’یوکرین جنگ سے پاکستان کو معاشی خطرات لاحق‘

پاکستان اور سری لنکا کی شناخت ایسے دو ممالک کے طور پر بھی کی گئی جہاں بیرونی قرضوں اور بیرونی آمدن کا تناسب حد سے تجاوز کر گیا۔

ایک سٹاک بروکر کراچی میں 9 مئی 2022 کو سٹاک ایکشچینج میں حصص کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہے (تصویر: اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا اور بحرالکاہل (ای ایس سی اے پی) نے اپنی تازہ ترین پالیسی بریفنگ میں پاکستان کو ان ممالک میں سے ایک قرار دیا ہے جن کو یوکرین میں جنگ کے معاشی اثرات سے نسبتا زیادہ خطرہ ہے۔

یہ جنگ فروری میں اس وقت شروع ہوئی جب روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اپنی مسلح افواج کو پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔

اگرچہ ان کے اس فیصلے پر بہت سے ممالک نے سیاسی مذمت کی لیکن جنگ کی معاشی قیمت بھی دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن گئی۔

عرب نیوز کے مطابق اتوار کو آن لائن شیئر کی گئی ای ایس سی اے پی کی اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ اس تنازعے سے متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے اشیا میں قیمتیں بڑھیں، عالمی طلب میں کمی اور غیر یقینی معاشی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔

پالیسی بریف میں پاکستان اور سری لنکا سمیت متعدد ممالک کے نام درج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایشیائی بحرالکاہل کی متعدد معیشتوں کو یوکرین میں جنگ سے دوسروں کے نسبت زیادہ خطرہ ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ یہ ریاستیں ’زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں کیوں کہ ان کا معاشی ڈھانچہ اور حالات، توانائی اور اشیائے خوردونوش کی زیادہ قیمتوں، محدود بیرونی آمدن، بڑھتی ہوئی مالی لاگت اور کاروباری رحجان میں اچانک تبدیلی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔‘

پاکستان پہلے ہی ایک بڑے مالی بحران کا شکار ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ملکی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔

عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کے متعلق دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے ایشیائی بحرالکاہل کی متعدد معیشتوں میں افراط زر کی شرح بڑھ رہی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ:’جمہوریہ کوریا میں افراط زر کی شرح تقریبا ایک دہائی کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح اپریل 2022 میں پاکستان میں افراط زر کی شرح 13.4 فیصد تک چلی گئی ہے جو کہ مرکزی بینک کے افراط زر کے ہدف سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔

’مزید یہ کہ گھریلو اشیا کے استعمال میں کمی کے علاوہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے غریب گھرانوں پر غیر متناسب اثر پڑے گا۔‘

پالیسی بریف میں مزید کہا گیا ہے کہ کمبوڈیا، جزائر سلیمان اور وانواتو کے ساتھ پاکستان، دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کی شناخت ایسے دو ممالک کے طور پر بھی کی گئی جہاں بیرونی قرضوں اور بیرونی آمدن کا تناسب حد سے تجاوز کر گیا۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کرونا کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے صرف دو ہی سال بعد یوکرین جنگ کے نتیجے میں عالمی معیشت کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت