عراق میں گرد کا طوفان: ’سب کچھ نارنجی دکھنے لگا

حکومت کا کہنا ہے کہ عراق میں ہوائی اڈے، سکولز، جامعات اور سرکاری دفاتر مجبورا بند کرنے پڑے ہیں۔

پیر کو دھول کے ایک گہرے بادل نے دارالحکومت بغداد کو لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے شہر نارنجی رنگ کا دکھائی دینے لگا (اے ایف پی)

عراقی حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں پیر کو ریت کا طوفان آیا جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے، سکول، جامعات اور سرکاری دفاتر مجبوراً بند کرنا پڑے ہیں۔

اپریل کے وسط سے عراق میں آنے والا ریت کا یہ آٹھواں طوفان ہے۔ عراق میں زرخیز زمینیں خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہیں اوپر سے بارشیں بھی کم ہو رہی ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں آنے والے ریت کے طوفان میں ایک ہلاکت ہوئی تھی جب کہ پانچ ہزار لوگ سانس لینے میں تکلیف کے باعث ہسپتال داخل ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ پیر کو دھول کے ایک گہرے بادل نے دارالحکومت بغداد کو لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے شہر نارنجی رنگ کا دکھائی دینے لگا۔

گرد کی وجہ سے کئی دیگر شہر بھی متاثر ہوئے ہیں جن میں نجف اور خود مختار علاقہ سلیمانیہ بھی شامل ہیں۔ زرد اور نارنجی رنگ کی دھول عمارتوں کی چھتوں، کاروں اور یہاں تک کہ گھروں میں داخل ہو گئی ہے۔

عراق کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی این اے کے مطابق گرد نے بغداد کے ہوائی اڈے پر حد نگاہ صرف 300 میٹر کر دی ہے۔

اس صورتحال میں حکام فضائی حدود بند کرنے اور پروازیں روکنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ نجف اور سلیمانیہ کے ہوائی اڈوں کو بھی دن کے وقت بند رکھا جائے گا۔

دارالحکومت بغداد سمیت عراق کے 18 میں سے سات صوبوں میں حکام نے سرکاری دفاتر کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملک بھر میں ہیلتھ یونٹس کھلے ہیں تاہم حکام نے متنبہ کیا ہے کہ سب سے زیادہ خطرہ معمر افراد اور ان لوگوں کو ہے جو سانس کی دائمی بیماری اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ ملک بھر میں سکول بھی بند اور حتمی امتحانات منگل تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔

جامعات نے بھی امتحانات مؤخر دیے ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ریت کے تازہ ترین طوفان کے پیر کی شام تک بتدریج ختم ہونے کی توقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات