طالبان کی اندرونی تقسیم

اصل دھڑے بندی حقانی نیٹ ورک اور  قندھاری طالبان کے درمیان ہے۔ قندھاریوں کو شکایت ہے کہ فوجی طاقت حقانیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہے۔ دوسری جانب حقانیوں کو اعتراض ہے کہ قندھاری طالبان نے زیادہ تر سرکاری نوکریاں چھین لی ہیں۔

آٹھ جولائی 2022 کو لی گئی اس تصویر میں ایک طالبان جنگجو صوبہ پنجشیر کے ضلع انابا کے ایک گاؤں میں تعینات ہے۔ طالبان گروپوں کے درمیان دھڑے بندی طاقت اور وسائل کی تقسیم کے معاملات کے گرد گھوم رہی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

طالبان نے افغانستان کا کنٹرول گذشتہ سال اگست میں توسنبھال لیا لیکن وہ اقتدار سنبھالنے اور ملک چلانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکی اقتصادی پابندیوں اور افغان مرکزی بینک کے ساڑھے نو ارب ڈالر کے ذخائر منجمد کرنے کے فیصلوں نے افغان معیشت کو مفلوج اور طالبان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔

اپنی مزاحمت کے 20 سالوں کے دوران طالبان نے مثالی تنظیمی ہم آہنگی برقرار رکھی اور ان کے ٹوٹنے یا منقسم ہونے کی تمام پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔

مزاحمت کاری اور افغانستان سے امریکہ کو نکالنے کے مشترکہ مقصد نے طالبان کو ان کے غیر مرکزی ڈھانچے کے باوجود متحد رکھا، تاہم اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کی ہم آہنگی شدید دباؤ میں آ گئی ہے، جس سے ان کی اندرونی تنظیم کا امتحان ہو رہا ہے۔

طالبان کے لیے ایک باغی تحریک سے ایک سیاسی تحریک میں تبدیلی نظریاتی جواز کھونے اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے خطرات سے بھری ہوئی ہے۔ فی الحال یہ تحریک زمینی حقائق کو ترجیح دینے والوں، جو بین الاقوامی شناخت کے لیے اعتدال پسندی کی وکالت کرتے ہیں، اور سخت گیر نظریاتی طبقے، جو نظریات کو مقدم اور خالص رکھنے کی وکالت کرتے ہیں، کے درمیان تقسیم نظر آتی ہے۔

اسی طرح اول الذکر طبقہ القاعدہ کے خلاف سخت پالیسی کا حامی ہے جبکہ مؤخر الذکر اس کا مخالف ہے۔ یہاں اس پہلو کی اہمیت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ان دونوں طبقات کے درمیان کوئی واضح اور صاف لکیر موجود نہیں ہے۔

عملیت پسند اور سخت گیر، طالبان کے تمام دھڑوں میں پائے جاتے ہیں جو اس اندرونی تقسیم کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر حقانی نیٹ ورک لڑکیوں کی تعلیم، دنیا کے ساتھ سیاسی روابط اور وابستگی اور جامع سیاسی ڈھانچے کی وکالت کرتا ہے جبکہ اس دوران وہ القاعدہ کے بھی کافی قریب ہیں۔

اس وقت افغانستان میں طاقت کے دو مراکز ہیں: کابل (سیاسی) اور قندھار (نظریاتی)۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ اور ان کی مذہبی کونسل قندھار میں بیٹھی ہے۔ ہبت اللہ کی مذہبی کونسل کابل میں سیاسی رہنماؤں کے کسی بھی فیصلے کو ویٹو کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مارچ میں طالبان کی کابینہ نے لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھولنے کا فیصلہ کیا، تاہم طالبان کی کابینہ کو اس فیصلے کی وضاحت کے لیے قندھار کا سفر کرنا پڑا جس میں مذہبی کونسل کو اس فیصلے پر تحفظات تھے۔

سخت گیر اور عملیت پسندوں کے درمیان اس اجلاس کے دوران شدید اختلافات کے بعد ہبت اللہ نے اس فیصلے کو روک دیا اور لڑکیوں کے تمام سکولوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارشات کی فہرست بنانے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا۔

طالبان گروپوں کے درمیان دھڑے بندی طاقت اور وسائل کی تقسیم کے معاملات کے گرد گھوم رہی ہے۔ اصل دھڑے بندی حقانی نیٹ ورک اور  قندھاری طالبان کے درمیان ہے۔ قندھاریوں کو شکایت ہے کہ فوجی طاقت حقانیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہے۔ دوسری جانب حقانیوں کو اعتراض ہے کہ قندھاری طالبان نے زیادہ تر سرکاری نوکریاں چھین لی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حقانیوں اور قندھاریوں کے درمیان اختلاف کا ایک اور نکتہ افغان جنگ کی فتح کے کریڈٹ پر نہ ختم ہونے والی بحث ہے۔ قندھاریوں کا کہنا ہے کہ فتح دوحہ معاہدے کے بعد ممکن ہوئی جس میں ملا برادر نے 2020 میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات کو انجام تک پہنچایا۔

اس کے برعکس حقانی کہتے ہیں کہ فتح فوجی جدوجہد کے ذریعے حاصل ہوئی جس کے لیے انہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ حقانیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کے خلاف لڑائی میں خودکش بمباروں کا بڑا حصہ ڈالا۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ حقانی نیٹ ورک کابل میں اپنے ہائی پروفائل حملوں کے لیے مشہور تھا۔

طالبان کی صفوں میں نسلی تقسیم بھی پیدا ہو رہی ہے۔ بنیادی طور پر طالبان ایک پشتون اکثریتی دیوبندی مزاحمتی تحریک ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں طالبان نے ازبک، تاجک اور کچھ ہزارہ کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں کلیدی عہدے دیے ہیں۔ مثال کے طور پر طالبان کے چیف آف سٹاف قاری فصیح الدین فطرت، جنہیں طالبان کے افغانستان پر تیزی سے قبضے کا سہرا دیا جاتا ہے، وہ ایک نسلی تاجک ہیں۔

کسی نہ کسی درجے میں غیر پشتون طالبان کو پشتون طالبان کے امتیازی اور متعصبانہ رویے پر تحفظات ہیں۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ طالبان حکومت کی 53 رکنی تمام مرد کابینہ میں 43 پشتون، چار تاجک، دو ازبک  اور ایک ایک خواجہ، ہزارہ، نورستانی اور ترکمان ارکان شامل ہیں۔

طالبان میں جنم لیتی نسلی دراڑیں جون میں اس وقت نمودار ہوئیں جب ضلع  بلخاب سے تعلق رکھنے والے واحد نسلی ہزارہ شیعہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی منحرف ہو کر اپنے علاقے میں واپس چلے گئے اور اپنے سینکڑوں حامیوں کو متحرک کیا۔ طالبان نے بغاوت کو کچلنے کے لیے بلخاب میں ان کا پیچھا کیا۔ مولوی مہدی  کا انحراف افغانستان میں نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح فروری میں طالبان نے ایک بااثر ازبک طالبان کمانڈر مخدوم عالم کو معمولی بنیاد پر گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری نے صوبہ فاریاب میں فوری احتجاج کو جنم دیا۔ کمانڈر مخدوم عالم کو شمال میں طالبان کی تین فوری فتوحات کا سہرا دیا جاتا ہے جہاں روایتی طور پر طالبان کمزور تھے۔

اگرچہ طالبان نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے لیکن ان کی طرف سے ایک باغی تحریک سے سیاسی تحریک میں منتقل ہونے اور حکومت کرنے والے ادارے کی صورت اختیار کرنے میں تذبذب دکھائی دیتا ہے۔ اس تبدیلی کے لیے درکار سیاسی لچک اور نظریاتی موافقت کا طالبان میں فقدان ہے۔

اگر طالبان کے نسلی، سیاسی، نظریاتی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش قابو سے باہر ہو جائے تو ان کی داخلی تقسیم کے ساتھ ساتھ شمال میں بڑھتی ہوئی طالبان مخالف مزاحمت ان کے دورِحکومت کے لیے دروازے بند کر سکتی ہے۔

کابل میں لویہ جرگہ میں شرکت کرنے والے افغان علما کے اجتماع سے طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کے خطاب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کسی بھی طرح کی عملیت پسندی پر نظریاتی جواز کو ترجیح دیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ