’ضمانت ختم ہونے پر عمران خان کو سکیورٹی گرفتار کرے گی‘

سابق وزیراعظم عمران خان 25 جون تک راہداری ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں جو انہوں نے دو جون کو پشاور ہائی کورٹ سے حاصل کی تھی۔

24 مئی 2022 کی کی اس تصویر میں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران(اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ سابق  وزیراعظم عمران خان کی ضمانت ختم ہونے پر ’انہی کی سکیورٹی‘ پر معمور اہلکار انہیں گرفتار کر لیں گے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں وزیر داخلہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’عمران خان کو اسلام آباد واپسی پرخوش آمدید کہتے ہیں اور قانون کے مطابق ان کو سکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔‘

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ ’عمران نیازی ملک میں ہنگامہ آرائی، فتنہ وفساد ،افراتفری پھیلانے اور وفاق پر مسلح حملوں کے جرائم کے تحت درج دو درجن سے زائد مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’عدالتی ضمانت ختم ہونے پر قانون کے مطابق فراہم کی گئی ’یہی‘ سکیورٹی عمران نیازی کو بڑی خوش اصلوبی سے گرفتار کرلے گی۔‘

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان 25 جون تک راہداری ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں جو انہوں نے دو جون کو پشاور ہائی کورٹ سے حاصل کی تھی۔

اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں سابق وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہیں جو 25 مئی کو پشاور سے اسلام آباد آنے والے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے بعد درج کیے گئے تھے۔

دو جون کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جس کے بعد جمعرات کو ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین کی تین ہفتوں کے لیے راہداری ضمانت منظور کر لی تھی، اور انہیں 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی تھی جس میں سابق وزیراعظم عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ ان کی آمد پر عدالت کا دروازہ بند کردیا گیا تھا اور میڈیا نمائندوں کا عدالت میں داخلہ ممنوع تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان کا ملکی حالات کے بارے میں کہنا تھا کہ ’یہ اصل میں پاکستان کا مسئلہ ہے، اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے، اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ  صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی کیونکہ ملک دیوالیہ ہوگا۔‘

ان کے اس بیان پر سینیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست