منصوبے کی نگران ڈاکٹر یاسمین لاری کے مطابق: ’یہ صرف ایک عمارت کی بحالی نہیں بلکہ کراچی کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔‘
سندھ کے مینگرووز، پانی، زراعت اور توانائی کے وسائل اب صرف ماحولیاتی تحفظ کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ صوبے کے لیے کاربن کریدٹس کی شکل میں اربوں ڈالر کی ممکنہ آمدن کا راستہ بھی بن سکتے ہیں۔