’مٹی کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں‘

 مٹی کے ظروف بنانے والی شہرزاد عالم اب ہم میں نہیں رہیں۔ وہ معروف مصور ظہورالاخلاق کی بیوی تھیں اور پاکستان کے ’تین بین الاقوامی ظروف سازوں میں سے ایک تھیں۔‘

شہرزاد نے لاہور کے علاقے اپر مال پر موجود اپنی والدہ کے گھر کو ایک ادارے میں تبدیل بھی کیا جس کا نام انہوں نے اپنی مرحومہ بیٹی کے نام پر ’جہانِ جہان آرا‘ رکھا (تصویر: فیس بک شہرزاد عالم آفیشل)

’مجھے قدیم ظروف بہت پسند تھے اور مجھے لگتا ہے کہ جیسے میں اس قدیم زمانے میں جی چکی ہوں۔ مٹی کیا بتا رہی ہے آپ کو، اور کیوں آپ مٹی میں ہیں اور مٹی سے کیوں جڑ گئے ہیں اتنے؟ مٹی آپ کی روزمرہ زندگی پر فیصلہ کن انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔‘

شہرزاد عالم اب ہم میں نہیں رہیں۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی ظروف ساز اور آرٹسٹ شہر زاد عالم نے ثمینہ پیرزادہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا: ’جب مٹی کا برتن تیار ہو کر بھٹی میں جاتا ہے تو اس کے ساتھ آپ خود بھی جل رہے ہوتے ہیں کہ کہیں وہ ٹوٹ نہ جائے جل نہ جائے۔ مٹی کے ساتھ کام کرنے کے لیے مٹی ہونا ضروری ہے آپ کو مٹی کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑتے یعنی آپ مزاحمت نہیں کرتے اور اس کے ساتھ ایک ہونا پڑتا ہے۔‘

ان کاخیال تھا کہ ’مٹی ایک ایسا عنصر ہے جو آپ کو جواب دیتی ہے آپ اس پر زور ڈال گے وہ جواب دے گی جہاں آپ اسے کھینچیں گے وہ جواب دے گی۔ یہ سب بہت جادوئی ہے۔ اور یہ ایک طرح آپ کے اور مٹی کے درمیان مکالمہ بن جاتا ہے۔ اور تیس سال کی عمر میں میں نے اپنے آپ کو بتا دیا کہ میں ایک ظروف ساز ہوں اور میں یہی کروں گی۔‘

شہرزاد عالم 1948 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مشہور ٹینس کے کھلاڑی محمود عالم کا تعلق دہلی سے جب کہ ان کی والدہ جو ایک استاد تھیں، وہ لکھنئو سے تعلق رکھتی تھیں۔

تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان لاہور آ گیا۔ شہرزاد نے لاہور کے سکول سیکرڈ ہارٹ سے میٹرک کیا پھر دوسال کنئیرڈ کالج میں تعلیم حاصل کی۔ ثمینہ پیرزادہ کو دیے گئے اسی انٹرویو میں شہرزاد نے بتایا کہ ان کی والدہ جان گئیں تھیں کہ ان کی دلچسپی آرٹس میں ہے اس لیے انہوں نے ان کا داخلہ نیشنل کالج آف آرٹس میں کروا دیا۔

دو سال وہاں پڑھنے کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں جائیں گی کیونکہ انہیں ہاتھ سے بنی چیزیں بہت اچھی لگتی تھیں۔

ان کاکہنا تھا کہ جب وہ اپنے کلاس روم میں گئیں تو وہاں ان کے بالکل سامنے ظروف سازی کا شعبہ تھا جہاں ظروف سازی کے لیے 30 پہیے (چاک) موجود تھے مگر طالب علم ایک تھا۔

بس اسی وقت انہوں نے سوچ لیا کہ یہ ضرور کوئی چیلنجنگ کام ہے اور ظروف سازی کو اپنانے اس شعبہ میں چلی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مزید چیلنج تب بنا جب اس شعبے کے سربراہ نے ان کی حوصلہ شکنی کی اور کہا کہ وہ ظروف سازی کو رہنے دیں اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہی واپس چلی جائیں۔ 

شہرزاد کو صرف ظروف سازی ہی پسند نہیں تھی بلکہ موسیقی، رقص اور ادب سے بھی لگاؤ تھا۔ ان کے شوہر ظہور الاخلاق معروف مصور تھے جن سے ان کی پہلی ملاقات لندن میں ہوئی۔ ثمینہ پیرزادہ کو دیے گئے انٹرویو میں شہر زاد نے بتایا تھا کہ وہ ابھی این سی اے میں ہی تھیں جب انہوں نے ظہور سے شادی کی۔ اس شادی میں ان کے والدین کی رضا مندی شامل نہیں تھی اس لیے انہوں نے 1971 میں  کراچی میں ایک دوست کے ہاں نکاح کیا اور شادی کے روزانہوں نے نیلی جینز اور سفید قمیص زیب تن کر رکھی تھی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ شادی کے بعد لاہور آئیں اپنے والدین کے پاس مگر انہوں نے انہیں قبول نہ کیا، لیکن پھر تین ماہ کے بعد سب ٹھیک ہوگیا اور انہوں نےدونوں کو قبول کر لیا۔ شہرزاد نے بتایا کہ اس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر میں ہی آ کر رہنے لگیں۔ ان کی دو بیٹیاں نور جہاں اور جہاں آرا پیدا ہوئیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ انہیں سفر کرنے کا بہت شوق تھا اور انہوں نے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ  بہت سے ممالک کا سفر کیا۔ 

شہرزاد عالم کے شوہر ظہور الاخلاق اور ان کی بیٹی جہاں آرا کو 1999 میں ان کے گھر پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔  

شہرزاد نے لاہور کے علاقے اپر مال پر موجود اپنی والدہ کے گھر کو ایک ادارے میں تبدیل بھی کیا جس کا نام انہوں نے اپنی مرحومہ بیٹی کے نام پر ’جہانِ جہان آرا‘ رکھا۔ وہیں پر سمر کیمپس میں پڑھانے والے پرفارمنگ آرٹسٹ کے استاد ابوذر مادھو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ برسوں پہلے جب یہ ادارہ بنا تو یہاں  بچوں کو صرف ظروف سازی سکھائی جاتی تھی اور اس کے پیچھے شہرزاد عالم کا مقصد یہ تھا کہ بچوں کو دھرتی اور یہاں کی مٹی سے جوڑا جائے۔  

’لیکن کچھ برس پہلے یہاں تھیٹر، رقص،موسیقی اور پرفارمنگ آرٹس بھی شامل کیا گیا۔‘

شہرزاد کے شوہر اور بیٹی کے قتل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئیر مصور ڈاکٹر اعجاز انور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ظہور کے جانے کے بعد شہرزاد نے ایک لمبا عرصہ الگ تھلگ گزارا لیکن پھر این سی اے کے شعبہ ظروف سازی کے سربراہ صلاح الدین  نے جب اپنا چارج چھوڑا تو شہرزاد سال چھ مہینے کے لیے این سی اے میں آئیں، اس شعبے کو سنبھالا، لیکن وہ کوئی پکی نوکری نہیں تھی۔‘

ڈاکٹر اعجاز انور نے مزید بتایا کہ ’پاکستان میں تین ہی ظروف ساز تھے جن میں شہرزاد بھی شامل ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ان کے بنائے ظروف کے حوالے سے میں کبھی کبھار ان سے کہتا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ وہ لڑھک کر نیچے گر سکتے ہیں کیونکہ ان کی سطح تھوڑی کم ہوا کرتی تھی تو وہ کہتی تھیں کہ جس کو قدر ہوگی وہ انہیں لڑھکنے نہیں دے گا۔‘

اعجاز انور کے مطابق دو برس پہلے پی این سی اسلام آباد میں ایک ورکشاپ ہوئی جہاں شہرزاد نے  ظروف سازی کر کے دکھائی تو میں نے وہاں موجود طالب علموں سے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ شہرزاد ان کے سامنے ظروف سازی کر کے دکھا رہی ہیں۔   

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

این سی اے کے پرنسپل مرتضیٰ جعفری نے شہرزاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا: ’شہرزاد عالم ظروف سازی میں بہت بڑا نام تھا۔ وہ یہاں سے پڑھی بھی اور یہاں پڑھایا بھی، لیکن انہوں نے کبھی مستقل فیکلٹی کے طور پر یہاں نہیں پڑھایا۔ ان کی شخصیت بہت خوش کن اور دلکش تھی۔ ان کا لباس بھی بہت روایتی ہوا کرتا تھا۔ وہ محبت کرنے والی شخصیت تھیں۔‘

مرتضیٰ جعفری کہتے ہیں ’شہرزاد پاکستان نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا بہت بڑا نام تھا۔ انہوں  نے این سی اے میں ہونے والی بہت سی ورکشاپس میں بھی حصہ لیا اور وہ این سی کی جیورر بھی رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گھر پر بھی ظروف سازی کا بہت بڑا سیٹ اپ لگایا ہوا تھا۔‘

شہرزاد عالم نے ثمیہ پیرزادہ کو دیے گئے انٹرویو میں ہی بتایا تھا کہ وہ کچھ عرصہ سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بیماری کے سامنے بھی کوئی مزاحمت نہیں کی کیونکہ ایسا انہوں نے مٹی سے ہی سیکھا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ