گلزار کی اجازت اور ریکھا سے ملاقات

جب گلزار کی فلم اجازت پر لکھنے کے لیے میرا ہاشمی ریکھا سے ملیں اور اپنی کتاب کا مسودہ مکمل کیا۔

میرا ہاشمی کو کون نہیں جانتا، فیض احمد فیض کی نواسی اور سلیمہ ہاشمی کی بیٹی، مگر ان کی اپنی بھی ایک پہچان ہے اور وہ ہے ایک استاد، اداکار اور ایک لکھاری کی۔ میرا ہاشمی نے نوے کی دہائی میں مختلف مزاحیہ ٹی وی سٹ کامز میں کام کیا۔ مشہور زمانہ ڈرامے تین بٹا تین اور فیملی فرنٹ بھی ان میں شامل ہیں۔ میرا ہاشمی لاہور میں  فلم پڑھاتی ہیں اور انہیں فلمیں دیکھنے کا شوق بھی ہے۔ یہ فلموں کے بارے میں لکھتی بھی ہیں یعنی ان کا شوق اور پیشہ ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔

میرا ہاشمی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ چند ماہ قبل ہارپر کولنز انڈیا نے ان کی ایک کتاب چھاپی جو گلزار کی فلم اجازت پر لکھی گئی ہے۔ 137 منٹ طویل فلم اجازت کے ہدایت کار گلزار تھے، 1987 میں بنی بالی ووڈ کی اس فلم کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں ۔ اس کے مرکزی کردار نصیر الدین شاہ، ریکھا اور انورادھا پٹیل نے نبھائے تھے۔

ہارپر کولنز نے دس برس پہلے یہ سلسلہ شروع کیا کہ ہر سال وہ کسی ایک مشہور ترین فلم پر کتاب چھاپتے ہیں جیسے مغل اعظم، پاکیزہ، امر اکبر انتھونی وغیرہ۔ یہ ساری کمشنڈ کتابیں ہیں وہ لکھنے والے سے خود رابطہ کرتے ہیں اور ان سے کتاب لکھواتے ہیں۔ میرا کہتی ہیں:  ’میری کتاب 'گلزار کی اجازت' بھی ایک کمشنڈ کتاب ہے۔ میں فلموں کے بارے میں بہت عرصے سے لکھ رہی تھی۔ میری ایک دوست فائزہ سلطان خان بھارت میں رہتی تھیں۔ ان کا تعلق بھی پبلشنگ کی دنیا سے ہے۔ انہوں نے شانتانو رائے چوہدری جو ہارپر کولنز سے اس وقت منسلک تھے ان سے میرا ذکر کیا۔ وہ اس وقت کچھ لکھاری ڈھونڈ رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اصل میں تو انہوں نے مجھے جو ای میل کی وہ فلم اجازت کے حوالے سے نہیں بلکہ امیتابھ بچن کی فلم ڈان کے حوالے سے تھی۔ ڈان ویسے بھی میری پسندیدہ فلم تھی تو میں نے تو فورا ہاں کر دی۔ لیکن کچھ روز بعد ہی مجھے پھر میل آئی کہ ڈان پر ایک اور پبلشر کتاب لکھوا چکے ہیں اس لیے ہمارا کتاب چھاپنا اب نہیں بنتا، لیکن ہم گلزار کی تین فلموں پر بھی کتابیں لکھوا رہے ہیں جن میں آندھی، انگور اور اجازت شامل ہیں۔ اس طرح اجازت میری جھولی میں آگری۔ میں نے یہ فلم ایک بار دیکھی تھی مگر پھر میں نے اسے بار بار دیکھا اور ریسرچ کا کام شروع کیا۔‘

میرا بتاتی ہیں : ’جب میں نے اجازت پر کتاب لکھی تو میرے ذہن میں دو چیزیں تھیں ، ایک تو فلم کے تینوں کردار نصیر الدین شاہ، ریکھا اور انورادھا پٹیل۔ اور دوسرا تھا فلم کا میوزک۔‘

’کتاب میں پہلے میں نے گلزار کے بارے میں بات کی ہے کہ وہ فلموں کی دنیا میں کس طرح سے آئے۔ شاعری سے انہوں نے اپنے اس سفر کا آغاز کیا، پھر گیت لکھے، لکھاری اور ہدایتکار کے طور پر کام کیا۔ پھر میں نے اس بارے میں بتایا ہے کہ انہوں نے فلمیں ڈائریکٹ کس طرح کرنی شروع کیں، اور چلتے چلتے وہ فلم اجازت تک کیسے پہنچے۔ اس کے بعد فلم اجازت کی کہانی کے بارے میں لکھا ۔ گلزار کی یادیں جو اس فلم سے سے جڑی ہیں ان کے بارے میں لکھا، فلم پروڈکشن پر بات کی۔ ویسے یہ فلم بہت دیر تک پروڈکشن میں رہی تھی، فلم کی کاسٹ بھی شروع میں کچھ اور تھی بعد میں تبدیل کی گئی ۔

اس کے بعد فلم کے جو تین مرکزی کردار ہیں ان پر علیحدہ علیحدہ ایک باب لکھا ہے جس میں میں ان کرداروں کا تجزیہ کیا ہے۔‘

میرا نے ان کرداروں سے خود ملاقات کی جس کا احوال کچھ یوں سنایا انہوں نے:  ’میں نے ان تینوں ایکٹروں کو آمنے سامنے بیٹھ کر انٹرویو کیا۔ نصیر الدین شاہ کے ساتھ تو پہلے سے جان پہچان تھی کیونکہ انہوں نے فیض میلہ میں شرکت کی تھی تو ان کے گھر جاکر دو تین بار میں نے انہیں بہت تنگ کیا۔

 انورادھا پٹیل بہت اچھی خاتون ہیں ان کے ساتھ فون پر میری بہت لمبی بات ہوئی کیونکہ وہ بمبئی میں موجود نہیں تھیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’سب سے مشکل ریکھا جی سے رابطہ کرنا تھا۔ کیونکہ وہ لوگوں سے ملتی جلتی نہیں ہیں خاص طور پر اگر کوئی ان کے بارے میں یا ان کی فلموں کے بارے میں لکھ رہا ہو۔ لیکن میں شکر گزار ہوں گلزار کی، انہوں نے ہی ہماری ملاقات کروائی اپنے گھر پر۔ میں نے ان سے دو ڈھائی گھنٹے تک آرام سے بیٹھ کر بات چیت کی۔  ان کا ایک پبلک پرسونا ہے کہ وہ لوگوں سے نہیں ملتیں، پارٹیز میں نہیں جاتیں تو مجھے ہچکچاہٹ تھی کہ پتہ نہیں وہ کیسے بات کریں گی، ڈانٹ نہ دیں لیکن وہ بہت خلوص سے ملیں۔ سادہ لباس میں ملبوس زمین پر بیٹھ کر انہوں نے مجھ سے بات چیت کی ۔ انہوں نے بتایا کہ جو ان کا کریکٹر تھا 'سدھا' کا وہ اس کے بارے میں کیا سوچتی تھیں۔ پھر کچھ مزے کے واقعات تھے جیسے ایک سین تھا کہ نصیر الدین شاہ کا کریکٹر مہندر، اس کے دادا آرہے ہیں گائوں سے ملنے کے لیے، اور وہ برہمن ہیں جو ایک متبرک دھاگہ جسے جنیو کہتے ہیں پہنتے ہیں تو ویسے تو مہندر جنیو پہنتے ہی نہیں ہیں لیکن اب چونکہ دادو آرہے ہیں تو پہننا پڑے گا تو ریکھا جو ان کی بیوی سدھا بنی ہوئیں ہیں وہ انہیں وہ دھاگا پہنا رہی ہیں، اس کو پہناتے ہوئے جو منتر پڑھا جاتا ہے وہ پڑھ رہی ہیں جس میں انہیں شدھ سنسکرت بولنی تھی اور ریکھا سائوتھ انڈین ہیں۔ تو انہوں نےکہا مجھے تو ہندی مشکل سے آتی ہے میں سنسکرت میں کیسے بولتی تو گلزار نے انہیں وہ ساری لائنیں  رومن اردو میں لکھ کر دیں۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں جس سے سمجھ آتا ہے کہ ایک ایکٹر کی اپروچ کیا ہے۔ اور وہ کتنا زیادہ اپنے کردار میں سمویا ہوا ہے۔ ‘

میرا اس کتاب کے سلسلے میں 2015 میں دس روز کے لیے ممبئی گئیں جس میں انہوں نے ان سب ایکٹروں سے انٹر ویو کیا۔  پھر واپس آکر ریسرچ کی مگر اس کتاب کو چھپنے میں ذرا وقت لگا کیونکہ میرا ایک استاد ہیں اور ایک ماں بھی ہیں۔ تو اس لیے وقت نکالنا تھوڑا مشکل ہوا لیکن میرا ہاشمی نے اپنا مسودہ جنوری 2018 میں جمع کروا دیا۔ اس کے بعد ہارپر کولنز انڈیا نے اسے فروری 2019 میں کتاب کی شکل دے دی۔

میرا کہتی ہیں کہ گلزار کے سکرپٹ کسی شاعری سے کم نہیں ہیں ۔اجازت میں جو گانا ہے 'میرا کچھ سامان لوٹا دو' گلزار نے اسے لکھ کر جب آر ڈی برمن کو پیش کیا تو وہ دنگ رہ گئے کہ اسے گانا کیسے بناؤں؟  اسے پڑھ کر آرڈی برمن نے یہ ضرور کہا کہ ہاں بہت خوبصورت مکالمہ ہے تو وہیں گلزار نے کہا کہ یہ مکالمہ نہیں گانا ہے جو آپ نے کمپوز کرنا ہے۔  میرا کی نظر میں گلزار کی فلمیں ایک لکھاری کے طور پر اور ایک ہدایت کار کے طور پر سب سے ہٹ کر ہیں، ان کے مطابق آپ کسی اور کے کام کے ساتھ ان کے کام کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔

’افسوس کی بات یہ ہے کہ گلزار نے ہدایت کار کے طور پر اپنی آخری فلم بیس سال پہلے بنائی اس کے بعد انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا کیونکہ وہ بالی وڈ سے ناامید ہوگئے تھے۔ نصیر الدین شاہ کا بھی یہی خیال ہے کہ گلزار کی جیسی فلمیں اب بن ہی نہیں سکتیں کیونکہ ہندی سینما منافع کمانے پر زیادہ زور دے رہا ہے۔ گلزار کی فلمیں بہت پیسہ نہیں کماتی تھیں  مگر انہں خاص قسم کے لوگ دیکھا کرتے تھے اور انہیں فلم بنانے میں چند لوگوں کا ہی تعاون میسر آتا تھا تو وہ سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ادب