دعا کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر: والدین

دعا کے والد مہدی علی کاظمی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’امید ہے کہ مسئلہ کراچی میں ہی حل ہوجائے گا۔ جلد ہی سب کو خوش خبری سنائیں گے۔‘

کراچی میں گھر کے پاس سے غائب ہونے والی لڑکی دعا زہدہ کے والد اور ان کے وکیل ہفتے کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

گھر کے پاس سے غائب ہونے والی کراچی کی رہائشی دعا زہرہ کے والدین اور وکیل کا کہنا ہے کہ دعا کی بازیابی اور ان کو اغوا کرنے والے گینگ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

کراچی میں ہفتے کو ایک نیوز کانفرنس کے موقع پر دعا کے والدین کے ہمراہ ان کے وکیل الطاف حسین کھوسو بھی موجود تھے۔

دعا کے والد مہدی علی کاظمی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’امید ہے کہ مسئلہ کراچی میں ہی حل ہوجائے گا۔ جلد ہی سب کو خوش خبری سنائیں گے۔‘

دعا زہرہ کے والدین کے وکیل الطاف حسین کھوسو کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دعا کو کراچی واپس لانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ ہم نے درخواست میں کہا ہے کہ دعا کو باحفاظت واپس لایا جائے اور بنیاد اس بات کو بنایا ہے کہ اغوا کے وقت دعا کی عمر 14 سال سے کم تھی جس کے باعث اسے والدین کی ’سیف کسٹڈی‘ میں ہونا چاہیے۔ اگر وہ والدین کے پاس واپس نہیں آنا چاہتی تو اسے دارلامان یا کسی اور بہتر جگہ بھیجا جائے۔‘

ان کے مطابق: ’ہم نے درخواست میں دوسری چیز یہ کہی ہے کہ بچی کے قانونی سرپرست اس کے والدین ہیں تو لازمی طور پر اسی کی ملاقات والدین سے کروائی جائے۔‘

وکیل کے مطابق: ’بچی کو قانون کے مطابق پروٹیکشن دی جائے کیوں کہ ہمیں خدشہ ہے کہ میڈیا پر معاملہ سرگرم ہونے کے باعث بچی کو کہیں قتل یا غائب نہ کردیا جائے۔ اس بچی کو کسی گینگ نے اغوا کیا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اس گینگ کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ دعا کی طرح کوئی اور بچی ان کا شکار نہ ہو۔‘

وکیل الطاف حسین کھوسو کے مطابق درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بچی کا نکاح نامہ جعلی قرار دیا جائے۔ اس کے نکاح سے متعلق جتنے بھی کاغذات ہیں یا کاغذی کارروائی کی گئی ہے وہ ہمارے سامنے ظاہر کی جائے اور ان تمام کاغذات کی تصدیق کروائی جائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے درخواست کی ہے کہ ظہیر احمد کے ہمراہ وہ تمام لوگ جنہوں نے دعا کو گھر سے غائب کرنے میں اس کی مدد کی ہے ان سب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

دعا کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’میری بیٹی کو غائب ہوئے 21 دن ہو چکے ہیں، جو میرے لیے 21 سالوں کے برابر ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری بیٹی کس حال میں ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ انہوں نے کہیں دعا کا ریپ نہ کیا ہو ناجانے ہماری بچی کس اذیت میں ہے۔‘

ان کے مطابق: ’ہماری ان لوگوں سے درخواست ہے کہ میری بچی دعا کو صحیح سلامت گھر بھیج دیں ہم انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ گھر میں دعا کی بہنیں اس کا انتظار کر رہی ہیں، میں انتظار کر رہی ہوں۔‘

دعا زہرہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بھی جان کا خطرہ ہے، ہمیں ڈر لگتا ہے کہ جو گینگ دعا کو اغوا کرکے لے کر گیا ہے کہیں وہ ہماری فیملی کو نقصان نہ پہنچائے۔ حکومتی اداروں سے میری درخواست ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور جلد سے جلد یہ مسئلہ حل کیا جائے۔‘

’ہمیں لاہور پولیس کی جانب سے بھی دعا کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی جارہی ہیں۔ حکومتی اداروں سے درخواست ہے کہ دعا کو واپس لانے میں ہماری مدد کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان