فرانس: سابقہ ہوٹل ملازمہ رکن پارلیمان بن گئیں

ایک دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ریشل کیک نامی سابقہ ہوٹل ملازمہ نے انتخابات میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس میں فتح بھی حاصل کر لی۔

(سکرین گریب)
 

فرانس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد صدر میکروں کی جماعت اکثریت کھو چکی ہے لیکن ان انتخابات میں ایک دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ریشل کیک نامی سابقہ ہوٹل ملازمہ نے انتخابات میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس میں فتح بھی حاصل کر لی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس میں نو تشکیل شدہ بائیں بازو کے نئے اتحاد اور انتہائی دائیں بازو کی زیادہ سیٹوں کے بعد صدر ایمانوئل میکروں پارلیمانی اکثریت کھو چکے ہیں۔

اکثریت کھونے کی وجہ سے دوسری مدت میں بڑی اصلاحات کے ان کے منصوبوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

اتوار کو ہونے والے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے نتائج سے فرانسیسی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کی وجہ سے مفلوج مقننہ اور میکروں کے دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اندرونی مسائل کی وجہ سے بھی خطرہ 44 سالہ میکرون کی توجہ تقسیم ہونے کا اندشہ ہے کیوںکہ وہ یوکرین پر روس کے حملے کو ختم کرنے اور یورپی یونین میں ایک اہم سیاستدان کی حیثیت سے نمایاں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

پیر کی علی الصبح وزارت داخلہ کے مکمل نتائج کے مطابق میکروں کے پاس 245 نشستیں ہیں جو 577 رکنی چیمبر میں بہت کم ہیں۔ انہیں اکثریت کے لیے 289 نشستیں درکار ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق ٹرن آؤٹ کم رہا، غیر حاضری کی شرح 53.77 فیصد ریکارڈ کی گئی جو پہلے راؤنڈ سے زیادہ ہے۔

خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق وزیر اعظم الزبیتھ بورن نے ایک بیان میں عہد کیا کہ:’ ’اپنے ملک کے استحکام کو یقینی بنانے اور ضروری اصلاحات کرنے کے لیے ہم کل سے اکثریت بنانے کے لیے کام کریں گے۔‘

اس نتیجے سے میکروں کی اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو شکت دی تھی اور وہ دو دہائیوں کے دوران دوسری بار جیتنے والے پہلے فرانسیسی صدر بنے۔

سینٹر فار پولیٹیکل ریسرچ آف سائنسز پو کے محقق برونو کاٹریس نے کہا کہ:’یہ ان کی ناقابل تسخیر شخیصیت کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔‘

وزارت کی جانب سے شائع کردہ نتائج کی بنیاد پر اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق 70 سالہ سخت بائیں بازو کے سربراہ جین لک میلنچون کی قیادت میں بائیں بازو کے نئے اتحاد این یو پی ای ایس نے 135 نشستیں حاصل کیں۔

میلینچون نے اتوار کے نتائج کو میکرون کے لیے ’سب سے بڑھ کر انتخابی ناکامی‘ قرار دیا۔

انہوں نے پیرس میں حامیوں سے کہا کہ پارلیمنٹ میں کوئی اکثریت نہیں ہوگی۔

انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین کی نیشنل ریلی پارٹی کے 89 اراکین نئی پارلیمنٹ میں موجود ہوں گے، جس سے یہ روایتی رائٹ دی ریپبلکنز (ایل آر) سے بھی آگے پارلیمنٹ کی سب سے بڑی دائیں بازو کی قوت بن جائے گی۔

پیرس پینتھیون سوربون یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر ڈومینک روسو نے کہا کہ: ’ان نتائج کی وجہ سے اصلاحات اور حکومت کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔‘

فرانس میں اب ممکنہ طور پر ہفتوں کا سیاسی تعطل ہوسکتا ہے کیونکہ صدر اتحاد کے لیے نئی جماعتو ں کے ساتھ رابطے  کرنا چاہتے ہیں۔

سب سے زیادہ امکان یہ ہوگا کہ فرانس کی دائیں بازو کی روایتی جماعت رپبلکنز کے ساتھ اتحاد کیا جائے جس کے 61 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ تاہم  پارٹی کے صدر کرسچن جیکب نے واضح کیا کہ کوئی آسان شراکت داری نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ’ اپوزیشن میں رہنے‘ کا ارادہ رکھتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ