حزب اختلاف میں نئے سینیٹ چیئرمین پر اتفاق نہ ہوسکا

حزب اختلاف کی جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے مختلف ناموں پر بحث ہوئی، تاہم اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنما کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

 اپوزیشن جماعتوں کے رہنما نئے  سینیٹ چیئرمین کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے (بشکریہ سینیٹ آف پاکستان آفیشل فیس بک پیج)

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان نئے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعے کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے مختلف ناموں پر بحث ہوئی، تاہم اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنما کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

کمیٹی کے اجلاس کے بعد خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ اور جمیعت علما اسلام (ف) کے رہنما محمد اکرم درانی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے سے متعلق قرارداد 9 جولائی کو سینیٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی میں نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے ناموں پر تبادلہ خیال ہوا لیکن کسی ایک پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئے چیئرمین کے انتخاب کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کے امیدوار کے نام کا اعلان 11 جولائی تک کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اختلاف 25 جولائی کو تحریک انصاف حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ’یوم سیاہ‘ بھی منائے گے۔ گذشتہ سال اسی دن پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے تھے جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت وجود میں آئی تھی۔ انہوں نے کمیٹی کے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا کہ صوبائی سطح پر رابطہ کار کمیٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ 25 جولائی کو مظاہروں کا اہتمام کیا جا سکے۔

26 جون کو اپوزیشن جماعتوں کی ایک کل جماعتی کانفرنس میں اس کے رہنماؤں نے چیئرمین سینیٹ کو آئینی طریقے سے ہٹانے اور بقول ان کے 'دھاندلی زدہ' عام انتخابات کے خلاف 25 جولائی کو 'یوم سیاہ' منانے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکرم درانی نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان کے اراکین پارلیمانی کمیٹیوں سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں رہبر کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے اور ہر دو ماہ بعد حزب اختلاف کی دوسری کسی جماعت کا نمائندہ کمیٹی کا کنوینر بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات میں پولنگ سٹیشنز کے اندر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کو مسترد کر دیا ہے۔ اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ’ملک میں ایک نیا سیاسی نظام قائم کیا جا رہا ہے جس کے ہم بالکل حق میں نہیں ہیں۔‘

اکرم خان درانی نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی بھی مذمت کی اور ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ نواز کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ، پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر اور نیئر حسین بخاری، جے یو آئی (ف) کے اکرم خان درانی، ںیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو، جمیعت علما پاکستان کے اویس نورانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین نے شرکت کی۔

صادق سنجرانی کو گذشتہ برس عام انتخابات سے قبل تین مارچ کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے نیا سینیٹ چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔ اُس وقت حزب اختلاف کی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی کے کردار پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست