یوکرین جنگ نے ہر کسی کو عالمی امور کا ماہر بنا دیا

پچھلے ایک ہفتے کے اخبار پڑھیں، آپ کی ملاقات ایسے ایسے ’ایکسپورٹ کوالٹی‘ کالم نگاروں سے ہو گی جنہیں باہر بھیج کر قیمتی زرِ مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

یوکرینی فوجی روس کی 27 فروری 2022 کو تباہ ہونے والی آئی ایم وی کا معائنہ کر رہا ہے (تصویر: اے ایف پی)

ہم لوگ اکثر اپنی بے نوری پر روتے ہیں کہ یہاں کوئی دیدہ ور پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اپنے یہاں تو دیدہ وروں کی ایسی بہتات ہے کہ ان پر ’ایکسپورٹ کوالٹی‘ کا لیبل لگا کر ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

آپ کوئی اینٹ اکھاڑ کر دیکھ لیں، نیچے سے ایک دیدہ ور نکلے گا اور اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو پچھلے ایک ہفتے کے اخبارات کا مطالعہ کریں، کالم نگاروں کی شکل میں آپ کا تعارف ایسی ایسی نابغہ روزگار شخصیات سے ہو گا کہ آپ بے ساختہ پکار اٹھیں گے کہ ’صاحب پرے پرے۔‘ مثلاً آج صبح میں نے تقریباً نصف درجن اخبارات میں شائع ہونے والے کالم دیکھے، یقین مانیں پڑھ کر میری روح اِس قدر خوش ہوئی کہ قفس عنصری سے ہی پرواز کرنے لگی تھی، بدقت تمام اسے قابو کیا۔

90 فیصد کالم روس یوکرین جنگ کے موضوع پر تھے اور لکھنے والوں نے، خدا انہیں سلامت رکھے، ایسی قطعیت سے بات کی تھی کہ لگتا تھا عالمی امور پر ان سے بڑا ماہر اس بھری دنیا میں کوئی نہیں۔

میں جب بھی ایسے کالم پڑھتا ہوں تو اپنی کم مائیگی کا شدید احساس ہوتا ہے اور میں خدا سے شکوہ کرتا ہوں کہ باری تعالیٰ تو نے ایسے ایسے لوگوں کو ہر فن مولا بنایا ہے کہ جنہیں دیکھ کر رشک آتا ہے، آخر مجھے اس قدر نالائق کیوں پیدا کیا، کیا تیرا بگڑتا جو میں ہوتا کچھ قابل اور!

سکنجبین بنانے کی ترکیب سے لے کر روس کی تاریخ یاد رکھنے تک، سب کچھ ان بزرجمہروں کی فنگر ٹپس پر ہے۔ میں ان لوگوں سے دل ہی دل میں بہت متاثر ہوں اور سوچتا ہوں کاش میں بھی ایسی چابکدستی کے ساتھ دنیا کے ہر موضوع پر دو ٹوک انداز میں لکھ سکتا۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ پر نہ جانے کیوں کچھ مفسدانہ خیالات بھی میرے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً روس یوکرین جنگ کو ہی لے لیں، آج سے دو ماہ پہلے کسی نے اشارتاً بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ خطے میں ایک نئی جنگ چھڑنے والی ہے جس کے خطرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے۔ لیکن گذشتہ ایک ہفتے سے ہر بندہ روس اور نیٹو کی باہمی چپقلش کے بارے میں یوں تبصرہ کر رہا ہے جیسے وہ ولادی میر پوتن کا اتالیق ہو اور اچھی طرح جانتا ہو کہ پوتن کیا کرے گا۔

اسی طرح میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ وہ لوگ جو صرف ملکی سیاست پرلکھتے تھے اور جنہوں نے آج سے پہلے عالمی امور پر کوئی تحریر نہیں لکھی تھی، وہ یکایک پیچیدہ عالمی معاملات پر اِس قدر فصاحت و بلاغت کے ساتھ کیوں کر لکھنے لگے؟ اِس طرح کے اور بھی بہت سے سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن پھر میں اِن باتوں کو یہ کہہ کر اپنے دماغ سے جھٹک دیتا ہوں کہ بیٹا ’محنت کر، حسد نہ کر!‘

میں نے اس کالمانہ احساس کمتری کا ذکر اپنے مُربّی سے کیا تو انہوں نے مجھ کچھ ٹوٹکے بتائے۔ جو لوگ میرے مُربّی کے بارے میں نہیں جانتے ان کے لیے عرض ہے کہ مُربّی ایک زمانے میں مربّے بنانے کا کام کرتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اطمینان سے میری بات سنی اور پھر مجھے جومشورہ دیا وہ بالکل سامنے کی بات تھی جو مجھے نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔ مثلاً میں نے مربّی سے پوچھا کہ میرا بھی دل کرتا ہے کہ روس یوکرین کی جنگ پر کچھ لکھوں پر میں نے اِس سے پہلے کبھی روس کی سیاست پر نظر ہی نہیں رکھی تو اب اچانک کالم کیسے لکھ ماروں؟

اس پر مربّی نے یہ لطیف نکتہ سمجھایا کہ پہلے تو یہ بات اپنے دماغ سے نکال دو کہ کسی موضوع پر لکھنے کے لیے اُس موضوع کا ماہر ہونا ضروری ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ انٹر نیٹ پر ہر قسم کا مواد آسانی سے مل جاتا ہے لہذا جو بھی موضوع ہو اس کے متعلق حقائق انٹر نیٹ سے جمع کرو اور آخر میں دو چار سطریں اپنی طرف سے ڈال دو کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، یہ لاکھوں افراد کو بے گھر کر دے گی، پاکستان کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ بس، بن گیا کالم۔

میں نے کہا، ’مربّی، وہ تو ٹھیک ہے مگر آج کل قاری بہت سیانے ہو گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں تو انٹر نیٹ کے ذریعے ہمیں بھی معلوم ہیں، آپ کا تجزیہ کیا ہے؟‘

مربّی نے اس مسئلے کا حل بھی بتایا کہ انٹر نیٹ اندھا دھند استعمال نہیں کرنا بلکہ نہایت چالاکی کے ساتھ وہ مواد تلاش کرنا ہے جسے عام قاری نہیں پڑھتا۔

مثلاً کل مجھے کسی نے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی تقریر کا وہ کلپ بھیجا جس میں وہ امریکہ کو لتاڑتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ روسی صدر بے شک ایک نمبر کا جھوٹا ہے مگر ہم امریکی بھی کم نہیں، ہم نے بھی اپنی قومی سلامتی پالیسی کی آڑ میں کئی مرتبہ دنیا کوجنگ میں دھکیلا، جس طرح 1962میں سوویت یونین نے کیوبا میں ایٹمی میزائل تنصیب کیے اور اسے ہم نے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا اورایٹمی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی، اسی طرح آج روس یہ سمجھتا ہے کہ یوکرین کو نیٹو کا رکن بنانے کا مطلب اس کے گھر کے پچھواڑے میں میزائل نصب کرنا ہے جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

مربّی نے کہا کہ میں یہ کلپ تمہیں بھیج دیتا ہوں، تم اس کے گرد اپنا کالم بن لو۔ یہ دو دن پہلے کی بات تھی۔ میں نے وہ کلپ ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ باتیں تو میں نے پہلے بھی کہیں پڑھی ہیں۔ فوراً اس دن کے اخبارات کھنگالے، آخر ایک کالم پر نظر پڑ گئی، من و عن وہی تجزیہ تھا جو برنی سینڈرز نے اپنی تقریر میں کیا تھا۔

لیکن کالم نگار بھی بیچارے کیا کریں، حالات حاضرہ پر کالم باندھنا اِن کی مجبوری ہے۔ اگر پوری دنیا روس اور یوکرین کی جنگ سے متاثر ہو رہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے کالم نگار اِس موضوع کو نظر انداز کرکے امریکن سُنڈی کی تباہ کاریوں پر کالم لکھیں؟ آخر ہمارا بھی کوئی سٹینڈرڈ ہے۔

میرے حقیقی استاد اور مرشد عارف وقار صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ جب وہ ایف اے میں پڑھتے تھے تو پہلی جماعت کے بچے کو اردو کی ٹیوشن بھی پڑھایا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا امریکہ نے ویت نام پر چڑھائی کر رکھی تھی۔

عارف صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس بچے کو بتایا کہ کس طرح امریکہ ویت نام پر ظلم کر رہا ہے اور نہتے شہریوں پر بم برسا رہا ہے۔ چند دن تک میں اس بچے کو یہ باتیں سمجھاتا رہا، پھر ایک دن میں نے اُس سے پوچھا کہ ’بھلا بتاؤ امریکہ اور ویت نام میں سےتم کس کو ظالم اور کس کو مظلوم سمجھتے ہو؟‘

بچے نے جواب دیا، ’آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ ان میں سے مسلمان کون ہے؟‘

آج کل ہمارا حال بھی اس بچے جیسا ہی ہے، ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ روس، یوکرین، نیٹو اور امریکہ میں سے کس کی مخالفت کریں، ہمیں کسی نے یہ تو بتایا ہی نہیں ان میں سے مسلمان کون ہے!

جس روز انٹر نیٹ پر اس سوال کا جواب مل جائے گا، اس روز ہمارا تجزیہ بھی مکمل ہو جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر