اجتماعی فریب جو وائرس کی طرح پھیلتا ہے

دماغی وائرس کو دوسرے تک منتقل ہونے میں فاصلے کی کوئی قید نہیں ہوتی، یہ خیالی میزائل ہزاروں کلومیٹر دور تک بھی کاری وار کرسکتا ہے۔

 ’ہاؤس آف سیکرٹس‘ نامی سیریز میں اجتماعی خود فریبی کے معاملے کو عمدگی سے نمایاں کیا گیا ہے (نیٹ فلکس)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے فوری بعد کا ایک حیرت انگیز قصہ کچھ یوں ہے کہ براعظم جنوبی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل میں رہنے والے تین لاکھ جاپانی تارکینِ وطن ایک اختلافی معاملے پر دو گروہوں میں بٹ گئے۔

کئی دہائیوں سے نسل در نسل آباد، آپس میں کئی طرح سے رشتوں اور تعلقات میں بندھے ان لوگوں کو آخر کس مسئلےنے دو الگ الگ فرقوں میں ایسے بانٹ دیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہ تھے؟

انجامِ کار بڑھتے ہوئے اختلافات نے دشمنی کی ایسی شکل اختیار کر لی جس کا بھیانک انجام برادری کے 15 سر کردہ رہنماؤں کے قتل کی شکل میں سامنے آیا۔

شاید بہت سے نئے پڑھنے والوں کو یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پہلا فرقہ یہ سمجھتا اور یقین رکھتا تھا کہ جاپان جنگ جیت گیا ہے اور اتحادی ہار گئے ہیں۔ وہ اپنی بات پہ مرتے دم تک قائم رہے۔

تاریخ میں یہ گروہ ’کاچی گومی‘ کہلایا، یعنی ’فتح مند گروہ۔‘ دوسرےحقیقت پسند گروہ کو ’ماکے گومی‘ یعنی ’شکست خوردہ‘ گروہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو سچائی جانتا اور مانتا تھا کہ جاپان اتحادیوں سے جنگ ہار چکا ہے اور ہتھیار ڈال دیے گئے ہیں۔

تاریخ کھنگالنے والے محقق بتاتے ہیں کہ کاچی گومی، جی ہاں وہ گروہ جو جاپان کی فتح پہ کامل یقین رکھتا تھا، پورے تارکینِ وطن آبادی کی خاصی بڑی اکثریت پر مشتمل تھا۔

آج ہم میں سے اکثر لوگ اس ’اجتماعی فریب‘ پہ ہنس دیں گے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جاپان اپنے دو شہروں، ہروشما اور ناگاساکی۔ پر ایٹمی حملوں کی تاب نہ لاتے ہوے ہتھیار ڈال چکا تھا، لیکن ہنسی اڑانے سے پہلے ایک واقعہ اور یاد کر لیجیے۔

زیادہ پرانی بات نہیں یکم جولائی 2018 کو نئی دہلی کے علاقے براری میں چنداوت بھاٹیہ خاندان کے 11 افراد نے ایسے ہی اجتماعی فریب یا Collective Delusion کا شکار ہو کر سکون سے گلے میں رسیاں پہن کر کنڈوں سے لٹک کر اجتماعی خود کشی کر لی۔

خاندان کے سب افراد اپنے لیڈر للیت بھاٹیہ کی بات کو حرفِ آخر جانتے تھے جو اس خاندان کا بڑا تھا اور باپ کی وفات کے بعد گھر کا مرد سربراہ بھی تھا۔ گھر کے باقی افراد ایمان کی حد تک اس کی ہر تلقین پہ یقین کرتے ہوے من و عن عمل بھی کرتے تھے، حتیٰ کہ ایک رات للیت نے سب کو ایک دوسرے کی رسیاں ایک دوسرے سے بندھوا کر لٹکوا دیا۔

مرنے سے پہلے یہ دلاسہ بھی دیا کہ مرحوم ابا بنفسِ نفیس اپنے بدنی وجود میں تشریف لا کر ان کو موت سے بچائیں گے اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔

11 لوگوں میں 15 برس کے لڑکے سے لے کر 80 سال کی بزرگ ماں بھی شامل تھی اور جوان لوگوں میں یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ بیٹے بیٹیاں اور بہوئیں بھی شریک تھیں۔

اب پروفیسر رچرڈ فائن (نوبیل انعام یافتہ ماہرِ طبیعیات) میں ہوتے تو کہتے، ’کیا فائدہ اس تعلیم کا جو دماغ کا استعمال کرتے ہوئے کوئی سوال نہ اٹھائے، سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ نہ پوچھے کہ بڑے بھائی! چچا جانی! ایسا کیسے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیٹ فلکس پہ ’ہاؤس آف سیکرٹس، براری فیملی‘ نامی سیریز میں ساری تفصیل دیکھی جا سکتی ہے اور اگر سمجھنے کو جی چاہے تو غور بھی کیا جا سکتا ہے۔ ویسے زیادہ غور نہ بھی کریں تو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اس فیملی کلٹ سے باہر بھی آج کی دنیا میں بہت سے ’اہلِ یقین‘ اپنے اپنے ’للیت‘ کو رہنما مانتے ہوے اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کو سراپا خیر اور اس کے مخالفین کو سراپا شر، صرف کہتے ہی نہیں صدقِ دل سے مانتے بھی ہیں۔

نفسیات کے ماہرین اسے Shared Delusional Disorder سے تعبیر کرتے ہیں جس میں کسی ایک مریض کے غیبی دماغی خیالات کے وائرس، دوسروں کو بھی سرعت سے لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور اس سے پہلے کہ نئے مریضوں کو خبر ہو، علامات پھیل چکی ہوتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وائرس کو دوسرے تک منتقل ہونے میں فاصلے کی کوئی قید نہیں ہوتی، یہ دماغی وائرس کا خیالی میزائل ہزاروں کلومیٹر دور تک بھی کاری وار کرسکتا ہے

اور سوچیے کہ اگر یہ اجتماعی فریب اتنا پھیل جائے کہ پر یقین فرقہ والوں کو اختلاف کرنے والا ہر شخص جھوٹا، جاہل، کافر، غدار اور بد ترین دشمن نظر آنے لگے تو پھر چارہ گر اس کو مکمل تو نہیں تقریباً لاعلاج ضرور قرار دے دیتے ہیں۔

صفِ دوستاں کو البتہ یہ خبر نہیں پہنچ سکتی کیونکہ ان میں سے اکثر اپنے ’للیت‘ کو بہت پہنچا ہوا سمجھتے ہیں جس کے آس پاس غیر مرئی طاقتیں اس کے آدھے اشارے پر بلکہ کبھی کبھی تو عاقبت نااندیش دشمنوں کو بغیر اشارے کے بھی بھسم کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

 ہم اپنے آس پاس بلکہ اپنے اندر بھی جھانک کر دیکھیں تو ہم سب کسی نہ کسی ایسے ہی عارضے کا شکار ہیں جہاں ہمارا ’للیت‘ وہ لیڈر ہے جو بےعیب ہے، یہاں تک کہ اک وہی ہے جو ہر خوبی میں دھنوان اور باقی سب کنگال۔ اسی کے سر پہ ہما کا سایہ، باقی سب کرگس کے پروں سے بنے تنبو تان کے پھرتے ہیں۔

ہمیں اپنے اپنے کنوؤں سے جتنا نظر آتا ہے، سمجھتے ہیں کہ آسمان اتنا ہی ہے۔ ہمیں اپنی مرضی کے آقا کی غلامی میں بادشاہت کے خوابوں کا خمار نہ ملتا ہو تو حقیقی دنیا پہ ایمان نہ لے آئیں؟

ہمارے دماغی وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اب ہے کوئی معاشرے کی نبض پہ ہاتھ رکھنے والا سائنس دان جو اس وائرس کی ویکسین اپنی لیباریٹری میں تیار کرنے کا ذمہ اٹھائے؟

مبہم سہی لیکن امید تو ہے!

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ