حکومتی اراکین کا لندن کا دورہ سرکاری خرچ پہ ہے یا ذاتی؟

مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر آغا شاہزیب درانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ نجی ہے اور تمام اراکین اپنے ذاتی خرچ پر لندن گئے ہیں۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا گفتگو میں یہ واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ممبران لندن نجی دورے پر جا رہے ہیں۔ (تصویر: خواجہ سعد رفیق ٹوئٹر)

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے لیے انہیں لندن طلب کیا تو وزیراعظم شہباز شریف سمیت حکومت کا پندرہ رکنی وفد لندن پہنچ گیا ہے۔

اس حوالے سے کئی سوالات نے جنم لیا کہ وزیراعظم و وزرا کا وفد سرکاری خرچ پہ گیا ہے یا ذاتی؟ ایک تاثر یہ بھی ابھرا کہ کیا حکومت اب لندن میں بیٹھ کر چلائی جائے گی؟

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے سخت تنقید بھی کی گئی کہ سرکاری خرچ پر ذاتی ملاقاتیں ہو رہیں ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی دعویٰ کیا کہ ’یہ سب عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لندن جارہے ہیں۔‘

اس تنقید پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان لکھا کہ ’سب اپنے ذاتی پیسوں سے ٹکٹ خرید کے جارہے ہیں اور قیام کا بندوبست بھی اپنا اپنا کر رہے ہیں-‘

انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان کو جھوٹ قرار دے دیا۔

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ٹوئٹر پر دورے کے سرکاری خرچ کے الزام پر پر بیان دیتے ہوئے کہا: ’عمران جھوٹے کے جھوٹ کی کوئی حد نہیں انہوں نے کہا کہ لندن کا دورہ سرکاری نہیں ہے۔ ہر کسی نے اپنا ٹکٹ اپنی جیب سے خریدا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’شہباز شریف کے سرکاری دوروں پر بھی ان کا اور وزرا کا ٹکٹ ہمیشہ اپنی اپنی جیب سے لیا گیا۔'
 

سرکاری حکام کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ وفاقی وزرا احسن اقبال، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف اور خرم دستگیر، رانا ثنااللہ ، ایاز صادق، مفتاح اسماعیل بھی شامل ہیں۔ جبکہ شاہد خاقان عباسی وفد سے پہلے ہی لندن پہنچ چکے تھے۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ لندن میں نواز شریف سے پارٹی معاملات پر مشاورت کے ساتھ ساتھ کوئی بڑا فیصلہ بھی متوقع ہے۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا گفتگو میں یہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ممبران لندن نجی دورے پر جا رہے ہیں جن میں وزیراعظم شہباز شریف شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر مشاورت کا سلسلہ معمول کی بات ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے اس دورے پر تنقید کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر سیاسی مشاورت ہوتی نہیں کیونکہ وہاں ایک شخص کی بات سنی جاتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینٹرل نائب صدر آغا شاہزیب درانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دورہ نجی ہے اور تمام اراکین اپنے ذاتی خرچ پر لندن گئے ہیں۔ دوسرا سوال کہ وہ وہاں کیوں گئے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ نواز شریف جماعت کے سربراہ ہیں شہباز شریف کے بڑے بھائی ہیں۔ یہ روایت ہوتی ہے کہ حلف برداری کے بعد گھر کے بڑوں سے ملاقات کی جاتی ہے مشورے لیے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ حکومت لندن میں بیٹھ کر چلائی جائے گی تو یہ بلکل بے بنیاد بات ہے۔

’یہ حکومت صرف ن لیگ کی نہیں ہے بلکہ 13 جماعتوں کا اتحاد ہے 11 وزارتیں پیپلزپارٹی کے پاس ہیں، تو کیا وہ بھی نواز شریف چلائیں گے؟‘

انہوں نے کہا کہ حکومت وفاق اور وفاقی کابینہ چلاتی ہے جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہے۔

آغا شاہ زیب نے مزید کہا: ’جماعت کے کچھ مسائل تھے جن پر بات چیت کرنا ضروری تھی۔ نواز شریف تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں تو اُن کے چھوٹے بھائی کے لیے اُن کے مشورے صائب ہیں۔ پنجاب میں جو آئینی بحران کی کیفیت ہے اس پر بھی ڈسکس کرنا ہے اس کے علاوہ آئندہ کے انتخابات کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔‘

سیاسی تجزیہ کار و اینکر شوکت پراچہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ حکومت نئی بنی ہے اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے قائد لندن میں ہیں اس لیے بھی ملاقات اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشاورت کی جائے گی کہ حکومت اگلے الیکشن تک بوجھ کیسے اُٹھائے گی؟ کیا پچھلے ساڑھے تین سالوں کا ملبہ نئی حکومت اُٹھا سکے گی؟ انتخابات کے وقت معاشی ناکامیوں کا ملبہ نئی حکومت خصوصاً ن لیگ پر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشاورت میں جلد انتخابات کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر جماعت کے قائد لندن میں ہیں تو اُن سے مشاورت کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان