آئی پی ایل فائنل: گجرات ٹائٹنز نے راجستھان رائلز کو شکست دے دی

گجرات ٹائٹنز کی ٹیم نے کپتان ہاردک پانڈیا کے 34، شبھمن گل کے 45 اور ڈیوڈ ملر کے 32 رنز کی بدولت 131 رنز کا مقررہ ہدف 19ویں اوور میں پورا کر لیا۔

13 مارچ 2022 کی اس تصویر میں گجرات ٹائٹنز کے کپتان ہاردک پانڈیا احمد آباد کے نریندرا مودی سٹیڈیم میں دیکھے جا سکتے ہیں(اے ایف پی)

بھارتی شہر احمد آباد میں کھیلے جانے والے آئی پی ایل فائنل میں گجرات ٹائٹنز کی ٹیم نے راجستھان رائلز کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔ یہ گجرات ٹائٹنز کا پہلا آئی پی ایل ٹورنامنٹ تھا۔

احمد آباد کے نریندرا مودی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں راجستھان رائلز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 130 رنز بنائے۔ رائلز کی جانب سے ٹاپ سکورر جوز بٹلر رہے جنہوں نے 35 گیندوں پر 39 رنز بنائے۔

گجرات ٹائٹنز کی جانب سے کپتان ہاردک پانڈیا نے چار اوورز میں 17 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں جن میں ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر جوز بٹلر کی وکٹ بھی شامل تھی، جوز بٹلر نے آئی پی ایل 2022 میں 863 رنز بنائے۔ جب کہ ٹائٹنز کے سپنر راشد خان نے اپنے چار اوورز میں 18 رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی۔

جواب میں گجرات ٹائٹنز کی ٹیم نے کپتان ہاردک پانڈیا کے 34 اور شبھمن گل کے 45 اور ڈیوڈ ملر کے  32 رنز کی بدولت مقررہ ہدف 19ویں اوور میں پورا کر لیا۔

دنیا کا سب سے بڑا سٹیڈیم:

بالی ووڈ کے ستاروں سے سجے اس میدان میں جب اتوار کو شائقین داخل ہوئے تو یہ اس میدان پر اب تک ہونے والا انڈین پریمیئر لیگ کا سب سے بڑا مقابلہ تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کرکٹ کے لیے بھارت کی محبت کی علامت احمد آباد کا نریندر مودی سٹیڈیم ایک لاکھ 32 ہزار شائقین کو جگہ دے سکتا ہے، جو آسٹریلیا کے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ سمیت کھیل کے کسی بھی دوسرے مقام سے زیادہ ہے۔

منتظمین کے مطابق فائنل دیکھنے کے لیے اس سٹیڈیم میں ایک لاکھ چار ہزار سے زائد تماشائی موجود تھے۔

اس سٹیڈیم کا افتتاح فروری 2020 میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی (جن کے نام پر اس سٹیڈیم کا نام رکھا گیا ہے) اور اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک زبردست ریلی کے ساتھ کیا تھا، تب سے اب تک اس سٹیڈیم میں کورونا (کرونا) کی وجہ سے کوئی کرکٹ نہیں دیکھی گئی تھی۔

تاہم اتوار کو کسی ماسک کے بغیر گجرات ٹائٹنز اور راجستھان رائلز کے حامی پیسے کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ کے فائنل کے لیے اس سٹیڈیم میں موجود تھے۔

یہ کسی افسانے سے کم نہیں:

ہینال چوکسی جو اپنی اہلیہ کے ساتھ میچ دیکھنے آئے تھے، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ کسی افسانے سے کم نہیں ہے۔‘

شائقین چہرے اور باڈی پینٹ اور وِگ پہنے، جھنڈے لہرا رہے تھے اور 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی میچ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

مغربی بھارت میں احمد آباد ریاست گجرات کا سب سے بڑا شہر ہے لہذا ٹائٹنز یہ میچ اپنے گھر پر کھیل رہے تھے، یاد رہے یہ ان کا پہلا سیزن تھا۔

گجرات کے شائقین نے اپنی ٹیم کی گہرے نیلے رنگ کی شرٹس میں کپتان ہاردک پانڈیا کے اونچے پوسٹرز کو آئی پی ایل ٹرافی کے ساتھ لگا رکھا تھا جس میں یہ نعرہ تھا کہ ’ہم گجراتی ہیں، ہم جہاں بھی جائیں، آتش بازی ہوتی ہے۔ یہ کپ ہمارا ہے۔‘

دکانداروں نے ہاردک کی گہرے نیلے رنگ کی جرسی کو 33 نمبر کے ساتھ سٹیڈیم کی طرف جانے والے فٹ پاتھوں پر تقریباً تین ڈالر میں فروخت کیا جب کہ زیادہ تر نوجوان ’گجرات گجرات‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

وارنی کی یاد میں:

اس میچ میں رائلز کی فتح شین وارن کے لیے بھی مناسب خراج تحسین ہوتی، جو آسٹریلیا کے عظیم کھلاڑی تھے جنہوں نے 2008 میں افتتاحی مقابلے میں انڈر ڈاگز کی پہلی اور واحد آئی پی ایل ٹرافی جیتی تھی۔

شین وارن کا اس سال مارچ میں 52 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا، جس نے کرکٹ کی دنیا کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔

آئی پی ایل کی بھارت واپسی:

 آسکر ایوارڈ یافتہ بھارتی میوزک کمپوزر اے آر رحمان بھرے سٹیڈیم میں میچ سے قبل تقریب میں پرفارم کرنے والے سرفہرست ستاروں میں شامل تھے، جہاں حکام کا کہنا تھا کہ تمام ٹکٹیں فروخت ہو چکی تھیں۔

یہ کرونا کی وبا کے بعد مکمل طور پر بھارت میں منعقد ہونے والا پہلا آئی پی ایل ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹورنامنٹ گذشتہ سال اپریل میں بھارت میں شروع ہوا تھا لیکن ایک ماہ بعد ملک بھر میں انفیکشن بڑھنے کے بعد اسے بیچ میں پر معطل کرنا پڑا تھا جس کے بعد اسے متحدہ عرب امارات میں مکمل کیا گیا تھا۔

اس سیزن میں بھارت کے کرکٹ بورڈ نے کرونا بندشوں کی وجہ سے آئی پی ایل کے لیگ مرحلے میں سٹیڈیمز میں نے نصف تعداد جب کہ چار پلے آفس کے لیے 100 فیصد تماشائیوں کو بیٹھنے کی اجازت دی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ