کوئٹہ کے افغانی کباب جن میں کوئی مصالحہ شامل نہیں ہوتا

مخصوص طریقے سے بنائے جانے والے یہ کباب خالص گوشت پر مشتمل ہوتے ہیں، جنہیں بغیر مصالحوں کے بنایا جاتا ہے۔

دکان کے مالک خیرالدین افغانی نے بتایا کہ مصالحے نہ لگانے سے ان کا تکہ اور قیمے والے کباب زود ہضم ہوتے ہیں (فوٹو: ویڈیو سکرین گریب/ انڈپینڈنٹ اردو)

کوئٹہ کی اس دکان میں دھویں کے مرغولوں کے پیچھے ہاتھ کا پنکھے چلاتے یہ افراد خاص قسم کے افغانی کباب کی تیاری میں مصروف ہیں۔

مخصوص طریقے سے بنائے جانے والے یہ کباب خالص گوشت پر مشتمل ہوتے ہیں، جنہیں بغیر مصالحوں کے بنایا جاتا ہے۔

دکان کے مالک خیر الدین افغانی کا دعویٰ ہے کہ کوئٹہ میں سب سے پہلے اس کی ابتدا ان کے ہی خاندان نے کی تھی اور انہیں یہ کام کرتے ہوئے 35 سال ہوگئے ہیں جبکہ وہ خود 20 سال سے اس کام سے منسلک ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ یہ افغانستان کے لوگوں کی پسندیدہ خوراک ہے، جس کی شہرت کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ اسے کوئلے پر پکایا جاتا ہے اور اس میں اور کوئی چیز شامل نہیں کی جاتی۔ ’باقی کباب مصالحوں کے بغیر نہیں بنتے لیکن اس میں کوئی مصالحہ شامل نہیں کیا جاتا۔‘

خیرالدین کے بقول: ’جب ہم نے اس دکان کو شروع کیا تو اس کے کھانے والے صرف افغانستان کے باشندے تھے۔ اب یہ صورت حال ہے کہ یہاں کے مقامی لوگوں کے علاوہ جو کوئی بھی کوئٹہ آتا ہے، وہ اس کباب کے ذائقے کو چکھے بغیر یہاں سے نہیں جاتا۔‘

انہوں نے بتایا کہ مصالحے نہ لگانے سے ان کا تکہ اور قیمے والے کباب زود ہضم ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ روزانہ 80 سے 90 کلو گرام گوشت استعمال کرتے ہیں، جس میں سے 35 کلو گرام صرف قیمہ ہوتا ہے۔

’یہ بیل اور گائے کا گوشت ہوتا ہے، جس کو ہم تکے کے لیے الگ کاٹ کر بناتے ہیں۔ اسے لہسن اور پیاز کا پانی لگاتے ہیں۔ ہر گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ دنبے کی چربی بھی لگاتے ہیں جو گوشت کو گلنے میں مدد دیتا ہے۔ دنبے کا گوشت گرمیوں میں استعمال نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ گرم ہوتا ہے، لیکن اس کی چربی کی خاصیت ٹھنڈی ہوتی ہے۔‘

خیرالدین نے بتایا کہ افغانی کباب یہاں پر کھانے کے علاوہ لوگ پکنک کے لیے بھی بنواتے ہیں۔ ’بڑی عید پر لوگ ہمارے پاس آتے ہیں کہ اس کو بنانے کا طریقہ ہمیں بتادیں، جسے ہم سمجھا دیتے ہیں کہ کس طرح بنانا ہے۔‘

کبابوں اس دکان کی خاصیت یہ کہ اس کو اندر سے اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ یہ افغانستان کی یاد دلاتی ہے۔ یہاں کی دیواروں پر افغانی قالین بھی لگائے گئے ہیں اور اس کے کاریگر بھی خاص ہوتے ہیں۔

افغانی کباب کھانے کے شوقین محمد اقبال اکثر یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’یہ افغانی کباب یہاں کے لوگوں میں بہت مشہور ہیں۔ میں خود یہاں سے دور بیوٹمز (لوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز) میں پڑھتا تھا۔ اس دوران بھی ہم یونیورسٹی سے دوستوں کے ساتھ اسے کھانے کے لیے اس دکان کا رخ کرتے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ کباب افغان باشندوں کی پسندیدہ ڈشوں میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ شہرت یہ ہے کہ  خالص اجزا سے بنایا جاتا ہے، جس میں کوئی مصالحہ شامل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے کھانے والے کا دل مزید کھانے کو کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شام کے وقت تو رش کے باعث لوگوں کو یہاں بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔

اقبال نے بتایا کہ وہ عید تہواروں، شادی بیاہ کے موقعوں یا دوستوں کے ساتھ بار بی کیو پروگرام کے لیے یہاں سے کباب بنواتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہمارے مہمان بھی جب کہیں باہر سے آتے ہیں، تو وہ بھی فرمائش کرتے ہیں کہ ہمیں بھی یہ کھانا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا