حکومت کو سودی نظام ختم کرنے کے لیے پانچ سال کی مہلت

وفاقی شرعی عدالت نے پاكستان میں سودی نظام سے متعلق 19 سال سے زیر سماعت درخواستوں پر فیصلہ سنایا، جس میں یكم جون 2022 سے سود یا ربا كے خاتمے كا حكم دیا گیا ہے۔

28 اپریل 2004 کی اس تصویر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع وفاقی شریعت کورٹ کی عمارت کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

پاكستان كی وفاقی شریعت کورٹ نے جمعرات كو وفاقی حكومت كو پانچ سال كے عرصے میں ملک میں سود كے مکمل خاتمے اور ربا سے پاک بینكاری نظام نافذ كرنے كا حكم دیا ہے۔ 

وفاقی شرعی عدالت نے پاكستان میں سودی نظام سے متعلق 19 سال سے زیر سماعت درخواستوں پر فیصلہ سنایا، جس میں یكم جون 2022 سے سود یا ربا كے خاتمے كا حكم دیا گیا ہے۔ 

وفاقی شرعی عدالت پاکستان کی ایک آئینی عدالت ہے جو ملكی قوانین كا اسلامی شریعت كے مطابق ہونے كا تعین كرنے كا اختیار ركھتی ہے۔ 

سال 1992 میں وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں سودی نظام كے خاتمے كا حكم دیا تھا جسے بعد میں سپریم كورٹ آف پاكستان میں چیلنج كیا گیا۔ 

بعدازاں عدالت عالیہ نے 2002 میں اس فیصلے کو دوبارہ غور و خوص كی غرض سے وفاقی شرعی عدالت كو واپس بھیجا تھا۔ 

سودی نظام سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ جمعرات كی صبح جسٹس سید محمد انور نے سنایا۔ 

فیصلے میں كہا گیا  كہ ’1839 سے نافذالعمل انٹرسٹ ایكٹ مكمل طور پر اسلامی شریعت كے خلاف ہے، اور سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام دوسرے قوانین اور مختلف قوانین كی شقیں غیرشرعی قرار دی جاتی ہیں۔‘ 

عدالت نے فیصلے میں وفاقی حكومت كو 2027 تک پاكستان میں مكمل طور پر سود سے پاک بنكاری كا نظام نافذ كرنے كا حكم دیا۔ 

‏وفاقی شرعی عدالت کا سودی نظام سے پاک بینکاری نظام قائم کرنے کا حکم 

‏فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت نے یکم جون 2022 سے سود لینے سے متعلق تمام قانونی شقوں کو غیر شرعی قرار دے دیا، اور كہا كہ ‏’قرض سمیت کسی بھی صورت میں لیا گیا سود ربا كے زمرے میں میں آتا ہے۔‘

‏فیصلے میں مزید كہا گیا كہ ’حکومت کی جانب سے اندرونی یا بیرونی قرضوں پر سود دینا ربا میں آتا ہے، اس لیے اندرونی اور بیرونی قرضوں اور ٹرانزیکشنز کو سود سے پاک بنائے جانے كی خاطر اقدامات كیے جائیں۔‘   

اس سلسلے میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بنک، اور دوسرے بین الاقوامی معاشی اداروں اور بنكوں كا ذكر كرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت نے ایسے اداروں كے ساتھ لین دین كے نظام كو بھی سود سے پاک بنانے كا حكم دیا۔ 

وفاقی شرعی عدالت نے پاكستان میں موجود اسلامی بینكنگ كا ڈیٹا بھی طلب كیا تھا، جس كے مطالعے كے نتیجے میں كہا گیا كہ سود سے پاک بنكاری كا نظام ممكن ہے۔ 

فیصلے میں مزید كہا گیا كہ ’عدالت ‏وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات كی دلیل سے سے متفق نہیں ہے۔‘

عدالت نے كہا كہ ‏’معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے، جسے ہر ممكن طریقے سے پورا كیا جانا چاہیے۔‘

فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ’وفاقی شرعی عدالت نے پاکستان میں سود پر پابندی لگائی ہے جو پہلے سے آئین کا تقاضہ تھا۔‘

ان کے مطابق وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں بھی اس پابندی کا فیصلہ دیا تھا لیکن اس وقت کی وفاقی نے سپریم کورٹ جا کر شرعی عدالت کے فیصلے پر سٹے آرڈر لے لیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج شرعی عدالت کے ججز نے سود کے خلاف متفقہ فیصلہ دیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگرچہ فیصلے میں حکومت کو تمام قوانین کو بہتر بنانے کے لیے پانچ سال دیے گئے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں ایسا جلد سے جلد کیا جائے۔‘

پس منظر 

سپریم كورٹ آف پاكستان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف كے دور اقتدار میں وفاقی شرعی عدالت كا 14 نومبر 1991 كا فیصلہ جس میں سود کو غیر اسلامی قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد 23 دسمبر 1999 کو سپریم کورٹ کے اپیلٹ شریعت بینچ نے شریعت کورٹ کے 1992 کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے منظور کیا تھا، کو کالعدم قراردے دیا تھا۔ 

عدالت عظمی نے ربا کے کیس کو نئے سرے سے طے کرنے کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے حوالے كیا تھا، جس كا مقصد وفاقی شرعی عدالت كے دائرہ اختیار كا تعین، فیصلوں کے عملی مضمرات میں رکاوٹوں كا جائزہ، ربا کی تعریف اور تشریحات سے متعلق مشاہدات بشمول ربا کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں کی تفریق، افراط زر، اور جدید وقت کی انڈیكسیشن اور دسمبر 1999 کے فیصلے میں ریکارڈ کی سطح پر واضح غلطیوں كا تعین كرنا تھا۔ 

وفاقی شرعی عدالت نے ربا کی تعریف اور ممانعت کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے ماہرین کی رائے طلب کی تھی، جبكہ کئی جماعتوں نے اپنے جوابات جمع کرائے تھے۔  

بنچ نے دائرہ اختیار سے متعلق اپنے فیصلے کو حتمی شکل دینے کے بعد اس موضوع پر دلائل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ 

وفاقی شرعی عدالت نے ’سود‘ کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے مقصد سے سات سوالات بھی اٹھائے تھے، جو اسلامی بینکنگ، اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ کے لیے اسلامی ممالک کی کارکردگی اور یہ نظام کیسے کام کرتے ہیں، سے متعلق تھے۔ 

وفاقی شرعی عدالت نے حکومت پاکستان سے اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات اور ربا کے خاتمے کی صورتحال اور اس سلسلے میں حکومت کے مستقبل کے پلان كی تفصیلات بھی دریافت كیں۔   

عدالت نے اسلامی اصولوں پر مالی اعانت فراہم کرنے میں مختلف بین الاقوامی قرض دینے والے اداروں کے ردعمل کے بارے میں بھی دریافت كیا۔  

اس دوران جماعت اسلامی پاكستان ربا سے متعلق وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت کیس میں گہری دلچسپی لیتی نظر آئی، جبكہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی ایک بار سماعت میں موجود رہے۔  

وفاقی شرعی عدالت نے 12 اپریل كو فیصلہ محفوظ كیا تھا، جو جمعرات 28 اپریل کو سنایا گیا۔ 

وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات ڈاکٹرمفتاح اسماعیل نے ربا کے کیس میں عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ جمعرات کو اپنے ٹویٹ انہوں نے کہا کہ ’ہم رباکیس میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کاخیرمقدم کرتے ہیں۔حکومت اور سٹیٹ بینک اس اہم فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے اوراس کے اطلاق کے عمل، اقدامات اورنظام الاوقات پروفاقی شرعی عدالت سے رہنمائی اور وضاحت لی گئی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت