوکان پر آتے ہیں۔‘

سید عبدالرزاق نے کہا کہ ’اس کام میں والدین کی سرپرستی حاصل تھی اور میری والدہ کی بہت زیادہ کمٹمنٹ تھی۔ والدہ ہمارے ساتھ یہ تعاون کرتی تھیں کہ ہم پہلے ہم باہرسے منگواکر انہیں مصالحہ جات دیتے جن کے بعد ہماری والدہ اچار بناتی تھیں۔ بعد میں اسے چھوٹے پیکٹوں میں پیک کر کے ہمارے علاقے کے مختلف گرلزسکول لے جاتی تھیں، پہلے وہ خود جایا کرتیں، بعدمیں ہم نے جانا شروع کیا لیکن شاہ جی اچارکی تشہیراورکامیابی میں اصل کردار میری والدہ کا ہے۔‘

لوگوں کی پسند کی وجہ کیا ہے؟

سید عبدالرزاق نے بتایا کہ ’میں نے کھبی دونمبرچیز نہیں خریدی ہے۔ اپنی طرف سے میں کوشش کرتا ہوں کہ اچھی چیزخرید لوں اورمجھ سے 10 روپے زیادہ جائیں، لیکن چیزمجھے اچھی ملے۔ انہوں نے کہا کہ اسی میں میرے ایک استاد جو پنڈی میں تھے، وہ جس طریقے سے کام کرتے تھے، ان کا کام مجھے پسند آیا اوروہ یہ کہتے تھے کہ صفائی میں خدائی ہے۔ اسی وجہ سے جو جوچیزیں میں اس میں ڈالتاہوں تو پوری کوشش ہوتی ہے کہ صاف ستھری ہوں اورمعیارکے لحاظ سے  بھی بہترین ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عام دنوں اوررمضان کے سیل میں کتنا فرق ہوتاہے؟

انہوں نے بتایا کہ ’اچارکی سیل رمضان میں دوگنی نہیں تین گنا سے بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اور روزانہ کئی سو کلو اچار فروخت ہوتا ہے۔ ہمارے پختون ریجن میں کہاوت ہے ’چی اچارنہ وی روجہ نہ وی‘ مطلب اگراچارنہیں ہے توروزہ نہیں ہے۔ حالانکہ دوسرے صوبوں میں سوچ اور ہے وہاں چٹنی چلتی ہے وہاں اچار کی شرح کم ہے۔‘

سید عبدالرزاق نے کہا کہ شاہ جی اچارکی زیادہ سیل کی وجہ ساشے  پیک سے شروع ہونا اور کلو پر ختم ہونا ہے۔  ’جو معیارمیں کلو میں دیتاہوں وہ 10 روپے والے ساشے پیکٹ میں بھی برقرار رکھتا ہوں۔‘

انہوں نے کہاکہ میں دوکان سے باہرکوئی سپلائی نہیں کرتا لیکن لوگ دوردراز علاقوں سے آکراچارلے جاتے ہیں۔

شاہ جی اچار کے مالک نے کہا کہ ’مقامی سطح پر تیارکرنے والے شاہ جی اچارمیں آم کا ریشوسب سے زیادہ ہوتا ہے دوسرا گاجراور تیسرے نمبر پرسبزمرچ اورلیموں کا اچار ہوتا ہے اوراس میں خالص سرسوں کا تیل بھی استعمال ہوتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا