آئی ایم ایف سے معاہدے پر جلد دستخط کا امکان

حکومت پاکستان کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ دستاویز پاکستان کو ملنے کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفود قرض پروگرام بحالی کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر ملیں گے اور معاہدے پر دستخط کر دیے جائیں گے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے واشنگٹن میں قائم مرکزی دفتر کی یہ تصویر 5 اپریل 2021 کو لی گئی تصویر (فوٹو اے ایف پی)

ایوان وزیراعظم کے ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز فریم ورک کا مسودہ پیر کو پاکستان کے حوالے کر دے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پاکستان کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ دستاویز پاکستان کو ملنے کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفود قرض پروگرام بحالی کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر ملیں گے اور معاہدے پر دستخط کر دیے جائیں گے۔

قواعد کے مطابق سٹاف لیول معاہدے کے 15 سے 20 روز بعد آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کی میٹنگ ہوگی جس میں اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی اور پاکستان کو اگلی قسط موصول ہو جائے گی۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ ’آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے مذاکرات اب بجٹ منظوری کے بعد ہوں گے۔‘

حکومت نے 11 جون کو بجٹ پیش کیا تھا لیکن اس بجٹ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹیکسز بجٹ میں کم تھے لیکن آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے پر 80 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال کر ٹیکسز ایک لاکھ تنخواہ لینے والوں پر بھی لگا دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق: ’اب پہلے بجٹ منظور ہوگا۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کی طرف سے وزیرخزانہ اور گورنراسٹیٹ بینک دستخط کریں گے۔‘

آئی ایم ایف میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی کیا ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو کو میسر معلومات کے مطابق آئی ایم ایف ابتدائی مذاکرات کے بعد ایک دستاویز تیار کرتا ہے جس میں حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی تفصیل درج ہوتی ہے اسٹاف لیول معاہدے پر دستخط سے پہلے اس دستاویز پر فریقین کا متفق ہونا ضروری ہوتا ہے، پھر یہی مسودہ اگلی قسط کے اجرا کے لیے ایگزیکٹو بورڈ میں منظوری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف کی طرف سے دیے گئے اہداف اور اسٹرکچرل بینچ مارکس بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔

آئی ایم ایف قسط ملنے کے بعد پاکستان کی معیشت پر کیا اثر ہو گا؟

سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اہمیت صرف ایک ارب ڈالر کی نہیں ہے بلکہ آئی ایم ایف پروگرام بحال ہونے سے پاکستان کے لیے مختلف دوسرے راستے کُھل جائیں گے اس کے لیے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں بھی پاکستان کو رسائی حاصل ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ لیکن اندرونی سطح پر معاشی ترقی کی رفتار کم ہوجائے گی، ملازمتیں کم ہوں گی جس کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف سے ہٹ کر کچھ اقدامات کرنے ہوں گے جس سے ملکی وسائل کا استعمال ہو سکے اور برآمدات بڑھ سکیں۔

یہ بھی پرھیے: آئی ایم ایف پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہو جائے گا: وزیر خزانہ

انہوں نے کہا کہ ’آنے والے تین چار ماہ پاکستان کے لیے مہنگائی زیادہ ہی رہے گی۔ اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی کفایت شعاری کرنا ہو گی۔‘

معاشی امور کے ماہر صحافی شکیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے آئی ایم ایف سے ممکنہ معاہدے میں پیش رفت کے باعث پاکستان ڈیفالٹ جیسی صورت حال سے نکل آیا ہے کیوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمنٹ میں عبوری بجٹ پیش کرکے 10 سے 15 روز کے اندر ہی آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

’466 ارب روپے کے ٹیکس لگا کر سالانہ ہدف 7.47 کھرب کر دیا گیا ہے، پیٹرولیم پر سبسڈی ختم اور بجلی کے نرخ میں تیزی سے اضافے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت دیکھتے ہوئے چین نے بھی پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ فراہم کر دیا ہے، سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے زخائر آٹھ ارب ڈالر کی خطرناک سطح تک کم ہوگئے ہیں تھے۔

شکیل احمد کے مطابق: ’آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پانے کے بعد اب ورلڈ بینک، اے ڈی بی سمیت عالمی اداروں اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے بھی مالی تعاون ملنے کا امکان ہے، معاشی مشکلات میں وقتی طور پر کمی آئے گی لیکن اگلے مالی سال 41 ارب ڈالر کی مالی ضروریات پوری کرنا پھر ایک بڑا چیلنج ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کی متعدد سخت شرائط پوری کر دی ہیں لیکن آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سے پہلے بعض پیشگی شرائط بھی سامنے آسکتی ہیں، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کی مدت بڑھانے کی درخواست

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بیان دیا تھا کہ پاکستان کی جانب قرض پروگرام چھ ارب ڈالرسے بڑھاکر آٹھ ارب ڈالرکرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض کی مدت میں بھی ایک سال کی توسیع مانگی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ پروگرام 2023 کے بجائے2024 تک چلے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بوجھ آئی ایم ایف نے نہیں، حکومتوں نے ڈالا ہے‘

یہ درخواست اتحادی حکومت نے اپریل میں حکومت سنبھالتے ہی دی تھی۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ پروگرام میں توسیع کر دے گا۔

نئی قسط کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط

آئی ایم ایف کی شرائط میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی واپس لینے، بجلی کے نرخ بڑھانے اور نئے بجٹ میں 466 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کے اہداف شامل تھے۔

معاشی امور کے ماہر صحافی شکیل احمد نے بتایا کہ حکومت آئی ایم ایف کو یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات پر 10 روپے لیٹر لیوی لگانے اور پھر اس میں ماہانہ 5 روپے اضافے کی یقین دہانی کرا چکا ہے اسے 50 روپے لیٹر تک لے جایا جائے گا۔

جولائی 2019 میں پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کے پاس گیا تھا اور اُس وقت آئی ایم ایف نے چھ ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا۔ پاکستان آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کے قرض میں سے تین ارب ڈالر پہلے ہی حاصل کر چکا ہے۔

رواں برس فروری میں پاکستان کو مختلف جائزوں اور کڑی شرائط کے ساتھ ایک ارب ڈالر کی قسط ملی تھی جس کے بعد پروگرام تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت