’اوزل ہماری نسل کے محمد علی‘

جرمن فٹ بالر میسوت اوزل کی 27ویں رمضان کی شب بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے حق میں ٹویٹ پر سوشل میڈیا پر بحث۔

جرمن مڈفیلڈر میسوت اوزل چھ فروری، 2021 کو استنبول میں ترکش پریمیئر لیگ کے ایک میچ کے دوران ایکشن میں نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)

ترک نژاد جرمن فٹ بالر میسوت اوزل کی 27ویں رمضان کی شب بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے حق میں ٹویٹ پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ 

اوزل نے اپنی ٹویٹ میں بھارتی مسلمانوں کی حفاطت کے لیے دعا کا لکھا۔

جرمن فٹ بالر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’شرم ناک صورت حال کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت میں کیا ہو رہا ہے؟‘

 

اوزیل نے یہ ٹویٹ ایک ایسے وقت پر کی جب بھارت میں مسلمانوں کے خلاف شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال بھارت میں مسلمان طالبات کو حجاب کرنے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کو حجاب پہننے پر  کلاس سے باہر نکال دیا گیا۔

اسی طرح ایک اور ریاست اتر پردیش میں مسلمان طالبات کے حجاب پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔

بھارت کے کچھ علاقوں میں گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی نظر آئی۔

27 اپریل کو ہی نیو یارک میں مقیم مصنفہ پدمہ لکشمی نے بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں لکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد پر جشن کرنا افسوس ناک ہے۔­­

صحافی مہدی حسن نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک پر اپنے شو میں بات کس جس کے بعد ان تینوں افراد کے خلاف کچھ بھارتی ٹویٹ کرتے دکھائی دیے۔

 

ایک ٹوئٹر صارف نیلش بھندروار نے ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ دیکھیں نام نہاد اقلیت کے افراد کیسے نماز کے لیے سڑک بند کر کے بیٹھے ہیں۔

اصغر علی نے اوزل کو مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کیا۔

سادانند دنبے نے لکھا کہ اقلیت مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان حملوں میں کمی لانے کی بجائے اوزل کو ٹرول کیا جا رہا ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ اخلاقی طور پر اوزل سے بہادر ایتھلیٹ کوئی نہیں۔اوزل ہماری نسل کا محمد علی ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ