گنجا کرکے ویڈیو بنانے پہ بحالی مرکز اہلکار گولی کا شکار

تھانہ پشتخرہ کی حدود میں پیش آنے والے واقعے کی بابت متعلقہ تھانہ حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزم راج ولی کی تلاش کے لیے چھاپے مار رہے ہیں، تاہم پولیس ابھی تک ان کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

بحالی مرکز کے مطابق ’نشہ کرنے والے دیگر مریضوں کی طرح ملزم  کے بال بھی منڈوائے گئے تھے، ان کے سروں میں  بےتحاشا جوئیں پڑ چکی ہوتی ہیں۔ پہلے ہی دن سے بحالی کا احساس پیدا کروا کے ان کی قوت ارادی مضبوط کی جاتی ہے۔‘ (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منشیات بحالی کے ایک مرکز کے حکام نے بتایا کہ سینٹرسے ایک سال قبل نکلنے والے نشے کے عادی فرد راج ولی نے ’اپنے سر کے بال  منڈوانے کو وجہ انتقام قرار دیتے ہوئے بحالی مرکز کے اہلکار شکیل باچا پر گولی چلائی‘ اور اس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔

زخمی شخص کو تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ شکیل باچا کے اہل خانہ کے مطابق، ملزم کے خلاف دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ شکیل اس وقت ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں پچھلے تین دن سے کوما میں ہیں۔

تھانہ پشتخرہ کی حدود میں پیش آنے والے واقعے کی بابت متعلقہ تھانہ حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزم راج ولی کو ڈھونڈنے کے لیے چھاپے پڑ رہے ہیں، تاہم پولیس ابھی تک ان کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

پولیس اہلکار عبدالطیف نے بتایا کہ ’خود ملزم کے گھر والے بھی اس کو پکڑوانے کے لیے تگ ودو کررہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اس کو پولیس کے حوالے کردیں۔‘

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے غیر سرکاری بحالی مرکز ’کیئر‘ کے فوکل پرسن محمد عارف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ راج ولی نامی نشے کے عادی ایک شخص کو ان کے گھر والے 10 اپریل 2021 میں بحالی مرکز پر علاج کی غرض سے لائے تھے تاہم دو ماہ بعد بعض مقدمات میں مطلوب ہونے کی وجہ سے پولیس ان کو ڈسچارج کروا کے اپنے ساتھ تھانے لے گئی۔

محمد عارف نے بتایا کہ ’دو ماہ کے عرصے میں راج ولی نے کسی قسم کے دھمکی آمیز الفاظ استعمال نہیں کیے تھے، البتہ ان کا رویہ بھی منشیات کے عادی تمام دوسرے افراد کی طرح تھا، جو عموماً دوران علاج نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’دوسرے منشیات کے عادی افراد کی طرح ملزم راج ولی کے بال بھی منڈوا دیے گئے تھے، جس کا مقصد ایسے مریضوں کی صفائی اور ان میں ایک نیا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے سروں میں گندگی کی وجہ سے بےتحاشا جوئیں پڑ چکی ہوتی ہیں، اور بال اس قدر خراب ہوچکے ہوتے ہیں کہ ان کا منڈوانا ہی بہترین حل سمجھا جاتا ہے۔ سر کے بال منڈوا کر یہ سب ایک جیسے ہوجاتے ہیں۔ ان میں پہلے ہی دن سے بحالی کا احساس پیدا کروا کے ان کی قوت ارادی مضبوط کی جاتی ہے۔‘

دوسری جانب شکیل کے چچا اور کیئر بحالی مرکز کے چیئرمین خان عامر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ملزم نے اس بات کو اس قدر دل پر لے لیا تھا کہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوسکا۔ اس نے میرے بھتیجے کو، جو میرے ساتھ کیئر سینٹر میں بطور اسسٹنٹ کام کرتا تھا، اس کے پیٹ میں گولی ماری، اور ساتھ یہ بھی کہتا رہا کہ سر کے بال کیوں منڈوائے اور ویڈیو کیوں بنائی۔ واقعے کے گواہان اور ریکارڈنگ میرے پاس محفوظ ہے۔ لوگ اس کی منت کرتے رہے کہ زخمی کو ہسپتال پہنچائیں، لیکن وہ سب کو نزدیک نہ جانے کا کہتا رہا۔‘

عامر نے بتایا کہ زخمی ہونے والے شکیل تقریباً دس ماہ پہلے پشاور میں کام چھوڑ کر اٹک میں منشیات بحالی ایک سینٹر چلے گئے تھے۔ ’تین دن قبل وہ پشتخرہ میں ایک منشیات بحالی مرکز نیو لائف کے ایڈمن کے پاس کسی کام کی غرض سے پشاور آئے تھے۔ متعلقہ ادارے کو شکیل نے جانے سے قبل فون بھی کیا تھا۔ اسی دوران جب وہ موٹر سائیکل سے جا رہے تھے، تو راستے میں ایک مقام پر ملزم نے ان کو روک لیا۔‘

زخمی شخص کے چچا کے مطابق ’چونکہ ابھی تک ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا چکا ہے، لہذا یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ ملزم کو شکیل کے بارے میں اطلاع کس نے دی تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان