اور اب منکی پاکس- آخر ہم کب سیکھیں گے؟

ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہمارا جانوروں کے ساتھ ظالمانہ تعلق ہمیں ایسی تباہی کی طرف لے جا رہا ہے جس کے بارے میں ہم بے خبر ہیں۔

بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز کی طرف سے فراہم کردہ یہ ہینڈ آؤٹ تصویر 1997 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں منکی پوکس کی وبا پھوٹنے کی تحقیقات کے دوران لی گئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی/ برائن ڈبلیو جے ماہے، بی ایس سی، ایم اے، پی ایچ ڈی، ایس سی ڈی، ڈی ایس سی/ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن)

ہم کب سیکھیں گے؟ اب جب کہ منکی پاکس کے کیسز کینیڈا، پرتگال، سپین، برطانیہ اور امریکہ میں سامنے آ چکے ہیں، ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہمارا جانوروں کے ساتھ ظالمانہ تعلق ہمیں ایسی تباہی کی طرف لے جا رہا ہے جس کے بارے میں ہم بے خبر ہیں۔

جانوروں پر ظلم جاری رکھنے کی صورت میں ہم ایک اور عالمی وبا شروع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

سارس، سوائن فلو اور کووڈ 19 کی طرح منکی پاکس جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماری ہے جو دوسری انواع سے انسانوں میں آئی۔ افریقہ سے باہر منکی پاکس کا وائرس سب سے پہلے 2003 میں دیکھا گیا، جب یہ پالنے کے لیے برآمد کیے گئے غیر ملکی جانوروں سے چھ امریکی ریاستوں میں پھیلا۔

اس وائرس سے متاثر ہونے والے تمام 47 افراد کو یہ وائرس متاثرہ جانورں سے براہ راست منتقل ہوا۔ یہ وائرس کھانے پینے یا متاثرہ جانوروں کا گوشت پکانے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

حالیہ وبا کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ملکوں میں منکی پاکس کا وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ فروری میں اس سائنسی رپورٹ، جس کا سائنس دان جائزہ لے چکے ہیں، کے مطابق منکی پاکس سے لاحق خطرے کو’سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘

چیچک سے قریبی مماثلت رکھنے والے منکی پاکس کا وائرس انفیکشن کے بعد 21 دن تک جسم میں موجود رہتا ہے اور اس کی علامات سخت ہو سکتی ہیں۔ یہ وائرس پورے جسم پر چھالوں کا سبب بنتا ہے اور افریقہ میں اس کے شکار ہونے والے 10 افراد میں سے ایک شخص ہلاک ہو چکا ہے۔

اس وقت ہم نے تسلیم کیا ہے کہ جانوروں کو ان کے قدرتی ماحول سے نکال کر ایک دوسرے کے قریب گندے پنجروں میں بند کرنا (بازاروں یا فارمز میں) اور انہیں مارنے اور کھانے کا نتیجہ منکی پاکس جیسی مزید بیماریوں کی صورت میں سامنے آئے گا، جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں۔

ان بیماریوں میں ایسی تبدیلیاں بھی ہوں گی جن کی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی اور ممکنہ طور پر اس کے مہلک نتائج نکلیں گے۔ سائنس دان کووڈ 19 کے خلاف ویکسین تیار کرنے کے قابل تھے لیکن ہوسکتا ہے کہ وہ اگلی بار ایسا نہ کر سکیں۔

ہمیں جانوروں کو قابل استعمال چیز تصور کرنا بند کرکے اس کی بجائے انہیں وہ برادریاں سمجھنا ہو گا جن کے ساتھ ہم یہ زمین شیئر کرتے ہیں۔ تب تک ہم زیادہ مہلک وبائی امراض کے خطرے سے دوچار رہیں گے اور جانوروں کے ساتھ زیادہ بڑا ظلم ہوتا رہے گا۔

کوئی بھی شخص جو جانوروں سے حاصل شدہ خوراک یا مصنوعات اسعمال کرتا ہے، جانورں سے بدسلوکی میں شامل ہے۔ مسئلے کی جڑیں دنیا کے دیکھنے انداز میں ہیں، جو دوسرے جانوروں کو کم تر خیال کرتی ہے۔

ہم اس عمل کو’نوع پرستی‘کہتے ہیں۔ اس تعصب کا نتیجہ جانوروں کو خوراک، ملبوسات، تفریح، گھریلو آرائش حتیٰ کہ فاضل جسمانی حصوں کے طور پر استعمال کرنےکی صورت میں نکلا۔

ڈیوڈ بینٹ سینیئر وہ پہلے انسان تھے جنہیں اس سال کے شروع میں سؤر کا دل لگایا گیا اور اس کے فوری بعد ان کی موت ہو گئی۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ عضو کی طویل سکریننگ کے باوجود پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ وہ سؤر کے مخصوص وائرس کا شکار ہوئے۔

نوع پرستی کی وجہ سے جانوروں کو لیبارٹریز میں خوفناک تجربات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بیرون ملک سے لانے گئے جانوروں کو’پالتو‘کے طور پر پنجروں میں رکھا جاتا ہے۔ جو سلوک ہم جانوروں کے ساتھ کرتے ہیں اب اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہلک وبائیں ہماری طرف سے جانوروں کے استعمال اور ان کے ساتھ بدسلوکی پر ڈٹے رہنے کا نتیجہ ہیں۔ سمُور (نیولے سے مشابہہ جانور) کے فارمز سے ظاہر ہوا ہے کہ کووڈ 19 کس قدر آسانی کے ساتھ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

وبائی امراض کی تیاری اور جواب کے لیے قائم آزاد پینل نے خبردار کیا ہے کہ دنیا مستقبل کے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پینل کا کہنا ہے کہ ’(وبا) کی مزید لہروں کے مقابلے کے لیے سیاسی توجہ ایک جگہ مرکوز نہیں ہے۔ زنجیر میں ہر جگہ کمزور کڑیاں پائی جاتی ہیں۔آفت ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔‘

فیکٹریوں کے لیے بنائے گئے فارمز اور وہ مارکیٹیں جہاں بطور خوراک زندہ جانور فروخت کیے جاتے ہیں جیسا کہ وہ جگہ جہاں سے کووڈ 19 کی بیماری شروع ہوئی، جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ مذبح خانے جانوروں کے جسم سے نکلنے والی رطوبتوں اور غلاظت سے اٹے ہوتے ہیں۔ جانوروں کو جن میں’کھلے‘ فارمز کے جانور بھی شامل ہیں، گندے ٹرکوں میں بھر کر لے جایا جاتا ہے اور جراثیم جانوروں سے انسانوں کے درمیان تیزی سے پھیلتے ہیں۔

برطانیہ میں ایک شخص پہلے ہی برڈفلو کا شکار ہو چکا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں یہ بیماری انسانوں میں وبائی شکل میں پھیل سکتی ہے۔ برڈفلو متاثرہ مرغیوں حتیٰ کہ انڈوں کو چھونے، نیم پکا گوشت یا انڈے کھانے یا اسی جگہ پر تیار کی گئی خوراک کے استعمال سے ہو سکتا ہے جہاں وائرس سے متاثرہ خوراک تیار کی گئی۔

بات صرف اتنی نہیں کہ ہمیں وبائی امراض کے خطرے کا سامنا ہے۔ جانوروں کو زندہ رکھنے اور ان کی افرائش میں تیزی لانے کے لیے فارم کے کارکن اکثر انہیں اینٹی بائیوٹکس دیتے ہیں جس کا نتیجہ ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے’طاقتور جراثیم‘کی صورت میں نکلتا ہے جو انسانی صحت کے لیے سب بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔

مؤثر ادویات کے بغیر سادہ سی سرجریاں بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ 2050 تک سرطان کے مقابلے میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کے حامل بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن سے زیادہ لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ جیسے جیسے جارح طاقتور جراثیم سامنے آتے جا رہے ہیں، اس وقت ہماری طرف سے قدم نہ اٹھانے کی صورت میں انسانی ہلاکتیں سالانہ ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہیں۔

لہٰذا کیا کیا جا سکتا ہے؟

ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا (یا کسے) ہم اپنی پلیٹوں میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہم کیا لباس پہنتے ہیں، سجاوٹوں کا انتخاب کرتے ہیں اور ٹوائلٹ میں استعمال کے لیے کیا خریدتے ہیں۔ جب تک لوگ جانوروں کو برے سلوک کا نشانہ بناتے رہیں گے ہم ایسی بیماری پھوٹنے اور وباؤں کے خطرے کا سبب بنتے رہیں گے، جن کے لیے کوئی مؤثر ویکسین موجود نہیں ہے۔

ہم جانوروں پر ظلم کی بھی حمایت جاری رکھنے سمیت محسوسات کے مالک جانداروں کو بڑے پیمانے پر ذبح کرنے میں شریک رہیں گے۔ حل سادہ ہے۔ سبزیاں کھانا شروع کریں۔ جانوروں کو امن کے ساتھ رہنے دیں۔ ایسا رویہ اختیار کریں جس سے سب کے لیے ہمدردی ظاہر ہو۔ یہ انسانوں سمیت تمام جانوروں کے حق میں قدم اٹھانے کا وقت ہے۔


ڈاکٹر جولیا بینز برطانیہ میں جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پیپل فار دا ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیملز (پی ای ٹی اے)کے ساتھ سائنس پالیسی کی مشیر کی حیثیت سے منسلک ہیں۔ انہوں نے جانورں کے رویے اور فلاح وبہبود کے پس منظر کے ساتھ یونیورسٹی آف لیورپول سے ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ