\
حسنین جمال
اسلام آباد
بلاگ

بیٹیاں ہمارا فخر نہیں ہیں

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی طوطے کا پنجرہ کھول دیں اور وہ نہ اڑے، ہمارا ہاتھ پہ آ کے بیٹھ جائے، دانہ چگتا رہے، ہماری شکل دیکھتا رہے، ہم سے باتیں کرتا رہے، تو ہم اس کے ساتھ ایک تصویر لگا دیں اور لکھ دیں کہ ’مجھے میرے طوطے پہ فخر ہے۔‘

تین تالے لگا کے بھی ہم لوگ محفوظ کیوں نہیں؟

لوہے کے بڑے بڑے گیٹ، ہر گلی محلے کے چوکیدار، بلکہ اب تو سکیورٹی گارڈ، دیواروں پہ لگی کانٹے دار تاریں، ایک ایک دروازے پہ تین تین چٹخنیاں، یہ سب کر کے بھی جس اگلی رات کی صبح ہو جاتی ہے تو بندہ اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہے۔