’ابلتے برتن میں مینڈک جیسا‘: بھارت میں ہیٹ ویو بدتر ہونے کا خدشہ

گرمی کی لہر سے بھارت کے غریب ترین طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں لیکن معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اس کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔

سات مئی 2022 کو اللہ آباد میں ایک شخص سڑک کنارے نصب نلکے سے پانی پی رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں گذشتہ کئی دنوں سے شدید گرمی کی لہر جاری ہے (اے ایف پی)

نریش اہیروار شمالی بھارت میں جاری گرمی کی لہر کے ماحول میں اس بھی وقت کام کرنا بند نہیں کرتے جب دہلی کے مضافات میں ان کی تعمیراتی سائٹ پر دوپہر کے وقت سورج چمک رہا ہوتا ہے۔

 56 سالہ اہیروار کو ایسا لگتا ہے کہ وہ آدھی تعمیر شدہ عمارت میں ہر بھاری بوجھ لاتے لے جاتے بے ہوش ہو جائیں گے۔ اس کے باوجود ان کے پاس دوپہر کو آرام کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے حالانکہ پارہ 40 ڈگری سیلسیئس سے اوپر چلا جاتا ہے۔

اہیروار کہتے ہیں: ’پہلے میں کسی مسئلے کے بغیر ہر شے اٹھا لیتا تھا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر قدم اٹھانا مشکل ہے اور میں یہاں مر جاؤں گا۔ لیکن میری طرح یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے پاس (رک جانے کا) کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

وہ مقام جہاں تعمیراتی کام ہو رہا ہے کہ اس کے قریب ایک دکاندار جو مٹی کے برتن فروخت کرتے ہیں دوپہر کو دکان بند کر کے جھلسا دینے والی دھوپ سے بچنے کے لیے ترپال کے نیچے پناہ لے لیتے ہیں۔ چاہے وہ اتنا نہ کما سکیں جس سے ان کا گزربسر ہو سکے۔ دوسری صورت میں یہ ترپال ان کے سٹور کی چھت کا کام دیتی ہے۔

دکاندار سنیل کمار کے بقول: ’میرا سامان موسم گرما کے لیے ہوتا ہے۔ میں پوری گرمیوں میں گھر نہیں بیٹھ سکتا ہے لیکن دوپہر کے وقت قیام کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔‘

دہلی میں گرمی کسی کے لیے نئی بات نہیں ہے لیکن وہ درجہ حرارت جو گرمیوں کے دو زیادہ گرم مہینوں کے لیے مخصوص ہوا کرتا تھا اب اس کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔

ریکارڈز شروع ہونے سے اپریل اب تک کا سب سے گرم مہینہ ہے اور مارچ کے وسط میں ہی گرمی کی لہر کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ مئی کے آغاز میں بعض علاقوں میں ہونے والی تھوڑی بہت بارش سے عارضی سکون ملا لیکن موسم کے بارے میں پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اس ہفتے میں آگے جا کر پارہ 45 ڈگری سیلسیئس تک جانے کا امکان ہے۔

چار بچوں کے والد 36 سالہ کمار نے سوال کیا: ’اگر مئی اور جون میں محض چند ہفتوں کی بات ہوتی تو ہم گھر پر رہنے کی تیاری کر سکتے تھے لیکن اگر مارچ میں گرمی بڑھ جائے اور سال میں زیادہ وقت برقرار رہے تو ہم اپنی دکانیں مکمل طور پر کیسے بند کر دیں؟‘

مقبول فوڈ چین کے ساتھ کام کرنے والے ڈیلیوری ایجنٹ کہتے ہیں وہ شدید گرمی کے وقت دن گزارنے کے لیے کپڑے کو ٹھنڈے پانی میں بھگو کر پگڑی کی طرح سر پر رکھ لیتے ہیں۔

21 سالہ ورن کے مطابق: ’اس سے کچھ سکون ملتا ہے لیکن کپڑا منٹوں میں خشک ہو جاتا ہے۔ ہمیں گھر پر کچھ مالی مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ ملازمت کرنی پڑی۔ میں اسے چھوڑ نہیں سکتا حالانکہ میری طرح کے بہت سے ڈلیوری بوائز اس موسم میں بیمار پڑ چکے ہیں۔‘

گرمی کی لہر سے بھارت کے غریب ترین طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں لیکن معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اس کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔

دہلی کے نواح میں واقع گنجان آباد شہر نوئیڈا کے امیر علاقوں میں رہنے والوں نے اس سال بہت ہی ایئر کنڈیشنر استعمال کرنا شروع کر دیے تھے۔ والدین کا مطالبہ ہے کہ سکول بند کر دیے جائیں یا ان کا وقت تبدیل کر دیا جائے کیونکہ بہت سے بچوں نے کمزوری محسوس کرنے کی شکایت کی ہے۔

گریٹر نوئیڈا کے رہائشی ویوک اروڑہ کہتے ہیں: ’کئی سال سے موسم گرما شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے بجلی کے بلز میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ دن میں زیادہ وقت گھر ناقابل رہائش محسوس ہوتا ہے۔ لیکن کسی نے شکایت نہیں کی۔ آپ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یہ ہلکی آنچ پر ابلتے برتن میں مینڈک جیسا ہونا ہے۔ لیکن اس سال صورت حال غیرمعمولی طور پر مختلف محسوس ہوتی ہے۔‘

گرمی کی شدت کی وجہ سے اروڑہ کے بچے پورا ہفتہ گھر پر ہیں۔

اس سال بھارت اور ہمسایہ ملک پاکستان میں کروڑوں افراد غیرمعمولی گرمی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان ملکوں میں بعض مقامات پر درجہ حرارت 52 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ چکا ہے۔ سا

ئنس دان خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ درجہ حرارت کے مختلف سطح پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نہ صرف انسانی صحت پر بلکہ ایکوسسٹم، زراعت، پانی، توانائی کی ترسیل حتیٰ کہ معیشت کے اہم شعبوں پر گرمی اثرانداز ہوتی ہے۔

بھارت پہلے ہی توانائی کی شدید قلت کا شکار ہے کیونکہ بجلی کی طلب بڑھ گئی ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے کوڑے کے ڈھیروں کو آگ لگ گئی، گندم کی فصل تباہ ہو گئی جس کی وجہ سے اس کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور لیموں جو گرمی کا ایک مقبول توڑ ہے بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

اب تک حکومتی اقدامات لوگوں کو جہاں ممکن ہو دوپہر کے وقت گھر کے اندر رہنے کا مشورہ دینے اور اعلیٰ کے ایک اجلاس جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ریاستوں پر گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے اپنے اپنے منصوبے بنانے پر زور دینے، تک محدود رہے ہیں۔

لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے انتہائی موسم میں مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور جب کہ اس سال ہیٹ ویو کی صورت حال ایسی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی لیکن  صرف یہ ہو گا کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا اور زمین کے گرم ہونے کے ساتھ  یہ صورت حال بدتر ہوتی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امپیریل کالج لندن کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس سال کی طرح ہیٹ ویوز کا امکان بڑھا کر دیا ہے۔

امپیریل کالج کے گرانتھم انسٹی ٹیوٹ کی ایک ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر مریم زکریا کہتی ہیں: ’انسانی سرگرمیوں سے عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے پہلے ہم نے اس ماہ کے شروع میں بھارت میں آنے والی گرمی کو 50 سالوں میں ایک بار دیکھا ہوگا۔

’لیکن اب یہ بہت عام بات ہے۔ ہم ہر چار سال میں ایک بار اتنے زیادہ درجہ حرارت کی توقع کر سکتے ہیں۔ اور جب تک گیسز کا خالص اخراج روکا نہیں جاتا یہ صورت حال اور بھی عام ہوتی رہے گی۔‘

دہلی میں کلائیمیٹ ٹرینڈز کے نام سے شروع کیے گئے مواصلاتی منصوبے کے تحت ہونے والے تجزیے کے مطابق گرم خطے کے بحرہند کے پانی کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے اور انتہائی نوعیت کے ایل نینو واقعات (سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ) کے تواتر ساتھ وقوع پذیر ہونے کے نتیجے میں زیادہ تواتر اور طویل عرصے تک قائم رہنے والی اثرات کی حامل گرمی کی لہر برصغیر کو متاثر کرے گی۔

اس ہیٹ ویو کے اثرات پہلے ہی شمالی بھارت کے گرد آلود میدانوں سے نکل کر ہمالیہ کے علاقے کو تباہ کر چکے ہیں۔ پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں جنگلات میں آگ لگنے کی اطلاع ہے۔ لیکن کلائیمیٹ ٹرینڈز کے مطابق اس طرح کے واقعات 21 ویں صدی کے آخر تک سرسبز جنوبی بھارت پر بھی اثر انداز ہوں گے جو فی الحال گرمی کی لہر سے متاثر نہیں ہوا۔

موسمیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں کمی کے ذریعے صورت حال میں بہتری لانے اور اس کے ساتھ ہی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پہلے ہی متاثر افراد کو ریلیف دینے کے لیے حالات کے مطابق ڈھلنے کی حکمت عملی وضع کرنا، دونوں پر کام کرنا ضروری ہے۔ اگر حکومتوں نے احتیاط سے کام نہ لیا، مساوات کا ایک حصہ حل کرنے میں تیزی نہ دکھائی تو آگے چل کر حالات مزید خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ جس طرح اس وقت بھارت زیادہ کوئلہ حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہا ہے تا کہ گرمی کی لہر کے دوران بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔

ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا توازن پیدا کرنا مشکل کام ہے۔ گجرات انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور پروگرام مینیجر ڈاکٹر ابھیانت تیواڑی کے مطابق: ’ایسے میں کہ جب مستقبل میں درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنے کے لیے موسمیاتی شدت میں کمی لانے کے اقدامات کرنا ضروری ہیں، انتہائی، متواتراور زیادہ دیر تک برقرار رہنے والی گرمی کی لہر محض مستقبل کا خطرہ نہیں رہا۔ اس صورت حال کا پہلے سے ہی سامنا کیا جا رہا ہے اور یہ ناگزیر ہے۔‘

’ہمارے ہیٹ ایکشن پلان کے تحت صورت حال سے نمٹنے کے اقدامات یقینی بنانے ہوں گے جیسا کہ ٹھنڈا کرنے کے عوامی مقامات، بجلی کی مسلسل فراہمی، پینے کے محفوظ پانی تک رسائی اور معاشرے میں نچلی سطح پرموجود سب سے زیادہ کمزور طبقے یعنی مزدوروں کے اوقات کار میں تبدیلی، خاص طور انتہائی گرمی کے دنوں میں۔‘

ان حالات میں کہ جب  بھارت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے بعض بدترین اثرات کا سامنا کرنے جا رہا ہے اب تک صرف ایک شہر، ممبئی نے نیٹ زیرو کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد شہر میں گیسز کا اخراج کم کرنا اور شہر کی حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا بھارت کے سیاسی مباحثوں میں شاذ و نادر ہی ذکر کیا جاتا ہے حالانکہ ملک کو سال بھرجاری رہنے والے مسائل کا سامنا ہے۔ شدید گرمی سے لے کر مون سون کے سیلاب تک۔

غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار ہولسٹک ڈیولپمنٹ سے وابستہ سنیل کمار الیدیا کہتے ہیں کہ’سخت سردی میں غریبوں اور بے گھر لوگوں کے لیے کم از کم پناہ گاہیں ہوتی ہیں۔ ان کے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں زیادہ تر لوگوں کے سر پر چھت موجود ہوتی ہے۔ لیکن شدید گرمی کے دوران جس کے بارے میں اب ہم جانتے ہیں کہ وہ زیادہ دیر تک جاری رہے گی یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں یا بے گھر (افراد) کے لیے آرام  کا کوئی انتظام نہیں ہے۔‘

بھارت میں گرمی کے دباؤ کے صحت پر اثرات پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ ملک میں صرف ہیٹ سٹروک سے ہونے والی اموات کا پتہ لگایا جاتا ہے جب  طبی طور پر تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ اموات  براہ راست دھوپ کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ نتیجے کے طور پر 2015 میں شدید گرمی کی لہر کے دوران ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت رپورٹ کی گئی لیکن دوسرے سالوں میں ایسی اموات میں سے صرف چند ایک کے بارے میں بتایا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرم راتوں کا طویل دورانیہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیوںکہ یہ جسم کی دن کی گرمی کے اثرات سے نکلنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہیں لیکن اس طرح کی ہلاکتوں کو ہیٹ سٹروک سے جوڑے جانے کا امکان نہیں ہے۔

کام کے طریقوں کی شدید گرمی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں ناکامی کا بھی معیشت پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ ڈیوک یونیورسٹی کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ 2001 سے 2020 کے درمیان بھارت میں مرطوب گرمی کے اثرات کی وجہ سے سالانہ 259 ارب گھنٹے کی محنت ضائع ہوئی۔

تحفط ماحول کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو ضرورت ہے کہ وہ کمزور طبقات کے لیے تازہ تجزیہ کروائے۔ ہیٹ ویو کو  آفت سمجھتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے کام کرے۔ ڈبلیو آر آئی انڈیا میں پروگرام سربراہ لوبینا رنگ والا کے بقول: ’سعودی عرب جیسے ملکوں میں جہاں 50 ڈگری سیلسیئس اور اس سے زیادہ درجہ حرارت دیکھا گیا ہے، حکومتی پالیسیوں کا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے جس میں کام کے اوقات میں تبدیلی شامل ہے تا کہ یقینی بنانا جا سکے کہ کسی کو دوپہر کے وقت جان نہ مارنی پڑے۔ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی نئی پالیسی تیار کرے۔‘

یہ سوال کہ گرم ہوتی زمین کے ساتھ مطابقت کس طرح پیدا کی جائے، بھا رت کے معاملے میں مزید کوئی مفروضہ نہیں رہا۔ ماہرین موسمیات کے مطابق غیرمتوقع اور ناقابل پیشگوئی موسم کی کیفیات یہاں پر موجود ہیں۔ 11 مارچ کو سال کی پہلی ہیٹ ویو کے اعلان سے پہلے شمالی بھارت کو معمول سے ہٹ کر سرد موسم سرما کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ ایسی بات ہے جو بذات خود لوگوں کی صحت اور ملکی ڈھانچے  کے لیے خطرہ ہے جو اتنے کم درجہ حرارت کے عادی نہیں۔

ماہرین نے اس سال پل پل بدلتے موسم کے بارے میں مختلف وجوہات کی جانب اشارہ کیا ہے جس میں ٹھنڈا کرنے کا سبب بننے والا نظام ویسٹرن ڈسٹربنس بھی شامل ہے۔ یہ ایسا قدرتی مظہر ہے جو بھارت میں بارشوں، قطب شمالی میں گرمی کی لہر اور لا نینا کے قدرتی مظہر سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام حالات کی بنیادی وجہ کو بالآخر موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔

موسم کی پیشگوئی کرنے والے نجی ادارے سکائی میٹ ویدر سروسز میں موسمیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے کے نائب صدر مہیش پلاوت کا کہنا ہے کہ’اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں انتہائی گرمی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا بنیادی کردار ہے۔ اگرچہ بہت سے دوسرے عوامل بھی کارفرما ہیں۔‘

اب تشویش کی بات یہ ہے کہ بھارت گرمیوں کے مہینوں میں گرمی کے ریکارڈ توڑتا رہے گا۔ اس کے توانائی کے ڈھانچے اور عوام پر پر مزید بوجھ پڑے گا۔

موسمیاتی تبدیلی، انتہائی گرمی اور بارش کے درمیان تعلق پر تحقیق کرنے والے موسمیاتی سائنس دان ڈاکٹر زچری زوبیل کے مطابق: ’

نہ صرف یہ کہ اس انتہائی گرمی نے اپریل کے مہینے میں بھارت اور پاکستان میں اب تک ریکارڈ قائم کیا ہے بلکہ یہ گرمی مئی اور جون میں اگلا اور حتیٰ کہ زیادہ انتہا والی گرمی کا سٹیج تیار کر رہی ہے جو روائتی طور پر زیادہ گرم مہینے ہوتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ان کیفیات کے حوالے سے توقع ہے کہ وہ جاری رہیں گی۔ خواہ ہم آج گرین ہاؤس گیسز کا اخراج روک لیں تو بھی کم از کم مزید ایک دہائی تک زمین کا درجہ حرارت بڑھتا رہے گا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا