دبئی میں مقیم پاکستانی خاتون باکسر کے ٹو سر کرنے روانہ

پیشہ ورانہ طور پر دبئی میں ایک بینکر اور باکسر نائلہ کیانی کا پہاڑوں کے لیے شوق جولائی 2018 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب کے ٹو بیس کیمپ میں ان کی شادی کی چھوٹی سی تقریب کی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئیں۔

دبئی میں مقیم پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی پاکستان میں واقع دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کے سفر پر روانہ ہو چکی ہیں۔

وہ گذشتہ سال دنیا کی 13ویں بلند ترین چوٹی گاشربرم دوم کو کامیابی سے سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما بن گئیں تھیں جو سطح سمندر سے آٹھ ہزار میٹر سے زائد کی بلندی پر ہے۔

پیشہ ورانہ طور پر دبئی میں ایک بینکر اور باکسر نائلہ کیانی کا پہاڑوں کے لیے شوق جولائی 2018 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب کے ٹو بیس کیمپ میں ان کی شادی کی چھوٹی سی تقریب کی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئیں۔

شادی کے روایتی سرخ جوڑے میں ان کے فوٹو شوٹ کی وجہ سے انہیں’کے ٹو برائیڈ‘ کا خطاب ملا۔

دبئی میں مقیم پاکستانی کوہ پیما، جن کا تعلق راولپنڈی سے ہے، کی نظریں اب کے ٹو پر جمی ہیں جو جو پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے اور اسے ’قاتل پہاڑ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اسے دنیا کا مہلک ترین پہاڑ سمجھا جاتا ہے کیونکہ چوٹی سر کرنے کی کوشش کرنے والے ہر چار میں سے تقریبا ایک کوہ پیما راستے میں ہی مر جاتا ہے۔

نائلہ کیانی جو اس وقت سکردو میں ہیں، کا کہنا ہے کہ ’میں کے ٹو سے اس وقت مرعوب ہوئی، جب چار سال قبل کے ٹو بیس کیمپ گئی تھی۔ ویسے بھی، ہر کوہ پیما یا ٹریکر کے ٹو سر کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔ بنیادی طور پرگذشتہ سال جب میں جی ٹو (گاشربرم ٹو) سے اتری تو علی رضا سدپارہ جو میرے رہنما اور استاد بھی تھے، نے مجھے اس سال ان کے ساتھ کے ٹو سر کرنے کی ترغیب دی۔ اس لیے یہ حوصلہ افزائی اور خواب تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میں بہت پرجوش ہوں کیونکہ پچھلے چند ماہ کام، بچوں کی دیکھ بھال، مہم اور تربیت کی تیاری کرنے کے لیے بہت، بہت دباؤ والے تھے۔ اورمیں یہ واقعی شروع کرنا چاہتی ہوں کیونکہ جس دن میں مہم شروع کروں گی تو سارا دباؤ ختم ہوجائے گا۔ میں واقعی اس کی منتظر ہوں۔‘

سدپارہ ایک چٹان سے پھسل کر کھائی میں گر کر زخمی ہوگئے اورچند ہفتوں بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مئی میں سکردو میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ اس موسم گرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے تھے۔

نائلہ کیانی، جن کے دو چھوٹے بچے ہیں، نے کہا کہ وہ اس خطرناک چڑھائی سے آگاہ ہیں اور اپنی حفاظت کو سب سے اہم رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ کوہ پیما بننا نہیں چاہتی تھیں یہ’محض اتفاق‘ تھا: ’مجھے پہاڑوں سے ہمیشہ محبت تھی، لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک دن پہاڑ سر کروں گی۔ لہذا میں سمجھتی ہوں کہ یہ کسی طرح محض اتفاق تھا۔ جب میں چار سال پہلے کے ٹو بیس کیمپ میں ٹریکنگ کر رہی تھی اور گونڈوگورو پاس عبور کر رہی تھی تو میں نے سوچا کہ میں ایک دن پہاڑ پر چڑھوں گی۔ اور گزشتہ سال میں نے گاشربرم دوم کو سر کیا تھا۔‘

نائلہ کیانی کا ماننا ہے کہ پاکستانی خواتین انتہائی باصلاحیت ہیں اور انہیں صرف کسی ایسے کی ضرورت ہے جو ان کی حمایت کرے اور ان کے خوابوں پر یقین رکھے۔

انہوں نے کہا کہ:’بہت بڑا خواب دیکھو۔ جب آپ کا کوئی مقصد ہو تو مشکلات کا نہ سوچیں، اگر آپ کو کسی مشکل کا سامنا ہے تو اسے تھوڑا تھوڑا حل کرتے رہیں، ہمت نہ ہاریں اور ایک دن آپ اپنا خواب پورا کر لیں گے۔‘

نائلہ کیانی کے علاوہ سعودی عرب میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے لبنانی کوہ پیما نیلی عطار اور پاکستان کی ثمینہ بیگ بھی رواں موسم گرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کریں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین