امریکی سی آئی اے ایمن الظواہری تک کیسے پہنچی؟

بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے انٹرویوز پر مبنی امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق القاعدہ کے 71 سالہ رہنما اپنے معمول کے مطابق اتوار کی صبح چھ بج کر 15 منٹ پر کابل میں اپنے تین منزلہ مکان کی بالکونی میں نمودار ہوئے، جو ان کے آخری لمحات ثابت ہوئے۔

القاعدہ کے میڈیا ونگ کی جانب سے مارچ 2012 میں جاری ویڈیو سے انٹیل سینٹر مانیٹرنگ گروپ کے حاصل کردہ سکرین گریب میں الظواہری ایک خطاب کے دوران (فائل فوٹو: اے ایف پی/ انٹیل سینٹر)

دو دہائیوں سے امریکہ کو مطلوب القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کے لیے ان کا روزمرہ کا معمول ہی جان لیوا ثابت ہوا، جب 31 جولائی کی صبح ایک امریکی میزائل نے انہیں ان کی بالکونی میں ہلاک کردیا۔

 صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے انٹرویوز پر مبنی امریکی میڈیا میں چھپنے والی رپورٹس کے مطابق القاعدہ کے 71 سالہ رہنما اپنے معمول کے مطابق اتوار کی صبح چھ بج کر 15 منٹ پر کابل کے محلے شیرپور میں اپنے تین منزلہ مکان کی بالکونی میں نمودار ہوئے، جو ان کے آخری لمحات ثابت ہوئے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وہ عام طور پر طلوع آفتاب کے بعد یہاں آتے، مگر ہمیشہ اکیلے ہوتے تھے۔ امریکی انٹیلی جنسی نے ان کے اسی معمول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپریشن کی منصوبہ بندی کی تاکہ نشانہ درست رہے اور کوئی اور جانی نقصان بھی نہ ہو۔ 

القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے بعد تنظیم کے سربراہ بننے والے ایمن الظواہری کو نائن الیون حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔ وہ 2001 میں امریکی افواج کے ساتھ شدید فائرنگ کے دوران اسامہ بن لادن کے ساتھ مشرقی افغانستان کے پہاڑی سرحدی علاقے میں روپوش ہوگئے تھے۔

امریکہ کو کئی دہائیوں سے ان کی تلاش تھی اور ان کے سر پر 2.5 کروڑ ڈالر کا انعام مقرر تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کئی سالوں تک ایک ایسے نیٹ ورک کا سراغ لگاتی رہی، جو الظواہری کی مدد کرتا رہا۔ وہ وقفے وقفے سے اپنے پیروکاروں کے لیے مغرب مخالف ویڈیو پیغام جاری کرتے رہے، تاہم وہ زیادہ تر امریکی انٹیلی جنس کی نظروں سے اوجھل رہنے میں کامیاب رہے۔ 

مگر اگست 2021 میں اس وقت سب بدل گیا، جب امریکہ کے افغانستان سے انخلا نے الظواہری کو بظاہر اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کا موقع دیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق رواں سال کے شروع میں انٹیلی جنس اہلکاروں نے کابل میں رہائش پذیر الظواہری کے اہل خانہ کی شناخت کی۔ تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ الظواہری پہلے ہی اس گھر میں موجود تھے یا بعد میں آئے۔

لیکن حکام نے ’انٹیلی جنس کے متعدد ذرائع‘ استعمال کرتے ہوئے مکان میں موجود ایک معمر شخص کی تصدیق اور شناخت پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی۔

الظواہری کو ڈھونڈ کر قتل کرنا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے ایک آپریشنل ضروریات سے بڑھ کر تھا۔ سی آئی اے کے سات اہلکاروں سمیت نو افراد 2009 میں اس وقت ہلاک ہوگئے تھے، جب الظواہری کے بارے میں معلومات رکھنے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے افغانستان کے شہر خوست میں امریکی اڈے پر جا کر خودکش بم دھماکہ کیا۔

سی آئی کے لیے الظواہری کا پتہ لگانا اور انہیں نشانہ بنایا اسی کا بدلہ تھا۔ 

منصوبہ بندی 

امریکی اخبار کے مطابق قومی سلامتی کے دو اعلیٰ عہدیداروں کو پہلی بار اپریل کے آغاز میں اس انٹیلی جنس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس کے فوراً بعد قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے صدر کو آگاہ کیا کہ ممکنہ طور پر الظواہری کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔ 

مئی اور جون کے دوران حکومت کے چند عہدیداروں نے اس انٹیلی جنس کی جانچ پڑتال کی اور اس بات کی تسلی کر لی کہ مکان میں مقیم معمر شخص کوئی اور نہیں الظواہری ہی تھے۔ 

جولائی کے اوائل تک انٹیلی جنس حکام کو تقریباً یقین ہوگیا کہ انہوں نے گھر میں الظواہری کی ہی شناخت کی ہے اور پھر ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی تاکہ صدر بائیڈن کو آپشن دیے جا سکیں۔ 

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے اخبار کو بتایا کہ الظواہری کو ’کئی بار، مخصوص وقت کے لیے‘ اس مکان کی بالکونی میں دیکھا گیا۔

یکم جولائی کو وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے معاونین نے صدر بائیڈن کو مجوزہ حملے کے بارے میں آگاہ کیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق قومی سلامتی کے اہلکاروں نے الظواہری کے مکان کا ماڈل صدر جو بائیڈن کو دکھایا اور انہیں بتایا کہ بالکونی میں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھنا الظواہری کا معمول ہے۔

عہدیداروں کے مطابق صدر نے اجلاس میں موجود سی آئی اے کے ڈائریکٹر، نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کی ڈائریکٹر سے سوال جواب کیے اور ان سے معلوم کیا کہ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچے کہ وہاں الظواہری ہی ہیں۔

بائیڈن نے حکام پر زور دیا کہ وہ دو سال سے طالبان کی قید میں موجود امریکی شہری مارک فریریکس اور ملک میں موجود ان افغانوں کو ایسے کسی حملے سے لاحق خطرات پر غور کریں، جنہوں نے جنگ میں امریکہ کی مدد کی۔

اجلاس میں امریکی وکلا نے بھی حملے کی قانونی حیثیت پر غور کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الظواہری قانونی طور پر ہدف ہیں۔

25 جولائی کو جب بائیڈن کرونا وائرس کی وجہ سے وائٹ ہاؤس میں قرنطینہ میں تھے تو انہیں ان کی ٹیم نے حتمی بریفنگ دی، جس میں شریک سکیورٹی اہلکاروں نے بائیڈن کو حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ صدر بائیڈن نے موقع ملتے ہی حملے کی منظوری دے دی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حکام نے ہیل فائر میزائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے ’نپے تلے‘ حملے کا نام دیا گیا تاکہ دونوں میزائل عین اس وقت مکان کی صرف بالکونی کو تباہ کریں جب الظواہری وہاں موجود ہوں اور عمارت کے کسی دوسرے حصے میں موجود لوگوں کو بچایا جا سکے۔

ایسا اس لیے بھی کیا گیا کیونکہ اگست 2021 میں امریکی انخلا کے دوران کابل ہوائی اڈے پر داعش کے حملے میں 13 امریکی فوجیوں کی موت کے بعد کابل میں داعش کے ایک مشتبہ کارکن کی گاڑی پر امریکی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد کی موت کے بعد امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

31 جولائی کی صبح چھ بجے کے بعد ایمن الظواہری اکیلے بالکونی میں آئے تو آسمان میں سی آئی اے کے ایک ڈرون نے دو ہیل فائر میزائل داغ دیے، جو ان کی موت کا سبب بنے۔ 

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے انٹیلی جنس کے مختلف ذرائع کا جائزہ لیا، جن میں غالبا فضائی نگرانی بھی شامل تھی اور اس بات کا تعین کیا گیا کہ حملے میں صرف الظواہری ہی مارے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ ان کا خاندان مکان کے اندر محفوظ رہا اور باہر کسی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔

جائے وقوعہ سے چند بلاک دور رہائشیوں اور دکانداروں نے منگل کی صبح دو دن قبل ایک طاقتور دھماکے کی آواز سننے کے بارے میں بتایا۔

اخبار کے مطابق ایک ریٹائرڈ فوجی افسر حق اصغر نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سن کر بچے وہاں سے بھاگ گئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ شیرپور کے محلے پر طالبان کا سختی سے کنٹرول ہے اور کسی بھی مکان یا دکان کے مالک کو تفصیلی دستاویزات اور معلومات فراہم کرنی پڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’وہ یقینی طور پر اجنبیوں کو یہاں آباد نہیں ہونے دیتے۔‘

انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ حملے کے بعد حقانی نیٹ ورک کے ارکان نے تیزی سے الظواہری کی موجودگی چھپانے کی کوشش کی اور وہاں اور آس پاس کے علاقے تک رسائی کو کئی گھنٹوں تک محدود رکھا۔ 

انہوں نے الظواہری کی اہلیہ، ان کی بیٹی اور ان کے بچوں کو دوسرے مقام پر منتقل کر دیا۔

 وہ مکان جہاں کبھی القاعدہ کے سربراہ رہتے تھے اب خالی ہے۔

ڈورن حملہ کہاں سے ہوا؟

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انخلا کے بعد، امریکہ کے پاس خطے میں خفیہ معلومات جمع کرنے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے اڈے کم رہ گئے ہیں۔

اس لیے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ میزائلوں کو لے جانے والا ڈرون کہاں سے اڑا، کس کس ملک کے اوپر سے گزرا اور وہ اس پرواز سے آگاہ تھے یا نہیں۔

پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ القاعدہ کے سربراہ کو مارنے میں پاکستان کا کردار ہو سکتا ہے۔

افغان دارالحکومت میں سی آئی اے کے حملے سے 48 گھنٹے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کی مرکزی کمان کے کمانڈر کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہوئیں۔

معاملے سے واقف ایک سرکاری ذرائع نے پاکستانی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایمن الظواہری کا قتل افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی کردار ادا نہیں کیا گیا۔‘

ذرائع نے افواہوں کو سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا: ’ان (امریکہ) کے پاس خطے میں بہت سے آپشنز ہیں۔ تاہم یہ (ڈرون) پاکستان سے یا اس کی فضائی حدود سے نہیں اڑا۔‘

تاہم پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق انسداد دہشت گردی کے لیے پرعزم ہے۔

امریکہ کی طرف سے افغانستان میں کارروائی کے بعد ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے سرکاری بیانات اور ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کو دیکھا ہے۔ بقول عاصم افتخار: ’پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کردار سے پوری دنیا آگاہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا