سویڈن کی خاتون سے ریپ کے بعد سوری بولا تھا: ملزم کا اعتراف

ایس پی سٹی کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم میں بتایا کہ ریپ کے بعد اس نے خاتون سے سوری بولا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

اسلام آباد پولیس اس واقعے کی ترجیحی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ سویڈن کی ایک خاتون کے ان کے گھر پر ریپ میں مبینہ طور پر ملوث گارڈ نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

ایس پی سٹی نوشیرواں علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ملزم کے پاس سے ایک پرچہ بھی ملا ہے جس میں وقوعے کے بعد اس نے کچھ معلومات لکھی تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ معلومات کیس کی پیش رفت میں مددگار ثابت ہوں گی۔‘

مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ’ملزم کے ہاتھ سے لکھی تحریر فورینسک کے لیے بھیج دی گئی ہے اس لیے مزید اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔‘

تاہم انہوں نے بتایا کہ ’ملزم نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ جرم اس سے سرزد ہوا ہے۔‘ پولیس کے مطابق ملزم نے خاتون کے کپڑوں کو ریپ کرنے کی وجہ بتائی۔

ایس پی سٹی نوشیرواں علی نے بتایا: ’وقوعے کی رات وہ خاتون کے کمرے میں ان کے بستر کے نیچے چھپ گیا تھا اور بعد میں اس نے واردات کی۔‘

ایس پی سٹی کے مطابق: ’ملزم نے بتایا کہ ریپ کے بعد اس نے خاتون سے سوری بولا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایک روزہ جوڈیشل ریمانڈ کے بعد ملزم کو اب اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔

رواں ماہ سات جون کو اسلام آباد میں ایک غیرملکی امدادی ادارے کے ساتھ کام کرنے والی سویڈش خاتون شہری نے آبپارہ تھانے میں اپنے ساتھ ریپ کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ وہ اس سال سات جنوری کو ملازمت کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں اور جی سکس میں ایک گھر میں رہتی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابتدائی تحقیقات کے بعد 15 جون کو آئی جی اسلام آباد نے پریس بریفنگ میں ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے بتایا کہ ملزم ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں گارڈ تھا، جس نے خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا اور پھر فرار ہوگیا۔ 

آئی جی اکبر ناصر نے مزید بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران اعتراف جرم کر لیا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ ملزم کو ٹھوس شواہد کی روشنی میں سزا دلوا کر نشان عبرت بنایا جائے گا۔

ایف آئی آر کے مطابق سات جون کی شب ساڑھے 11 بجے متاثرہ خاتون کی رہائش گاہ پر موجود گارڈ نے ان کے کمرے میں گھس کر ان کا مبینہ ریپ کیا۔

خاتون نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے واضح انداز میں اسے زبانی طور پر منع کیا اور فوری طور پر کمرے سے چلے جانے کا کہا لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ ’میں نے شور مچانے کی کوشش کی تو اس نے میرا منہ بند کردیا۔ مجھے لگا کہ وہ مجھے مار دے گا۔‘

واقعے کے بعد غیرملکی خاتون نے تھانے سے رابطہ کیا اور انگریزی میں ایف آئی آر لکھوائی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریپ کے بعد ملزم نے ان سے کہا کہ وہ ان سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

ملزم خاتون سے اس واقعے کے بارے میں کسی کو نہ بتانے کا تقاضہ بھی کرتا رہا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو یا اس کی کمپنی کو پتہ چلے اور اس کی نوکری چلی جائے۔

واقعے کے بعد جب انڈپینڈنٹ اردو نے پولیس حکام سے رابطہ کیا تھا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں خاتون سے ریپ کے شواہد ملے ہیں جبکہ واقعے کے بعد سے خاتون ٹراما میں ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے واقعے کے بعد سویڈش سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن تاحال ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ کے ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی انڈیکس میں پاکستان کو 2019 میں 167 ممالک میں سے 164 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

یہ ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو خواتین کے لیے بدترین قرار دیے گئے ہیں۔ حکومتوں کی جانب سے اس سلسلے میں اقدامات عمومی طور پر ناکافی اور غیرموثر پائے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین