وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اور ملک زراعت، صنعت ،کان کنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے۔
بدھ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس کے موقعے پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات گئی ہیں۔ ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے۔
’پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہو گئی۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے مضبوط معاشی روابط ہیں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں۔ کان کنی اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور چینی کمپنیوں سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
انہوں نے مزید کہا: ’چند سال میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے گئے۔ پی آئی اے کی شفاف نج کاری کے بعد دیگراداروں کی نجکاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
It was a pleasure meeting Ms. Kristalina Georgieva, Managing Director of the IMF, in Davos on the sidelines of #WEF2026 today.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) January 21, 2026
I was pleased to share Pakistan’s improving macroeconomic indicators, stabilization efforts, and progress on structural reforms, which she acknowledged… pic.twitter.com/hZCVQRfy7b
وزیر اعظم نےکہا کہ بے لوث قربانیوں، ان تھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہے تو بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم میں ان کی موجودگی واقعی بہت اعزاز اور خوشی کی بات ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہ کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے لا محدود قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ یہ قدرتی وسائل اب بھی ملک کے شمالی پہاڑوں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں موجود ہیں اور اب ہم نے برق رفتاری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم کرپٹو، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ گذشتہ چند سال میں آئی ٹی برامدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ہم بہت سے جدید آلات متعارف کرائے جنہوں نے آئی ٹی برآمدات کو آسان بنایاہے اور ہماری آئی ٹی برآمدات با ضابطہ طور پر سالانہ تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس کے موقعے پر عالم مالیاتی فنڈ کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری، استحکام کی کوششوں اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، محصولات کو متحرک کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا اعتراف کیا اور ان کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے طویل مدتی اقتصادی لچک کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔