قبائلی اضلاع کے پیسے رک گئے، ترقیاتی کام بھی رک جائیں گے: تیمور جھگڑا

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اگر قبائلی اضلاع کے رواں سال کی چوتھی سہ ماہی کا ترقیاتی بجٹ جاری نہیں کیا تو ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبے رک جائیں گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے (تیمور سلیم جھگڑا/ فیس بک/ فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اگر قبائلی اضلاع کے رواں سال کی چوتھی سہ ماہی کا ترقیاتی بجٹ جاری نہیں کیا تو ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبے رک جائیں گی۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی دنوں سے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کے حوالے باتیں کی جا رہی ہیں اسی وجہ سے انہوں نے مناسب سمجھا کے حقائق عوام کے سامنے  رکھے جائیں۔

یاد رہے کہ بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سٹیٹ اینڈ فرنٹیئیر ریجن کی ایک میٹنگ میں قبائلی ضلع خیبر سے سینیٹر ہلال الرحمان نے بتایا تھا کہ قبائلی اضلاع  مہند اور باجوڑ میں صرف 40 دن میں 384 ملین روپے لگائے گئے ہیں جبکہ ضلع مہمند میں ایسا کرنا نا ممکن ہے۔

انہوں نے کمیٹی سے استفسار کیا کہ تمام منصوبوں میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ’یہ قبائلی اضلاع کے پیسے ہیں اور ہم اس کو اس طرح چوری کرنے نہیں دیں گے۔ جب کوئی منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو ٹھیکیدار کو پیشگی ادائیگی کیسے کی گئی ہے۔‘

تیمور سلیم جھگڑا کہتے ہیں کہ وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو قبائلی اضلاع کو خاص توجہ دی گئی اور اس کا بجٹ ضم ہونے سے پہلے تقریباً 24 ارب روپے سے ضم ہونے کے بعد 54 ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’رواں سال یعنی جولائی سے پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت تک وفاقی حکومت نے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کے 54 ارب میں سے 36 ارب سے زائد جاری کیے تھے اور یہ سارا بجٹ 100 فیصد قبائلی اضلاع میں خیبر پختونخوا حکومت نے خرچ کیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ابھی وفاقی حکومت کو قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کے 17 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں لیکن وفاقی حکومت اس بجٹ کو جاری کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

تیمور جھگڑا نے گذشتہ کچھ سالوں کے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی اور کرنٹ بجٹ کے کچھ اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں۔

ان اعداد و شمار کے مطابق ضم ہونے سے پہلے کرنٹ بجٹ 32 ارب روپے سے زائد تھا جو ضم ہونے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے اس کو 77 ارب روپے تک بڑھا دیا۔

اسی طرح اعداد و شمار کے مطابق ترقیاتی بجٹ ضم ہونے سے پہلے 24 ارب روپے کے قریب تھا لیکن ضم ہونے کے بعد یہ بجٹ 54 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا۔

رواں مالی سال کی اگر بات کی جائے تو اعداد و شمار کے مطابق قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کے لیے مجموعی (سالانہ ترقیاتی پروگرام اور ایکسیلیریٹڈ ایملیمینٹیشن پروگرام) طور پر 131 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

اس مختص بجٹ میں اب تک 92 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جس میں اعداد و شمار کے مطابق اب تک 91 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔

اسی طرح اگر گذشتہ مالی سال (2020-2021) میں قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کے لیے 121 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جس میں 120 ارب روپے کے قریب جاری کیے گئے تھے جس میں 108 ارب روپے کے قریب خرچ کیے جا چکے ہیں۔

تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ ’ہم نے قبائلی اضلاع کو ملک کی باقی سیاست سے الگ رکھا ہے اور اس پر خصوصی توجہ دی ہے لیکن اب وفاقی حکومت کی جانب سے باقی ماندہ ترقیاتی بجٹ جاری نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبے  رک سکتے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس تمام صورتحال پر وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مفتاح اسماعیل مسلم لیگ ن کے اس وفد کا حصہ ہے جو جماعت کے قائد نواز شریف سے ملاقات کے لیے گذشتہ روز لندن پہنچا تھا۔ مفتاح اسماعیل کی جانب سے موقف سامنے آنے کے بعد اس رپورٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت