صدر آصف علی زراری نے سندھ، لاہور اور پشاور کی ہائی کورٹس کے 27 اڈیشنل ججوں کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صدر نے تینوں کے ہائی کورٹس کے سات ججوں کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے۔
جمعرات کو صدارتی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والی اعلامیے کے مطابق سندھ کے ہائی کورٹ کے 10 ججوں کو مستقل کر دیا گیا ہے جن میں جسٹس میاں محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن، جسٹس عبد الحمید بھرگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر ’ادا‘، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس خالد حسین شہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ کی مدت ملازمت میں بطور ایڈیشنل جج چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔
صدارتی اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ صدر نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ججوں کو مستقل کر دیا ہے جن میں جسٹس حسن نواز مخدوم جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل خان شامل ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج، جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پشاور کے چھ ایڈیشنل ججوں کو مستقل کر دیا گیا ہے۔ ان ججوں میں جسٹس محمد طارق آفریدی ،جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیراورجسٹس قاضی جواد احسن اللہ شامل ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججوں جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب کی ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔
صدر نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر تینوں ہائی کورٹس کے ججوں کو مستقل کرنے اور ایڈیشنل ججوں کی ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کرنے کی منظور دی۔