کیا سیاست میں بدزبانی پہلے کبھی نہیں تھی؟

ہماری خواہش ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت پریس کانفرنس کرے تو اس میں لکھنو اور دہلی کی دھلی ہوئی زبان استعمال کرے اور ساتھ میں جا بجا غالب کے شعروں کا تڑکا لگائے۔

 حالیہ دنوں میں عمران خان کی جانب سے حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف سخت زبان کے استعمال پر تنقید کی گئی ہے (عمران خان فیس بک پیج) 

دو باتوں کا آج کل ہمیں بہت خمار چڑھا ہوا ہے، ایک اخلاقیات اور دوسرے زباندانی۔ پہلے زبان کی بات کرتے ہیں۔

کچھ عرصے سے سیاست میں شائستہ زبان استعمال کرنے پر یوں زور دیا جا رہا ہے جیسے اس سے پہلے سیاست دان اردوئے معلیٰ میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ نئی نسل کے ’کووڈ گریجویٹس‘ کو شاید اردوئے معلیٰ کے بارے میں علم نہ ہو تو ان کی آسانی کے لیے عرض ہے کہ یہ وہ خالص اور شائستہ زبان تھی جو بہادر شاہ ظفر کے زمانے تک دہلی کے قلعے اور آس پاس کے علاقے میں بولی جاتی تھی۔

ممکن ہے کچھ لوگ اس بات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے دلیل دیں کہ اردوئے معلیٰ نہ سہی مگر سیاست میں بہرحال شرفا کی زبان استعمال کی جاتی تھی اور اس طرح گالم گلوچ کا چلن عام نہیں تھا۔

چلیے اسی بات کو درست مان لیتے ہیں۔ مگر یوں لگتا ہے جیسے ہمیں اپنی اخلاقیات اور زبان دانی کے بارے میں کچھ زیادہ ہی خوش فہمی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت پریس کانفرنس کرے تو اس میں لکھنو اور دہلی کی دھلی ہوئی زبان استعمال کرے اور ساتھ میں جا بجا غالب کے شعروں کا تڑکا لگائے۔ مثلاً اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ فلاں سیاسی گروپ کی حمایت کا دعویٰ تو کر رہے ہیں مگر اس گروپ نے تو تا حال کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا، اس پر آپ کیا کہیں گے؟

تو جواب میں وہ سیاست دان جواب دے کہ ہمارے اتحادیوں کو چاہیے کہ

غنچہ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے دکھا کہ یوں

اور اگر یہی سوال ان کے مخالفین سے پوچھا جائے کہ جناب والا آپ جن جماعتوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ان کے لوگ عین وقت پر اگر اپنے وعدے سے مکر گئے تو انہیں آپ کیا کہیں گے۔

اس پر صحافی کو اسی غزل کے اس شعر میں جواب دیا جائے کہ

رات کے وقت مے پیےساتھ رقیب کو لیے
آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور صرف سیاست دان ہی کیوں، صحافیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ٹی وی پروگراموں میں ایسی ہی شعری زبان میں گفتگو کیا کریں۔ مثلاً اگر وہ کسی سے یہ سوال کرنا چاہیں کہ حضرت آپ کچھ عرصہ پہلے تک تو زیر عتاب تھے، اب یکایک آپ پر یہ مہربانیاں کیوں کی جا رہی ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ

آستین میں دشنہ پنہاں ہو اور ہاتھ میں نشتر کھلا؟

تو جواب میں وہ رہنما شرما کر غالب کا یہ شعر پڑھ دے کہ

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

ظاہر ہے کہ یہ سب ہماری خواہش تو ہو سکتی ہے، حقیقت میں اس قسم کی گفتگو کا کوئی امکان نہیں۔ اب تو آپ کسی کو سادہ سا شعر ہی سنا دیں جس میں رقیب کا ذکر ہو تو سننے والی کہتی ہے ’رقیب؟

 ?You mean the other guy who is a friend of the beloved, or a friend of the lover or his competitor, or what

زباندانی کے ساتھ ساتھ اخلاقیات پر بھی ہمارا بہت زور ہے۔ آج کل اکثر ٹاک شوز میں بڑی شد و مد کے ساتھ یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ اخلاقیات کا دیوالیہ نکل چکا ہے اور اب سیاسی جماعتیں فقط اپنا مفاد دیکھتی ہیں۔

سچی بات ہے کہ اس اعتراض کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی۔ ہم سب انسان اپنی ذاتی زندگیوں میں اٹھتے بیٹھتے ذاتی مفاد ہی سوچتے ہیں۔ میں اپنے چھوٹے بیٹے حارث سے جب پوچھتا ہوں کہ کیا تم میرے ساتھ بازار تک چلو گے تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ اس میں میرا کیا فائدہ ہو گا؟

یہ بات انسانی سرشت میں شامل ہے کہ اس نے اپنے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔ دنیا بھر میں جمہوری نظام اسی جبلت کو سامنے رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ کسی زمانے میں ہم سمجھتے تھے کہ اگر سب لوگ ذمہ داری سے اپنا اپنا کام کرنے لگیں تو ملک خود بخود ٹھیک ہو جائے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ نہ تاریخ میں کبھی ایسا ہوا اور نہ آئندہ ہو گا۔ جمہوری نظام کی خوبصورتی ہی اسی میں ہے کہ وہ انسانوں کی ذاتی مفاد کی خواہش کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص محض عوام کی خدمت کرنے کے لیے نہیں آتا، طاقت اور اختیار کا لالچ اسے عوام کی خدمت پر مجبور کرتا ہے۔

ہم اس لالچ کو لاکھ برا بھلا کہیں مگر اس سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ جن مغربی ممالک کی ہم مثالیں دیتے ہیں وہاں بھی سیاست دان اسی اختیار، اقتدار اور طاقت کے حصول کے لیے تمام تر کوششیں کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہاں کے حکمرانوں میں سادگی ہے، وہ پر شکوہ محلات میں نہیں رہتے، ان پر بدعنوانی کے الزامات بھی کم ہی لگتے ہیں، مگر وہ تمام سیاست دان ہی ہیں جو بہرحال اپنے مفاد کی سیاست ہی کرتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب نے ذاتی مفاد ہی دیکھنا ہے تو پھر عوام کی فلاح و بہبود کا کون سوچے گا؟ اس سوال کا جواب جمہوری نظام میں ہے۔ عوام کی فلاح دراصل جمہوریت کا by-product ہے۔

جب کوئی سیاست دان انتخاب لڑتا ہے تو لا محالہ اسے اپنے حلقے کے لوگو ں کے لیے کام کرنے پڑتے ہیں، وہ سکول، اسپتال، سڑکیں اور پل تعمیر کرواتا ہے، وہ یہ سب کچھ اس لیے نہیں کرتا کہ وہ بچپن سے یہ کرنا چاہتا تھا، بلکہ وہ ذاتی مفاد کے تابع ہو کر یہ کام کرتا ہے، اس کا ذاتی مفاد اس بات میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ اگر وہ عوام کے کام کرے گا تو عوام میں مقبولیت بڑھے گی اور یوں وہ ضلع کونسل کی سیاست سے حلقے تک اور پھر حلقے سے وزارت تک پہنچے گے۔ لیکن ہم نے اخلاقیات کی دہائی دے دے کر اس جمہوری عمل کو ہی قابل نفرت بنادیا ہے جیسے اپنا مفاد دیکھنا کوئی ایسی بات ہے جو کسی انسان کو زیب نہیں دیتی۔

معافی چاہتا ہوں بات کچھ سنجیدہ ہو گئی۔ میرا ارادہ تو یہ تھا کہ لوگوں کو اردوئے معلیٰ میں بات کرنے کی ترغیب دوں مگر کیا کریں

ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے باد ہ و ساغر کہے بغیر

میں نے یہ شعر ایک ابھرتے ہوئے نوجوان کو سنایا تو اس نے برا سا منہ بنا کر جواب دیا کہ اگر بادہ و ساغر سامنے رکھ کر بھی مشاہدہ حق کی گفتگو ہی کرنی ہے تو کیا فائدہ! اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اخلاقیات اور زباندانی میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ