فیصل آباد کے شیخ مرغ چنے جن کے ذائقے کا راز ’محبت‘

’سیکرٹ اللہ تعالی کو پتہ ہے، شکر الحمداللہ ایمانداری سے چیز اچھی اور مزیدار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ پیار کرتے ہیں یہی ہے راز۔‘

فیصل آباد کے تاریخی گھنٹہ گھر کے اطراف رات ہوتے ہی ہر طرف سے اشتہا انگیز کھانوں کی مہک آنے والوں کی بھوک کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

یہاں مختلف کھانوں کے درجنوں سٹالز، ہوٹل اور دکانیں کھلی رہتی ہیں لیکن جو رش کارخانہ بازار سے متصل مندر والی گلی میں شیخ مرغ چنے کی دکان پر ہوتا ہے وہ اور کہیں نظر نہیں آتا۔

شیخ مرغ چنے کے مالک محمد نعیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کامیابی کا کوئی خاص سیکرٹ نہیں ہے۔

’سیکرٹ اللہ تعالی کو پتہ ہے، شکر الحمداللہ ایمانداری سے چیز اچھی اور مزیدار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ پیار کرتے ہیں یہی ہے راز۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ کام 1960 کی دہائی میں ان کے دادا نے شروع کیا تھا۔ ان سے یہ کاروبار ان کے والد کو منتقل ہوا، ان کے بعد وہ خود اس دکان پر بیٹھنے لگے اور اب ان کے بھتیجے اس کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔

محمد نعیم کے مطابق ’ہم کوئی خاص چیز استعمال نہیں کرتے کہ اس میں کوئی علیحدہ چیز کہیں دور سے آتی ہے وہ ڈالتے ہیں تو پھر ہی مزیدار بنتے ہیں۔ یہ چیز ایمانداری سے بنتی ہے، ہم ثابت مصالحے لا کر صاف کر کے، گرائنڈر مشین  پر خود گرائنڈ کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ کام جیسے ان کے دادا نے ان کے والد کو سکھایا تھا، ویسے ہی انہوں نے اس پر عمل کیا اور آگے انہیں بھی اسی طرح سکھایا  گیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ لوگ خود انہیں آکر کہتے ہیں کہ اگر وہ کسی اور جگہ سے چنے کھالیں تو انہیں وہ ذائقہ اور لطف نہیں آتا جو یہاں کے کھانے میں ہے۔

جھنگ بازار کے رہائشی چاند نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست اکثر شیخ مرغ چنے پر ہی آتے ہیں۔

’انڈے ہوتے ہیں ان کے پاس، کوفتے ہوتے ہیں، چنے ہوتے ہیں، گرم نان ہیں۔ ان کی دکان کا کاروبار بڑا اچھا چلتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ان کا ایک الگ ٹیسٹ ہے کیونکہ یہ دیسی مرغ بناتے ہیں۔ کافی عرصے سے تقربیاً 40، 50 سال ہو گئے ہیں ان کی دکان روٹین سے چل رہی ہے۔ لوگوں کو مزہ آتا ہے اور وہ یہاں انجوائے کرنے آتے ہیں۔‘

’میں نے پہلی دفعہ کھائے ہیں، ذائقہ بہت اچھا تھا، جس طرح لوگ بات کر رہے تھے اسی طرح کا ٹیسٹ تھا۔ مجھے تو بڑا مزہ آیا ہے۔ اس سے پتہ لگ رہا ہے کہ لوگوں کو یہ کیوں پسند ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا