میری پوسٹ، میری مرضی

 پوسٹ لکھنے والا ایسے دباؤ میں آجاتا ہے کہ یہ تک پوچھنا بھول جاتا ہے کہ ان سب پہ ڈاکے اور قتل کا جرم ثابت کرنے اور سزائیں دینے کے لیے قانون اور عدالتیں موجود ہیں یا نہیں؟

سوشل میڈیا پر اختلاف رائے ہونا چاہیے کیونکہ اسی سے ڈائیلاگ کی راہ ہموار ہوتی ہے (تصویر: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


پچھلے کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ایک عجیب رحجان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کہیں کوئی بُرا واقعہ یا بڑا سانحہ رونما ہوتا ہے اور کوئی حساس انسان اس کی مذمت کرتا ہے، کسی شعر کے ذریعے، کوئی نظم کہہ کر، کوئی مثال دے کر یا اپنے ذاتی الفاظ میں دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فیس بک پر یا ٹویٹر پر پوسٹ لگاتا ہے تو اس پر چند مناسب تبصروں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا منفی ردعمل بھی سامنے آتا ہے کہ طبیعت بیزار ہو جاتی ہے۔

ایک حالیہ واقعے میں سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں ایک انسان کو زندہ جلا دیا گیا۔ آپ نے احساس کی شدت سے مغلوب ہو کر نوحہ لکھ دیا۔ کچھ اس طرح کے جواب آئے کہ اس واقعے کے ساتھ ساتھ ان ہی دنوں فیصل آباد کی خواتین کے ساتھ ایک گھناؤنا واقعہ ہوا تھا آپ نے اس پر کیوں نہیں لکھا وہ تو اس سے بھی بڑا سانحہ تھا۔

کچھ سال پہلے سیالکوٹ میں دو نوجوان بھائیوں کو مشتعل ہجوم نے بدترین تشدد کر کے لوتھڑوں میں تبدیل کر دیا۔ آپ نے جذبات سے مغلوب ہو کر مذمت کر ڈالی۔ پوسٹ پہ کچھ ایسا پڑھنے کو ملا۔ ’وہ تو ڈاکو تھے، وہ قتل کر کے بھاگے تھے، آپ نے اس قتل کی مذمت کیوں نہیں کی۔‘

 پوسٹ لکھنے والا ایسے دباؤ میں آجاتا ہے کہ یہ تک پوچھنا بھول جاتا ہے کہ ان سب پہ ڈاکے اور قتل کا جرم ثابت کرنے اور سزائیں دینے کے لیے قانون اور عدالتیں موجود ہیں یا نہیں؟

مردان یونی ورسٹی میں مشال خان کو بے قابو ہجوم نے ایسے مارا کہ اس کی ماں کو چومنے کے لیے ہاتھ کی ہڈیاں تک سلامت نہ ملیں۔ آپ مقتول کے روتے ہوئے ماں باپ سے ہمدردی کی پوسٹ لگا کر دیکھیں، کیسے کیسے پتھر پڑیں گے — وہ تو توہین مذہب کا ملزم تھا (جو بعد کی تحقیق سے غلط بھی ثابت ہو جاتا ہے) لیکن ہجوم نے وہیں عدالت لگا کے وہیں فیصلہ سنا کر عمل بھی کر دیا۔

یہ ردعمل تو سب پہ بھاری ہے کہ چونکہ عدالتیں توہین مذہب کے مرتکب افراد کو سزا نہیں دیتیں اس لیے لوگوں کو وہیں عدالتیں لگا کر فوری فیصلہ اور عمل درآمد کرنا پڑتا ہے۔

کراچی میں ایک لڑکا اجرت مانگنے کے جرم میں تڑپا تڑپا کر مار دیا جاتا ہے۔ اس پہ کچھ ہمدردی بھری پوسٹ لگا کر آپ جائیں کہاں۔ ایسا جواب آئے گا کہ ’موبائل چور تھا۔ دوسروں کو نصیحت ہوگی‘ یعنی یوں ہی محض الزام لگانا شرط ہے باقی کام ہجوم کا۔

ساہیوال میں ایک خاندان کو گولیوں سے بھون دیا جائے اور آپ سوشل میڈیا پہ احتجاج کریں تو جوابی وار ہوگا کہ ’کچھ کیا ہوگا جبھی مارے گئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب چلیں بین الاقوامی صورت حال کی جانب۔ فرانس میں یا نیوزی لینڈ میں دھماکہ ہو گیا آپ دہشت گردی کی مذمت اور مرنے والوں کے خاندان سے ہمدردی کرنا چاہتے ہیں تو طنز کے تیر کھانے کو تیار رہیں۔

یمن کے بچے جنگ میں مارے جائیں، آپ کچھ کہہ کر تو دیکھیں کئی لوگ میدان میں آجائیں گے۔ آپ نے آسام میں کچلے جانے والے کسانوں سے ہمدردی ظاہر کر دی، جواب آئے گا، کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم آپ کو نظر نہیں آتے؟

آپ نے داعش کے کارناموں پہ تشویش کا اظہار کر دیا، لوگ کہیں گے یہ سب عراقی پروپیگینڈا ہے۔ ایران پہ اقتصادی پابندیوں کا ذکر کرنا گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے، سوشل میڈیا پر ایسی جنگ چھڑ جائے گی کہ الامان الحفیظ!

اب کیا کریں؟ اظہار ہمدردی یا قتل کی مذمت کرنے سے پہلے لوگوں سے ایک این او سی حاصل کریں؟

اختلاف رائے ہونا چاہیے کیونکہ اسی سے ڈائیلاگ کی راہ ہموار ہوتی ہے لیکن ظالم اور مظلوم کی جنگ میں آپ کس کے ساتھ ہیں اس سے ہی قوموں کے مزاج کی تاریخ رقم ہوتی ہے۔ کسی بھی سوشل پوسٹ پہ تبصرہ کرنا سب کا حق ہے لیکن قتل کی مذمت اور مقتول کے خاندان سے تعزیت ایک تہذیبی روایت بھی ہے اور احساس کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی۔

اور اگر یہ بات بھی سر سے گزر جائے تو پھر سیدھا سیدھا جواب یہی ہے کہ ’میری پوسٹ، میری مرضی۔‘

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ