بیماری ’ایکس‘ کیا ہے اور ڈیووس میں زیر بحث کیوں آئے گی؟

عالمی ادارہ صحت نے اپنی آگاہی مہم میں کووڈ 19، ایبولا اور زیکا وائرس کے ساتھ ’ایکس‘ کو بھی ترجیحی بیماری قرار دیا ہے۔

15 دسمبر 2023 کی اس تصویر میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس  ایڈینام گیبری ایسس جینیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے (اے ایف پی)

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے لیے جمع ہونے والے عالمی رہنما رواں ہفتے مستقبل میں وبائی امراض کے امکان کے بارے میں خدشات پر تبادلہ خیال کریں گے، جو کووڈ 19 کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ اموات کا سبب بن سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس بیماری کا فرضی نام ’ایکس‘ ہے، یہ اصطلاح مستقبل میں ایک فرضی بین الاقوامی وبا سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، جو ایک پیتھوجین (مرض پھیلانے والے جرثومے) کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ڈبلیو ای ایف نے کہا کہ ’بیماریوں سے نمٹنے کی تیاری‘ کے عنوان سے ایک سیشن میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈینام گیبری ایسس کی سربراہی میں ایک پینل ’مستقبل کے متعدد چیلنجوں کے لیے صحت کے نظام کو تیار کرنے کے لیے ضروری کوششوں‘ کے بارے میں بات کرے گا۔

ڈبلیو ایچ او نے اپنی آگاہی مہم میں کووڈ 19، ایبولا وائرس، زیکا وائرس، کریمین کانگو ہیمرجک بخار، مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس کوو) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) کے ساتھ بیماری ’ایکس‘ کو ترجیحی بیماری قرار دیا ہے۔

ڈیزیز ایکس کو 2018 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جب ڈبلیو ایچ او نے مستقبل میں عالمی وبائی مرض سے نمٹنے کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کی کوشش کی۔

ڈبلیو ایچ او نے ان تمام بیماریوں کے لیے ہنگامی تناظر میں تحقیق اور ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ بلیو پرنٹ کا ’واضح تقاضا ہے کہ جدید ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) کو پہلے ہی تیار رکھا جائے، جس کا تعلق ایک نامعلوم بیماری ایکس سے بھی ہے۔‘

اس سے قبل ڈبلیو ایچ او نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’دنیا بھر میں ممکنہ پیتھوجینز کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ بیماریوں کی آر اینڈ ڈی کے لیے وسائل محدود ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ بدھ کو ہونے والے سیشن میں ڈاکٹر ٹیڈروس سمیت برازیل کی وزیر صحت نیسیا ٹرینڈڈے لیما، دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کے بورڈ کے سربراہ مائیکل ڈیمارے، رائل فلپس کے سی ای او رائے جیکبز اور انڈین ہاسپٹل چین اپولو کی ایگزیکٹو وائس چیئر پرسن پریتھا ریڈی شرکت کریں گی۔

واضح رہے کہ سائنس دانوں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ کس قسم کا وائرس اگلی وبا کا باعث بن سکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ بیماری ’ایکس‘ کیا ہوگی۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کورونا وائرس ہو سکتا ہے، جیسا کہ سارس کوو - ٹو، وائرس جو کووڈ -19 کے ساتھ بیماری کا سبب بنتا ہے، یا انفلوئنزا کی ایک نئی قسم۔

یونیورسٹی آف بفیلو جیکبز سکول آف میڈیسن اینڈ بائیو میڈیکل سائنسز میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر تھامس روسو کے بقول: ’(ڈیزیز ایکس کا) یہ تصور ان اسباق میں سے ایک تھا، جو ہم نے اس (کووڈ) وبائی مرض سے سیکھے۔‘

انہوں نے کہا: ’چونکہ انسان زندہ جانوروں کی منڈیوں اور جنگلات کی کٹائی سے (انسانوں اور دیگر انواع کے درمیان) رکاوٹیں ختم کر رہا ہے، لہذا ہمیں دنیا بھر میں مسلسل نگرانی، مطالعے اور بہتر حیاتیاتی تحفظ کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے متنبہ کیا کہ بیماری ’ایکس‘ ایک بالکل نیا جراثیم بھی ہوسکتی ہے جو ابھی تک جانوروں میں بھی معلوم نہیں۔‘

اگلی وبائی بیماری سے نمٹنے کی تیاری اور قومی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو ناکام ہونے سے روکنے کے لیے کام کرنا، جیسا کہ 2020 میں بہت سے ممالک میں دیکھا گیا تھا، اب ڈبلیو ایچ او کے لیے ایک اہم مقصد بن گیا ہے۔

برطانیہ کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ وبائی مرض کی صلاحیت رکھنے والے نئے وائرس کی ویکسین 100 دنوں میں تیار کی جا سکتی ہے۔

 گذشتہ سال اگست میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کووڈ 19 کے لیے تیار کی گئی ویکسین کو ڈیزیز ایکس کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے۔ وہ اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ مستقبل کے خطرات ناکام بنانے کے لیے دیگر ویکسین کس طرح تیار کی جا سکتی ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت