جو دور گزر گیا، وہی خوبصورت ہے

 موجودہ نسل دو تین دہائیوں کے بعد موجودہ دور کو یاد کر کے اپنے بچوں کو ماضی کے خالص ترین دور کی سیر کروائے گی۔ وقت کا دھارا یونہی بہتا رہے گا، کارواں چلتا رہے گا، کہ ہر دور جب ماضی بن جاتا ہے تو وہی دور خوبصورت کہلاتا ہے اور پھر ہم ناسٹیلجک کہلاتے ہیں۔

نئی نسل کا اپنا بھی تو ایک ماضی ہے اور ماضی کی حسین ترین یادیں اور چیزیں ہیں۔ پانچ روپے والی کانچ کی سوڈا بوتل کو، یا دو روپے کا سموسہ، ڈائلنگ اور کریڈل والا فون ہو۔(تصویر: پیکسلز)

پرانی روایات، رسوم، طرز زندگی تو آہستہ آہستہ بدلتا رہتا ہے، لیکن اس دور کو دیکھنے والے، اور اس زمانے کو برتنے والے کچھ لوگ شہر خموشاں کے باسی نہیں ہوتے بلکہ ہمارے آس پاس موجود ہوتے ہیں، نئے زمانے کو پرانی آنکھ سے دیکھتے ہیں، موازنہ کرتے ہیں اور ٹھنڈی آہ بھر کر اپنے دور کو یاد کرتے ہیں۔

مائی حاجن آج بھی بھی مارکیٹ سے گئے سفید براق کھیس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھیں، ’ویسا تانا بانا نہیں، جیسا کھڈی کے کھیس کا ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کھیس کی تہوں میں ہاتھ گھسا کر پھر سے موٹے شیشوں والی عینک کے پار سے غور سے دیکھا اور سر ہلا کر اپنے ہی کہے کی تصدیق کی، ’ارے کچھ بھی تو خالص نہ رہا، ہمارے زمانے میں کپاس کے کھیتوں سے روئی چن کے لاتے تھے، سب مرد عورت ایک ایک ڈوڈا چنتے اور اس میں سے کپاس کا پھول الگ کرتے اور خشک پتے الگ، دھوپ لگوائی جاتی، اس میں سے بنولے الگ کیے جاتے۔‘

وہ سانس لینے کو ذرا سی رکیں۔ ’پھر روئی کی پونیاں بنائی جاتیں، جیسے لالٹین کی ڈیوٹ ہوتی ہے، بتی کی طرح۔ پھر چرخے سے اس کو کات کے سوت بنایا جاتا، ایسا اکہرا اور ستھرا سوت، دھاگا بنتا تو یوں لگتا نوبیاہتا کے پیٹ کو نو مہینے پورے ہوئے۔ وہی خوشی محسوس ہوتی۔ پھر سوت کے پنے اٹھا کر جولاہے کے پاس لے جاتے، جولاہا کھڈی کے فریم پہ تانا بانا بنتا اور مرغابی کے انڈوں سی رنگت والے کھیس اور چادریں نکلتیں۔ یہ مشینی کھیس تو برائلر مرغی جیسے ہیں، کسی کام کے نہیں،‘ وہ مشینی کھیس ہاتھ سے پرے کرتے ہوئے بولیں۔ 

اب ان سے بحث نہیں کی جا سکتی تھی، کہ ان کے لاشعور پر ماضی کے سنہرے دور کی خوبصورت یادیں اور خالص چیزیں ثبت تھیں۔ اس کے بعد مائی حاجن کی نظر گھر کی جس بھی جدید چیز پر پڑی انہوں نے اس کا موازنہ اپنے دور کی اشیا سے کیا۔ 

اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل پر دھری کاسمیٹکس کی اشیا کو باری باری چھو کر دیکھا، پھر خود ہی بتانے لگیں کہ ان کے زمانے میں تو یہ رنگ برنگے میک اپ کے سامان اور بڑی بڑی شیشے والی دکانیں نہیں تھیں، ہاں مگر خوشبودار کریم کی سفید شیشیاں ہوتی تھیں۔ ہر ہفتے گلی میں ایک منیاری والا آتا اور کریم کی شیشیاں بھر دیتا تھا۔ سارے گھر کی خواتین ہر موقعے پر وہی کریم چہرے پہ لگاتی تھیں۔ بساطی ریڑھی پہ اپنا سامان سجائے آوازیں لگاتے۔ ناک میں ڈالنے والی لونگیں، پازیبیں، کنگن، بالوں کی سوئیاں، چاندی کی انگوٹھیاں، ریشمی رومال، کانوں کے اویزے، کانچ کی چوڑیاں لینے کے لیے لڑکیاں، بالیاں چلمنوں سے جھانکتیں اور خریداری کے لیے گھروں کی دہلیز پہ منتظر ہوتیں۔ 

غازے میں ایک ہلکے کاہی رنگ کی روغنی لپ سٹک ملتی تھی جو ہونٹوں پہ لگانے سے سرخ رنگ دینے لگتی۔ تب یہ جلد کی بیماریاں بھی کم تھیں۔ سرمہ اور کاجل گھر میں ہی پیس کر بنایا جاتا تھا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اماں حجن تو چلی گئیں مگر ذہن میں ان کی باتیں گونجتی رہیں۔ تانگے ختم ہوئے لیکن تانگے والے نہیں، ایسے ہی چرخے معدوم ہو گئے، لیکن چرخہ کاتنے والیاں نہیں، مٹی کی چاٹیاں اور ان کو روایتی مدھانی سے بلونے والیاں بھی موجود ہیں لیکن وہ مدھانیاں نہیں، بیلوں کی مدد سے چلنے والے رہٹ تو بند ہوئے، ان کو چلانے والے اب بھی اکا دکا موجود ہیں۔ اس لیے نہ تو ان کو ہمارے تانے بانے پسند ہیں نہ ملک شیک، نہ جدید سواریاں نہ الیکٹرک مدھانیاں۔ ان کا اپنا ماضی اور ناسٹیلجیا ہے اور وہ اس میں خوش ہیں۔

لیکن ان کے بعد آنے والی نسل کا اپنا بھی تو ایک ماضی ہے، اور ماضی کی حسین ترین یادیں اور چیزیں ہیں۔ پانچ روپے والی کانچ کی سوڈا بوتل کو، یا دو روپے کا سموسہ، ڈائلنگ اور کریڈل والا فون ہو یا خوشبو میں لپٹے ہلکے نیلے خط، اینٹینے والا ٹی وی ہو یا بٹنوں والا چھوٹا موبائل، چارلی کا پرفیوم ہو یا برف کے رنگ برنگے گولے گنڈے، ہر شے اگرچہ ماضی کا حصہ ہے لیکن اگلی نسل کے لیے بہترین یادیں ہیں۔ 

پتہ نہیں وقت بہت آگے نکل ہے یا معیار پیچھے رہ گیا ہے۔ لیکن جنریشن گیپ اور اپروچ کا جو فرق ہے وہ دریا کے ان دو کناروں جیسا ہے جو مل نہیں سکتے۔ بزرگ وقت کا پہیہ پیچھے موڑنا چاہتے ہیں، لیکن نوجوان نسل کا اپنا زمانہ اور اپنا ماضی ہے۔

 موجودہ نسل دو تین دہائیوں کے بعد موجودہ دور کو یاد کر کے اپنے بچوں کو ماضی کے خالص ترین دور کی سیر کروائے گی۔ وقت کا دھارا یونہی بہتا رہے گا، کارواں چلتا رہے گا، کہ ہر دور جب ماضی بن جاتا ہے تو وہی دور خوبصورت کہلاتا ہے اور پھر ہم ناسٹیلجک کہلاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ