درخت پر رہنے والے ’کراچی کے ٹارزن‘ سے ملیے

سندھ کے ضلع شکارپور کی تحصیل خان پور کے گاؤں میاں جو گوٹھ سے تعلق رکھنے والے فرمان آٹھ سال قبل اچھی نوکری کی تلاش میں کراچی آئے تھے، مگر اب تک کوئی اچھی نوکری نہیں مل سکی۔ 

کراچی کے علاقے عزیز آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے سابق ہیڈکوارٹر نائن زیرو سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کوہ نور فیملی پارک کے آس پاس کی گلیوں میں خاموشی ہے۔ قریب ہی دو ٹھیلے والے لاؤڈ سپیکر پر اپنی اشیا کی خصوصیات گنوا رہے ہیں۔

اتنے میں کوہ نور پارک کے اندر ایک کونے میں لگے تناور درخت کے اوپر بنی لکڑی کی ایک جھوپڑی سے ایک نوجوان رسی کو پکڑ کر ٹارزن کی طرح درخت سے نیچے پہنچ جاتا ہے۔ 

یہ نوجوان فرمان علی ہے۔ سندھ کے ضلع شکارپور کی تحصیل خان پور کے گاؤں میاں جو گوٹھ سے تعلق رکھنے والے فرمان آٹھ سال قبل اچھی نوکری کی تلاش میں کراچی آئے تھے، مگر اب تک کوئی اچھی ملازمت نہیں مل سکی۔ 

جب فرمان سے درخت کے اوپر رہنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا: ’اس وقت میرے پاس رہنے کے لیے گھر نہیں تھا، تو میں اس درخت کے نیچے لیٹ جاتا تھا۔ کبھی کبھی درخت کے اوپر بھی چڑھ جاتا تھا تو اس طرح خیال آیا کہ کیوں نہ میں درخت کے اوپر ہی گھر بنالوں۔‘

فرمان نے مزید بتایا: ’میں کچرا کنڈی سے لکڑیاں اٹھاکر لایا، ٹوٹے ہوئے دروازے اور تختے جمع کرکے تقریباً تین ہفتوں میں یہ گھر تعمیر کیا۔ اب میں اس گھر میں رہتا ہوں۔‘

’کچھ لوگ مجھے کراچی کا ’ٹری مین‘ کہتے ہیں، تو کچھ لوگ ’کراچی کا ٹارزن‘ کہتے ہیں۔ کبھی کبھی بچے کہتے ہیں کہ یہ دیکھو درخت پر رہنے والا بندر، مگر مجھے برا نہیں لگتا اور مجھے اس گھر میں سکون ملتا ہے۔‘

تاہم یہ سکون انہیں ہر وقت دستیاب نہیں ہوتا، کیونکہ بقول فرمان سخت گرمی اور بارش میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا: ’میرے حالات بہت مشکل ہیں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ مجھے ایک گھر دیا جائے تاکہ میں اپنی زندگی آرام سے گزار سکوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی