کیا آپ کو سوشل میڈیا سے وقفے کی ضرورت ہے؟

فون اٹھائیں اور اس میں موجود سوشل میڈیا ایپس ڈیلیٹ کر دیں یا ہماری طرح اپنے اکاؤنٹس ڈی ایکٹویٹ کر دیں۔ دنیا کہیں نہیں جائے گی۔ پہلے کی طرح چلتی رہے گی۔ آپ کی زندگی میں تھوڑا سکون ضرور آ جائے گا۔

سوشل میڈیا کی الگ ہی دنیا ہے، جعلی اور اصلی کا پتہ ہی نہیں چلتا (پیکسلز)

ہم آج کل سوشل میڈیا ڈیٹوکس پر ہیں۔ ہمارا سوشل میڈیا بند پڑا ہے اور ہم اس سے کہیں دور اپنی حقیقی زندگی میں کافی پیتے ہوئے یہ بلاگ لکھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے ایک عدد ہیش براؤن اور مفن کھا چکے ہیں۔

ہمارا انسٹاگرام چل رہا ہوتا تو ہم اپنے ناشتے کی تصاویر کھانے سے پہلے وہاں اپلوڈ کرتے اور آپ کو یہاں اس کی تفصیلات نہ پڑھنا پڑتیں۔ اب چونکہ ہم سوشل میڈیا سے دور ہیں تو اپنے ناشتے کی خبر یہیں بریک کرنے پر مجبور ہیں۔

سوشل میڈیا ڈیٹوکس سوشل میڈیا سے ایک مخصوص عرصے کی بریک ہے جو لوگ اس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے لیتے ہیں۔

یہ بریک کتنی لمبی ہوگی، اس کا تعین ہر کوئی اپنی ضرورت کے حساب سے کر سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کے لیے ہفتے کی بریک کافی رہتی ہے۔ کچھ لوگ مہینے بھر کے لیے غائب ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ غائب ہونے کے بعد واپس ہی نہیں آتے۔

ہماری بریک بہرحال عارضی ہے۔

ہمیں اس بریک کی ضرورت کا احساس بریک لینے کے بعد ہوا۔ ہمیں کچھ دن سے سوشل میڈیا سے عجیب بے زاری محسوس ہونے لگی تھی۔

وہاں ایک الگ ہی دنیا چل رہی تھی۔ جعلی سی۔ کون اصل میں کیا ہے۔ جاننا ناممکن ہو گیا تھا۔

سب نے اپنی مرضی کی شناخت بنائی ہوئی تھی۔

آدمی عورت بنا ہوا تھا۔

عورت آدمی بنی ہوئی تھی۔

فیس بک پر آدھی عوام ورک ایٹ فیس بک یا آئی ڈونٹ ورک، آئی جسٹ انجوائے کر رہی تھی۔

ہر لڑکی پاپا کی پرنسس تھی اور ہر لڑکا ایٹی ٹیوڈ پرنس تھا۔

جھوٹ بولنے والے کی بائیو میں جھوٹ سے شدید نفرت لکھا ہوا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دھوکے بازوں کی ٹائم لائن پر دھوکے دینے والوں کے خلاف پوسٹیں لکھی ہوئی تھیں۔

مینٹل ہیلتھ پر وہ لوگ بھی دو تین فٹ لمبی پوسٹیں کر رہے تھے جن کی وجہ سے دوسروں کی مینٹل ہیلتھ کا بیڑہ غرق ہوا رہتا ہے۔

انسٹا گرام پر سب چمک رہے تھے۔ کسی نے موئسچرائزر لگا لیا تو جیسے اس کا نیا جنم ہو گیا۔ ہم نے موئسچرائزر کی بوتلیں ختم کر دی۔ اس سے جلد ہی نرم و ملائم ہوئی، ہماری زندگی پہلے کی طرح بے رنگ و بے رونق ہی رہی۔

کوئی ہائکنگ پر چلا گیا تو سال بھر کی تھکن اور پریشانی وہیں چھوڑ آیا۔ ہم پورا بیجنگ گھوم آئے۔ ہماری پریشانیاں ہر جگہ سے ہمارے ساتھ ہی واپس لوٹیں۔

ٹوئٹر پر بشمول ہمارے سب دانشور بنے بیٹھے تھے۔

جب سے سپیس کا فیچر آیا ہے، ہر انسان ہر موضوع کا ایکسپرٹ بنا ایک سپیس سے دوسری سپیس میں گھوم رہا ہے۔

ایک سپیس میں ’جہیز ایک لعنت ہے‘ پر تقریر کی۔ اگلی سپیس میں ’اسلام میں عورتوں کے حقوق‘ پر لیکچر دیا۔ اس سے اگلی سپیس میں انسانی ارتقا پر چار جملے جڑ دیے اور اس سے اگلی سپیس میں شاعر بن کر بیٹھ گئے۔

حد تو تب ہوئی جب کچھ فیمینسٹس نے ملالہ کے نکاح پر خوشی سے بے اختیار ہوتے ہوئے اس کی غائبانہ مہندی اور مایوں کی رسم منانے کا اعلان کیا۔

اس اعلان سے پہلے وہ اس بات پر جلتی کڑھتی رہی ہیں کہ معاشرہ عورت کی شادی کو ہی اس کی پہچان اور اصل کامیابی کیوں سمجھتا ہے۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ملالہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن یا نوبل انعام ملنے پر بھی اتنی ہی خوشی کا اظہار کیا تھا۔

معلوم ہوا اس وقت انہوں نے اسے بس مبارک باد ہی دی تھی۔

جو اس کے نکاح کی تصاویر کو زوم کر کر کے اس کے لباس پر ہوئی کڑھائی کی تفصیلات دیکھ رہے تھے انہیں اس کی کتابوں کے نام تک نہیں معلوم تھے۔

اس کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ بولنا جس قدر آسان ہے اس پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔

اگلے روز ہم نے بغیر کچھ سوچے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈی ایکٹویٹ کر دیے۔

اس کے بعد وہی زندگی ہے۔ وہی صبح شام ہے۔ بس ایک ٹھہراؤ آ گیا ہے۔  ایک ریس ہے جو ختم ہو گئی ہے۔

دن میں کئی بار فیس بک اور ٹوئٹر چیک کرنے کی بے چینی ضرور محسوس ہوتی ہے تاہم وہ بے چینی فون اٹھاتے ہی کہیں غائب ہو جاتی ہے۔

ویک اینڈ پر جیمز بانڈ کی نئی مووی دیکھنے گئے تو بے اختیار جیب سے فون نکال کر انسٹاگرام کے لیے سنیما گھر کی تصاویر بنانے لگے پھر احساس ہونے پر فون واپس جیب میں رکھ دیا۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم ادھر سے ادھر اڑتے پھر رہے ہیں یا کافی پیتے ہوئے ہر گھونٹ میں اس کی تلخی محسوس کر رہے ہیں یا نوالہ چباتے ہوئے دانتوں کی ہر حرکت پر فوکس کر رہے ہیں یا کبھی کچھ ایسا جو نہ کر سکے ہوں کرنے نکل پڑے ہوں۔

وہی زندگی گزار رہے ہیں بس انٹرنیٹ سے اصل دنیا میں منتقل ہو گئے ہیں۔ جہاں موجود ہیں وہاں کے اوقات کے مطابق سو اور جاگ رہے ہیں۔ آس پاس لوگوں سے مل رہے ہیں۔ جن دوستوں سے سالوں سے وقت نہ ہونے کے سبب بات نہیں ہو سکی ان سے بات کر رہے ہیں۔ اور وہ تمام تعلیمی کام جنہیں ہم نہیں کر پا رہے تھے، کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان سے دل اکتائے گا تو واپسی کر لیں گے۔ آج کے دور میں انٹرنیٹ کے بغیر رہنا ناممکن ہے۔ البتہ اس کے استعمال میں توازن ضروری ہے جو ہم نہیں کر پا رہے تھے۔ اب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کب تک کریں گے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔

اگر آپ بھی ہماری طرح اپنا فون بار بار چیک کرتے ہیں اور ایسا نہ کر سکنے پر اپنے اندر بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ یا ہر وقت ایک میکانکی انداز میں اپنی سوشل میڈیا فیڈ سکرول کرتے رہتے ہیں۔ یا ہر رات سونے سے پہلے اور ہر صبح جاگنے کے بعد اپنا فون چیک کرتے اور پھر چیک کرتے ہی رہتے ہیں۔ یا ہر کام کرنے سے پہلے اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور اگر ایسا نہ کر سکنے کی صورت میں اس کام سے بے زاری محسوس کرتے ہیں، تو آپ کو بھی سوشل میڈیا ڈیٹوکس کی ضرورت ہے۔

فون اٹھائیں اور اس میں موجود سوشل میڈیا ایپس ڈیلیٹ کر دیں یا ہماری طرح اپنے اکاؤنٹس ڈی ایکٹویٹ کر دیں۔ دنیا کہیں نہیں جائے گی۔ پہلے کی طرح چلتی رہے گی۔ آپ کی زندگی میں تھوڑا سکون ضرور آ جائے گا۔

خاندان، دوستوں اور دفتر والوں سے رابطے کا بہرحال کوئی نہ کوئی ذریعہ ضرور رکھیں۔ انہیں ایویں کی پریشانی میں نہ ڈالیں۔

جب آپ کو لگے کہ آپ واپس آنے کے لیے تیار ہیں، واپس آ جائیں لیکن ایک منصوبے کے ساتھ۔ سوشل میڈیا کو ایک حد میں استعمال کریں تاکہ آپ کو بار بار اس ڈیٹوکس کی ضرورت نہ محسوس ہو۔ استعمال کے دوران اس کے ورچوئل ہونے کو ذہن میں ضرور رکھیں تاکہ اس کی چکاچوند آپ کو اپنی زندگی کے بے رنگ ہونے کا احساس نہ دلائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ