بےانصافیوں کے درمیاں

ہمارے آج کے صحافی، میڈیا والے اور کالم نگاروں کی ترجیحات میں بھی سیاست، اور سیاست اور پھر سیاست کے علاوہ کچھ نہیں۔ معاشرے کی بہتری کے لیے صرف 24 گھنٹے کے چینل پہ وقت کہاں بچتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ سو گنہگار چھوٹ جائیں لیکن ایک بے گناہ کو سزا نہ ملے۔ عملی تصویر اس کے مطابق کیوں نہیں؟ (تصویر: پیکسلز)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے

 

ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے ساتھ انصاف ہونا مشکل ترین فیصلوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ ہجوم کا چہرہ نہیں ہوتا۔ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چہرہ شناسی قدرے آسان ہو چکی ہے لیکن جہاں صرف وحشت کے رنگ اور مصلحت کے نقش نمایاں ہوں تو وہاں ؎ اقربا میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر؟

خیر ہم نے ہجوم کی نفسیات پہ ذکر چھیڑا تو بات گہری اور لمبی ہوتی جائے گی، لہٰذا انفرادی جرائم کی طرف چلتے ہیں، جہاں صورتِ حال بلکہ صورتِ ماضی، زیادہ ٹیڑھی اور چال کسی اور رخ سے بےڈھنگی ہے۔

ہم میں سے کس نے ایسے واقعات نہیں پڑھے یا سنے جس میں کسی بے گناہ کو ناکردہ جرم کی سزا کے طور پہ قید کر دیا جاتا ہے اور جب تک وہ یہ ثابت کر پائے کہ وہ بے قصور ہے اس کی عمر کا بے مول حصہ جیل کی نذر ہو چکا ہوتا ہے۔

وہ بھی اگر وہ ملزم اتنا خوش قسمت ہو کہ اس کے گھر والے مستقل بنیادوں پر اس نظام کے پیڑ کو پانی یعنی پیسہ فراہم کرنے کی ہمت اور حوصلہ رکھتے ہوں۔ ورنہ بعضے بعضے تو زندگی کی بازی قید و بند کی درد ناک سختیوں کے آگے ہار جاتے ہیں اور ان کے لواحقین کو خبر بھی نہیں ہو پاتی کہ واقعی اصلی مجرم کون تھا۔

البتہ چند خوش نصیب روحیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی عالمِ قید سے عالمِ عدم کو پرواز کے کئی سال بعد اعلان ہو جاتا ہے کہ ملزم پر جرم ثابت نہیں کیا جا سکا لہٰذا اسے باعزت بری کیا جاتا ہے۔ یقیناً فرشتے اسے مبارک باد کے ساتھ یہ خبر پہنچاتے ہوں گے۔

ہزاروں بلکہ لاکھوں واقعات میں سے ایک سچا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک غریب دیہاتی آدمی کی پہلی شادی سے اولاد نہیں ہوتی اور وہ دوسری شادی کر لیتا ہے جس سے اس کے بچے بھی ہو جاتے ہیں۔ پہلی بیوی کو طلاق کا رنج لازمی ہو گا اور وہ دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لیتی ہے۔ ایک افسوسناک واقعہ اسے یہ موقع فراہم کرتا ہے جب پہلی عورت کا بھانجا قتل ہو جاتا ہے۔ وہ عورت اس قتل کی عینی گواہ بن کر اپنے سابقہ شوہر پہ قتل کا الزام لگا کر گرفتار کروا دیتی ہے۔

یہ ثابت کرتے کرتے کہ وہ بے گناہ ہے اور قاتل کوئی اور ہے، دس سال لگ جاتے ہیں اور اس دوران ڈھور ڈنگر اور بیوی کے گہنے لتّے سے لے گھر کے برتن بھانڈے تک بک جاتے ہیں۔ بچوں پہ کیا گزری ہو گی یہ سمجھنے کے لیے ارسطو کا دماغ نہیں بلکہ ایک حساس دل ہی کافی ہے۔ بہرحال ایک دہائی کے بعد کیسا دھلا دھلایا فیصلہ آتا ہے کہ استغاثہ جُرم ثابت نہیں کر سکا لہٰذا ملزم کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔

ایسے موقعے پہ اگر سمجھ میں نہ آئے کہ رویا جائے یا غصہ کیا جائے تو پھر لطیفے والے ملزم کو یاد کریں، جس نے ایسا ہی ایک فیصلہ سن کر کہا تھا کہ ’عزت مآب، جو مدت میں نے بے گناہ ہوتے ہوئے بھی دورانِ سماعت و کارروائی جیل میں گزاری ہے اس کے بدلے میں اب کوئی چھوٹا موٹا جرم کر لوں؟‘

کہا جاتا ہے کہ سو گنہگار چھوٹ جائیں لیکن ایک بے گناہ کو سزا نہ ملے۔ عملی تصویر اس کے مطابق کیوں نہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہتے ہیں کہ قانون اندھا ہوتا ہے۔ عدالت کی تصویر دکھانی ہو تو دنیا کے بہت سے خطوں میں اس کی علامت، ایک ہاتھ میں سیدھا ترازو تھامے، آنکھوں پہ پٹی باندھے ایک انسانی جسم دکھایا جاتا ہے۔ لیکن غور سے دیکھیں تو اس کے دوسرے ہاتھ میں تلوار بھی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ تلوار کاٹتی کس کو ہے؟

پولیس، عدالت اور جیل، تین ایسے ادارے یا نظام ہیں جن میں مستقل بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ فوج داری، عائلی اور دیوانی قوانین میں مسلسل تبدیلی، پولیس کے ادارے میں وسیع پیمانے پر اصلاحی پروگرام، عدالتوں میں سستا اور فوری انصاف یہ سب باتیں، باتیں ہی رہی ہیں اور باتوں کا کیا؟

ہر آن پہلو بدلتی زندگی کا سامنا جامد قوانین نہیں کر سکتے، وہ یقیناً بدلتے بھی رہتے ہیں لیکن عمل درآمد کے لیے نظام میں بہتری کی رفتار تسلی بخش نہیں۔

25 سال ہونے کو آئے ہمارے آج کے وزیرِاعظم عمران خان نے سیاسی پارٹی بنانے کا سوچا تو اس کا نام ’پاکستان تحریکِ انصاف‘ رکھا۔ سوچا جائے تو یہ نام ملک کی پہلے سے قائم سیاسی پارٹیوں سے بالکل مختلف تھا۔

اور یہ محض نام نہیں بلکہ ان کی سوچ اور منصوبہ بندی کے عین مطابق تھا۔ بہت سے انٹرویوز میں انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں انصاف کا نظام بہتر کرنا چاہتے ہیں، اگر نچلی سطح پر عام لوگوں کو انصاف ملنے لگے تو معاشرے میں جرائم کی شرح بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی۔

خوش فہم عوام نے اعتبار بھی کیا۔ ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں ترجیحات بدلتی رہیں، انصاف کہیں پیچھے رہ گیا۔ اس دوران درجنوں جرائم کے ایسے واقعات ہوئے جن کا چرچا میڈیا پر ہوتا رہا لیکن انصاف کی حالت وہی رہی جو 75 سال سے ہے۔

سیاسی جماعتیں جب اپنا منشور لے کر انتخابی میدان میں اترتی ہیں تو کامیاب ہونے والی جماعتیں منشور کے نمایاں نکات پسِ پشت ڈال دیتی ہیں، چاہے وہ انصاف کی فراہمی کا وعدہ ہو یا روٹی کپڑا اور مکان کا، عوام ہمیشہ خسارے میں ہی رہتے ہیں۔

ہمارے آج کے صحافی، میڈیا والے اور کالم نگاروں کی ترجیحات میں بھی سیاست، اور سیاست اور پھر سیاست کے علاوہ کچھ نہیں۔ معاشرے کی بہتری کے لیے صرف 24 گھنٹے کے چینل پہ وقت کہاں بچتا ہے؟

ہے کوئی جو انصاف سے وقت کو تقسیم کرکے بےانصافیوں پہ بات کرے؟


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ